سرینگر؍۱۳؍اگست
جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے شوپیاں کے ڈپٹی کمشنر کے خلاف جاری توہینِ عدالت کا نوٹس کالعدم قرار دیتے ہوئے مشاہدہ کیا ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ضابطۂ فوجداری کے تحت اپنے دائرۂ اختیار کی حدود سے تجاوز کیا تھا۔
۱۰جولائی کو شوپیاں کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے ڈپٹی کمشنر شوپیاں شیشیر گپتا کو عدالت میں پیش ہونے اور یہ وضاحت دینے کا حکم دیا تھا کہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کے الزامات عائد کیوں نہ کیے جائیں۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے گپتا کو یہ نوٹس اس بنیاد پر جاری کیا تھا کہ وہ ایک شخص، ادریس شاہ، کی غیر منقولہ جائیداد سے متعلق رپورٹ فراہم کرنے میں تعاون نہیں کر رہے تھے۔ ادریس شاہ کو ان کی علیحدہ رہنے والی اہلیہ نے نان و نفقہ کی ادائیگی کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا تھا۔
توہینِ عدالت کے معاملے کی سماعت کے دوران جسٹس راہل بھارتی نے۷؍ اگست کو کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے قانون سے لاعلمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے ضابطۂ فوجداری کی متعلقہ دفعہ کے تحت آئی اے ایس افسر کے خلاف وصولی کا وارنٹ جاری کیا اور پھر۴ جولائی کو شاہ کے خلاف بھی ایسا ہی وارنٹ جاری کر دیا، حالانکہ ضابطۂ فوجداری۱۹۷۳ میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔
جج نے کہا کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے شوپیاں کے ڈپٹی کمشنر کے خلاف پہلے جاری کیے گئے وصولی کے وارنٹ کو خود ہی بے اثر کردیا۔
جسٹس بھارتی نے کہا، ’’جب یہ عدالت موجودہ مقدمے کے مکمل حقائق اور حالات کا جائزہ لیتی ہے، جو کیس فائل سے سامنے آتے ہیں، تو عدالت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس، شوپیاں نے ضابطۂ فوجداری۱۹۷۳ کے تحت اپنے اختیار کی حدود سے تجاوز کیا، جس کے باعث۱۰ جولائی۲۰۲۶ کو جاری کیا گیا متنازعہ شوکاز نوٹس غیر قانونی قرار پاتا ہے۔ لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔‘‘
عدالت نے جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس، شوپیاں کو ہدایت دی کہ وہ شوپیاں کے کلکٹر کے نام نیا وصولی وارنٹ جاری کریں، تاکہ جموں و کشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ، سمت۱۹۹۶ کی دفعہ۹۱ کے تحت بقایاجاتِ مال گزاری کی وصولی کے طریقۂ کار کے مطابق اس پر عمل درآمد کیا جاسکے۔
جسٹس بھارتی نے کہا کہ اس سلسلے میں مدعا علیہ نمبر۳؍ ادریس شاہ کی شناخت شدہ ملکیتی جائیداد کو ضبط کرکے فروخت کیا جائے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس، شوپیاں کے تصرف میں فراہم کی جائے تاکہ اسے مدعا علیہان نمبر۱؍ اور۲کو ادا کیا جاسکے۔
اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نے شاہ کو اپنی اہلیہ افیرا گلزار اور بیٹی کو نان و نفقہ کے بقایاجات کی مد میں۴لاکھ۳۰ ہزار روپے ادا کرنے کی ہدایت دی تھی۔چونکہ شاہ یہ رقم ادا کرنے میں ناکام رہے تھے، اس لیے مجسٹریٹ نے ان کی جائیداد سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










