ایل جی نے دہشت گردی کے متاثرہ۳۷ خاندانوں میں تقرری نامے تقسیم کئے
سرینگر؍۵؍اگست
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز کہا کہ ان کی انتظامیہ دہشت گردی کے پورے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے، اس کے مرتکبین اور معاونین کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور جموں و کشمیر کے ہر شہری کو امن، مساوات اور امید بھری زندگی فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔
سنہا دہشت گردوں کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے شہریوں کے۳۷ قریبی لواحقین میں تقرری نامے تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ہم دہشت گردی کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنے، اس کے مرتکبین اور معاونین کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور جموں و کشمیر کے ہر شہری کو امن، مساوات اور امید سے بھرپور زندگی فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں۲۰۱۹ میں امتیازی سلوک کے سائے ختم ہوئے اور سماجی انصاف اور ہمہ گیر ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ آج جموں و کشمیر نئے اعتماد کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ہمہ جہت ترقی امن اور خوشحالی کو فروغ دے رہی ہے۔
سنہا نے کہا’’امتیاز اور دہشت گردی کو فروغ دینے والے نظام کا خاتمہ کر کے وزیر اعظم مودی نے واضح کر دیا کہ جموں و کشمیر میں خوشحالی کے چراغ صرف چند محلوں میں نہیں بلکہ غریبوں کی جھونپڑیوں میں بھی روشن ہوں گے‘‘۔
شہید ولی محمد وانی کے خاندان کا حوالہ دیتے ہوئے سنہا نے کہا کہ۳۳ برس بعد شوپیاں میں ان کے گھر میں دوبارہ خوشی کا چراغ روشن ہوا ہے۔ ولی محمد وانی کو۱۶ جولائی۱۹۹۳ کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔انہوں نے کہا’’آج صرف ان کا خاندان ہی نہیں بلکہ پورا شوپیاں خود کو قومی دھارے سے جڑا ہوا محسوس کر رہا ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آج تقرری نامے حاصل کرنے والے دہشت گردی کے متاثرہ خاندان‘۵؍ اگست۲۰۱۹ کے بعد وجود میں آنے والے نئے نظام کے بے شمار مستفیدین میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا’’ان کے مقدمات، جو کئی دہائیوں سے زیر التوا تھے، بالآخر نمٹا دیے گئے ہیں۔ یہ ان کے نقصان کا معاوضہ نہیں کیونکہ نہ کوئی رقم، نہ ملازمت اور نہ ہی کوئی کاغذ کسی عزیز کی کمی پوری کر سکتا ہے، بلکہ یہ اس بات کی یقین دہانی ہے کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم ان کی زندگیوں کی بحالی اور وقار کی واپسی کے لیے پُرعزم ہیں‘‘۔
سنہا نے کہا کہ آرٹیکل۳۷۰؍اور۳۵؍اے کے باعث دہشت گردی کا پورا نظام بے خوفی کے ساتھ کام کرتا رہا، جس کا مقصد معاشرے کو تقسیم کرنا، خوف پھیلانا اور عوام کی امیدوں اور خوابوں کو کچلنا تھا۔
ایل جی نے کہا’’آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کے بعد پڑوسی ملک اور وادی میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورک کی سازشیں ناکام بنا دی گئیں۔ جموں و کشمیر کے عوام نے تشدد کے بجائے امن، انتہاپسندی کے بجائے تعلیم، انحصار کے بجائے روزگار اور مایوسی کے بجائے وقار کا راستہ اختیار کیا ہے۔ نوجوان نسل خوف سے آزاد مستقبل کی مستحق ہے اور وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہم مل کر ایسا ہی مستقبل تعمیر کر رہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے مواقع کی فراہمی ضروری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق’’جو معاشرہ اپنے اداروں پر اعتماد کرتا ہے وہ خوف کے خلاف زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ جس خاندان کو بلا امتیاز سرکاری سہولتیں ملتی ہیں وہ امن اور ترقی کا حصہ دار بنتا ہے، جبکہ تعلیم اور روزگار سے بااختیار نوجوان علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی کے متاثرین کو انصاف فراہم کرنا قومی ذمہ داری ہے اور اس سمت میں پوری سنجیدگی اور تیزی سے کام جاری ہے‘‘۔
سنہانے کہا کہ اب کسی شکایت کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی متاثرہ خاندان کو تنہا چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف میں تاخیر نے بہت تکلیف دی ہے، لیکن اب دہشت گردی کے متاثرہ خاندانوں کو بروقت، انسانی بنیادوں پر اور مؤثر انداز میں انصاف فراہم کیا جا رہا ہے۔
ایل جی نے کہا کہ آج کا دن امن دشمن عناصر کے لیے واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی ایک پُرعزم قوم کو شکست نہیں دے سکتی۔انہوں نے کہا’’سرحد پار بیٹھے دہشت گردی کے سرپرست چاہے اندھیرے میں کتنی ہی سازشیں کریں، انصاف کی روشنی انہیں ڈھونڈ نکالے گی۔ جموں و کشمیر کا مستقبل یہاں کے نوجوان، مزدور، کسان، اساتذہ، خواتین اور امن و ترقی پر یقین رکھنے والے تمام لوگ تحریر کریں گے‘‘۔
سنہا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس دن کو ایک ایسے تاریخی موڑ کے طور پر یاد رکھیں جب عام آدمی کے زخموں کو تسلیم کیا گیا، اس کی تکالیف کا فوری ازالہ کیا گیا، سب کو مساوی حقوق دیے گئے، امتیازی قوانین ختم کیے گئے اور جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کے لیے قوم نے اپنے عزم کا ازسرِ نو اظہار کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ۵؍ اگست۲۰۱۹ کے بعد دہشت گردی کے پورے ڈھانچے کو بڑی حد تک تباہ کیا گیا، امن و قانون کی صورتحال مضبوط ہوئی، سب کو مساوی حقوق ملے اور خاندانوں کو اعتماد کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔انہوں نے کہا’’آج جموں و کشمیر میں جو تبدیلی نظر آ رہی ہے وہ۵؍ اگست۲۰۱۹ کے تاریخی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ اس دن ایک آئینی اصلاح عمل میں آئی اور مرکزی زیر انتظام علاقے کے لیے ایک نئی شروعات ہوئی‘‘۔
سنہا نے کہا کہ امتیازی رکاوٹیں ختم کر دی گئیں اور ان لوگوں کو مساوی حقوق دیے گئے جو امتیازی قوانین کی وجہ سے متاثر تھے۔ان کے مطابق’’ایک ملک، ایک پرچم، ایک آئین‘کے اصول پر مکمل عمل درآمد کیا گیا اور ہر بھارتی شہری کے لیے وقار، انصاف اور مساوی مواقع کے یکساں معیار کو یقینی بنایا گیا‘‘۔
تقرری ناموں کی تقسیم کا حوالہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس تاریخی دن دہشت گردی کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہونا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔انہوں نے کہا’’یہ صرف تقرری ناموں کی تقسیم نہیں بلکہ شہداء کی یاد، متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور قومی عزم کی تجدید کی علامت ہے‘‘۔
مفاد پرست عناصر کو سخت انتباہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدنیتی کے ساتھ نظام پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرنے والوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ امن و امان میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے والے ہر فرد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔ویب ڈیسک










