نئی دہلی/۸؍اگست
جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے وعدے میں مسلسل تاخیر پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ اس معاملے پر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پائی جانے والی ’’ناراضی اور مایوسی‘‘ صرف مودی حکومت کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے انہیں خود بھی ’’بہت بڑا سیاسی سرمایہ‘‘ کھونا پڑا ہے۔
عبداللہ نے کہا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے میں طویل تاخیر نے جموں و کشمیر میں عوام کو مایوس کیا ہے اور یہ مایوسی صرف مرکزی حکومت تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی اپنی سیاسی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، کیونکہ وہ مسلسل ’’ان گناہوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں جو میرے نہیں ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی درجہ جلد بحال کرانے کی امید میں مرکزی حکومت کے ساتھ تعمیری اور مثبت تعلقات قائم کرنے کی ان کی ابتدائی حکمت عملی نے مقامی عوام کے درمیان ان کے سیاسی سرمائے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
عمر عبداللہ نے صحافی کرن تھاپر کو دی وائر کے لیے دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’میں نے اس معاملے کے لیے اپنی سیاسی ساکھ کا ایک بہت بڑا حصہ داؤ پر لگا دیا۔ میں یہ بات بخوبی جانتا ہوں کہ میں نے اپنی سیاسی ساکھ کا ایک بڑا حصہ کھو دیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’میں ان گناہوں کی قیمت ادا کروں گا جو میرے نہیں ہیں، اور ایک بار پھر یہ بوجھ بھی مجھے ہی اٹھانا ہوگا، کیونکہ اسے اٹھانا میری ذمہ داری ہے۔‘‘
مرکز کی جانب سے ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے ’’مناسب وقت‘‘ کی غیر واضح اصطلاح پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اس عمل کو ایک ایسے ہدف سے تشبیہ دی جو مسلسل آگے سرکایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ میراتھن دوڑ رہے ہوں۔۴۲ کلومیٹر پر دوڑ مکمل ہونے کے بجائے، جب بھی آپ اختتامی لکیر کے قریب پہنچتے ہیں، وہ اسے مزید آگے منتقل کر دیتے ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے مرکز پر زور دیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے واضح پیمانے اور شرائط مقرر کی جائیں تاکہ ان کی حکومت کے سامنے ایک واضح اور قابلِ حصول ہدف موجود ہو۔
عمرعبداللہ نے بعض مقتدر حلقوں میں پیش کیے جانے والے اس مؤقف کو بھی مسترد کر دیا کہ جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کام کرنے والے سکیورٹی نظام پر ان کی منتخب حکومت کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اس دلیل کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ آپ دراصل ایک ایسی حکومت کو سزا دے رہے ہیں جس کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ جموں و کشمیر میںدہشت گردی اس لیے موجود نہیں ہے کہ یہاں ایک منتخب حکومت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں اس وقت جو انسدادِ دہشت گردی کا نظام کام کر رہا ہے، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر ریاستی درجہ بحال نہ کرنے کی وجہ دہشت گردی قرار دی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ’’جب پاکستان دہشت گردی کی سرپرستی بند کرے گا، تب آپ ریاستی درجہ بحال کریں گے‘‘۔انہوںنے کہا کہ اس طرح فیصلہ ’’جموں و کشمیر کے دارالحکومت سے اسلام آباد منتقل‘‘ کیا جا رہا ہے۔
مرکز کے زیر انتظام علاقے کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمرعبداللہ نے اسمبلی کے ساتھ مرکز کے زیر انتظام علاقے کو ’’ایک انتہائی ناقص نظام‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جیسے اہم ادارے اب بھی لیفٹیننٹ گورنر کے اختیار میں ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اسمبلی کے ساتھ مرکز کے زیر انتظام علاقے سے بدتر طرزِ حکومت کوئی نہیں ہو سکتا۔ اگر مرکز کے زیر انتظام علاقے رکھنے ہیں تو ضرور رکھیں، لیکن انہیں اسمبلیاں نہ دیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ان کی کابینہ کو اپنے انتظامی سیکریٹریوں کے انتخاب اور یہاں تک کہ ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری کا اختیار بھی حاصل نہیں ہے۔
آرٹیکل۳۷۰ کے معاملے پر ان کے مؤقف میں نرمی اختیار کرنے کے ناقدین کے الزام کا جواب دیتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ ریاستی درجہ کسی بھی آئینی اختیارات کی تقسیم کے لیے قانونی پیشگی شرط ہے۔انہوں نے کہا، ’’آرٹیکل۳۷۰ بنیادی طور پر مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے درمیان اختیارات کی تقسیم سے متعلق تھا۔ جب آپ ریاست ہی نہیں ہیں تو ریاستی فہرست کیسے ہو سکتی ہے؟ آرٹیکل۳۷۰ کی بحالی سے پہلے ریاستی درجہ بحال ہونا ضروری ہے۔‘‘
مودی حکومت کے وعدے کا ذکر کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے خود خطے کے دوروں کے دوران ریاستی درجہ بحال کرنے کے عزم کی حمایت کی تھی اور اسے محض ایک معمول کا سیاسی وعدہ قرار دینے کے بجائے ’’مودی کا وعدہ‘‘ قرار دیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’وزیر اعظم نے اپنی ذاتی ساکھ اس وعدے سے وابستہ کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا کوئی معمول کا وعدہ نہیں بلکہ ’مودی کا وعدہ‘ ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اس وعدے کو ایک اعلیٰ معیار پر رکھتے ہیں، جس سے اسے مزید اہمیت حاصل ہوتی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ مسلسل تاخیر سے مرکزی حکومت کی جواب دہی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مرکز کی یقین دہانیوں پر اعتماد کرنے اور تعمیری تعلقات قائم کرنے کی کوشش کے نتیجے میں اپنے سیاسی سرمائے کو ’’بہت بڑے پیمانے پر‘‘ نقصان پہنچنے کا اعتراف کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مایوسی کا احساس واضح طور پر موجود ہے۔انہوں نے مودی حکومت پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ، عدلیہ اور خطے کے عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرے۔
عمرعبداللہ نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت سیاسی مذاکرات، سڑکوں پر احتجاج اور قومی دارالحکومت میں مظاہروں کے ذریعے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ مسلسل اٹھاتی رہے گی۔
۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










