سرینگر/۸؍اگست
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے پُرامن احتجاج کرنے والے لوگوں کے خلاف کارروائیوں پر جواب دہی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں گزشتہ کئی ماہ سے۱۲ متنازع مہاجر نشستوں کے معاملے پر احتجاج جاری ہے، جس کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے کریک ڈاؤن کیا گیا۔ خطے میں اسمبلی کے انتخابات گزشتہ ماہ کے اواخر میں شروع ہونے کے ساتھ ہی احتجاج میں شدت آگئی۔ ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
کارکنوں کی مختلف تنظیموں کے اتحاد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق،۲۷ جولائی کو انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران۴۰ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ کمیٹی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جون کے پہلے ہفتے سے اب تک تقریباً۴۰۰ مظاہرین مارے جا چکے ہیں۔ تاہم پاکستان حکومت نے دونوں دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
جے اے اے سی نے الزام عائد کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ۱۲ مہاجر نشستوں کو اپنی مرضی کے وزیر اعظم کو منتخب کرانے اور پی او کے میں اپنی پسند کی حکومت قائم کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
بھارت کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے مکمل مرکز کے زیر انتظام علاقے اس کے اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصے ہیں۔ نئی دہلی یہ بھی کہتا ہے کہ پاکستان ان علاقوں کے کچھ حصوں پر ’’غیر قانونی اور جبری قبضہ‘‘ کیے ہوئے ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے پی ٹی آئی کے ایک سوال کے جواب میں کہا، ’’سیکریٹری جنرل اپنے ہائی کمشنر کے کام کی حمایت کرتے ہیں اور ہمیں یقیناً امید ہے کہ مسٹر ترک کی جانب سے کی گئی اپیلوں پر توجہ دی جائے گی۔‘‘
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے۱۷ جولائی کو پی او کے میں حالیہ پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین کی ہلاکتوں کی غیر جانب دارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے جے اے اے سی پر پابندی عائد کیے جانے اور اس کے رہنماؤں کی گرفتاری پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔
جنیوا سے گزشتہ ماہ جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق، ترک نے ماہ کے آخر میں ہونے والے علاقائی انتخابات سے قبل پی او کے میں پیدا ہونے والی بے چینی کے درمیان تمام فریقوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی تھی۔
جمعہ کو فرحان حق سے پوچھا گیا کہ کیا اقوام متحدہ پی او کے میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر حکام سے جواب دہی کا مطالبہ کرے گا۔ اس پر انہوں نے کہا، ’’یہ اہم ہے کہ ہر جگہ تمام حکام پُرامن احتجاج کی اجازت دیں، اور یقیناً یہاں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اگر پُرامن احتجاج میں حصہ لینے کی وجہ سے لوگوں کو نقصان پہنچا ہے تو اس کے لیے جواب دہی ضروری ہے۔‘‘
وولکر ترک نے اپنے بیان میں خاص طور پر کہا تھا کہ۲۷ جولائی سے شروع ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل جون سے اب تک درجنوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر مظاہرین تھے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی شامل تھے۔
ہائی کمشنر نے بدامنی کے دوران ہونے والی تمام ہلاکتوں، خواہ وہ مظاہرین کی ہوں یا سکیورٹی فورسز کے ارکان کی، کی فوری، مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
جے اے اے سی، جو تاجروں، ٹرانسپورٹروں، طلبہ، وکلا، کارکنوں اور دیگر طبقات پر مشتمل احتجاجی تحریک ہے، پر انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکام کا الزام ہے کہ تنظیم امن عامہ اور سکیورٹی کے لیے خطرہ بن رہی تھی۔
پی او کے کی نام نہاد قانون ساز اسمبلی میں مجموعی طور پر۵۳ نشستیں ہیں۔ ان میں سے۴۵ نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوتے ہیں، جبکہ آٹھ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور مذہبی شخصیات کے لیے مخصوص ہیں۔۴۵ نشستوں کے لیے انتخابات تین مرحلوں میں کرائے جا رہے ہیں۔ پہلا مرحلہ۲۷ جولائی کو جبکہ دوسرا مرحلہ۲؍ اگست کو ہوا، اور دونوں مراحل پُرتشدد احتجاج سے متاثر ہوئے۔
شہباز شریف حکومت نے جون کے پہلے ہفتے سے۴۰۰ سے زائد ہلاکتوں کے جے اے اے سی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تعداد ’’بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی‘‘ ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے حال ہی میں ایک ٹی وی بیان میں کہا، ’’احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو ہندسوں میں ہے۔ اس کے علاوہ سکیورٹی اہلکاروں نے بھی اپنی جانیں گنوائی ہیں۔‘‘
بھارت نے۴؍اگست کو پی او کے میں ہونے والے نام نہاد بلدیاتی انتخابات کو ’’مکمل ڈھونگ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ’’کھوکھلی‘‘ مشقیں خطے کی زمینی حقیقت کو چھپا نہیں سکتیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے نئی دہلی میں پاکستان کی جانب سے پی او کے میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو انسانی حقوق سے متعلق اسلام آباد کے ’’منافقانہ وعظ‘‘ کی ’’کمزور ملمع کاری‘‘ کو سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’پی او کے میں یہ نام نہاد مقامی انتخابات مکمل ڈھونگ ہیں۔ اصل صورتحال عوامی احتجاج اور پاکستانی فورسز کی جانب سے بے دریغ ہلاکتیں ہیں۔ ایسی کھوکھلی مشقیں حقیقت کو چھپا نہیں سکتیں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










