سرینگر؍ ۶ ؍اگست
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی کو دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی کے خلاف دو روز قبل ہونے والے احتجاج کے دوران ایک پولیس افسر پر مبینہ حملے کے سلسلے میں تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے پولیس نے طلب کیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، التجا مفتی پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈیوٹی انجام دے رہے ایک پولیس افسر پر جسمانی حملہ کیا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے مذکورہ افسر کو پکڑ کر اس کے بازو پر کاٹا، جس کے نتیجے میں اسے خون بہنے والا زخم آیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ ۴ ؍اگست کی شب پیش آیا، جب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی کی ساتویں برسی کے موقع پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے پارٹی دفتر کے باہر دھرنا دیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران مظاہرین کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریذیڈنسی روڈ کو بند کرنے اور لال چوک کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق امن برقرار رکھنے کی اپیلوں کے باوجود مظاہرین آگے بڑھتے رہے۔
ادھر، محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے الزام لگایا تھا کہ احتجاج کے دوران پولیس نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی، جس کے بعد انہیں سری نگر کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ انہوں نے میڈیا کو اپنے بازوؤں پر آئے زخم بھی دکھائے تھے۔ علاج کے بعد انہیں بدھ کی دیر شام اسپتال سے رخصت کر دیا گیا۔
پولیس نے کہا ہے کہ جاری تحقیقات کے سلسلے میں التجا مفتی کو قانون کے مطابق کل کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن میں پیش ہو کر تفتیش میں شامل ہونے کے لیے سمن جاری کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










