جمعرات, اگست 6, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

’دفعہ ۳۷۰کی منسوخی کے زخم اب تک مندمل نہیں ہوئے ہیں‘

وزیر اعلیٰ کا پونچھ اور راجوری میں بادل پھٹنے سے متاثرہ علاقوں کے لیے بازآبادکاری اور خصوصی امدادی اقدامات کا اشارہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-06
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری, مقامی خبریں
A A
سری نگر ہوائی اڈے پر پیر اور منگل کی رن وے بندش کا فیصلہ واپس
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

وزیر اعلیٰ کا پونچھ اور راجوری میں بادل پھٹنے سے متاثرہ علاقوں کے لیے بازآبادکاری اور خصوصی امدادی اقدامات کا اشارہ

سرینگر؍۵؍اگست

                جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی سے لگنے والے ’زخم‘ سات برس گزرنے کے باوجود ابھی تک مندمل نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ہونے والی ’ناانصافیوں‘ کا ازالہ کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

                پونچھ میں بادل پھٹنے سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کے لیے حکومت کے امدادی، بازآبادکاری اور تعمیرِ نو کے منصوبوں کا بھی خاکہ پیش کیا اور کہا کہ اب انتظامیہ کی اولین ترجیح متاثرین کی امداد، تباہ شدہ گھروں کی تعمیر نو اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی ہوگی۔

متعلقہ

’۳۷۰ کی منسوخی ایک فیصلہ نیا باب تھا‘

جموں کشمیر سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کریں گے

                 عمر عبداللہ نے کہا’’آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کے زخم آج بھی موجود ہیں۔ ہمارے زخم ابھی تک مندمل نہیں ہوئے۔ ہمیں امید تھی کہ کم از کم ان زخموں پر مرہم رکھا جائے گا اور ریاستی درجے کی بحالی کا جو وعدہ کیا گیا تھا، وہ پورا کیا جائے گا‘‘۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا’’آج، جیسا کہ آپ نے خود کہا، ساتواں سال ہے۔ سب کچھ۵؍ اگست۲۰۱۹ کو ہوا تھا۔ آج۵؍اگست۲۰۲۶ہے۔ سات سال گزر گئے، لیکن ہم سے کیا گیا وعدہ آج بھی پورا نہیں ہوا۔ باقی معاملات اپنی جگہ ہیں‘‘۔

                جموں و کشمیر اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا’’جیسا کہ ہم نے اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے وقت کہا تھا، ہم آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ ہمارے ساتھ جو ناانصافیاں ہوئی ہیں، ان کا ازالہ کیا جائے گا‘‘۔

                وزیر اعلیٰ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب وہ حالیہ بادل پھٹنے سے متاثرہ پونچھ اور راجوری اضلاع کے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے تھے، جہاں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا، مکانات تباہ ہوئے اور سرکاری بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی فوری ترجیح ریسکیو آپریشن تھی۔

                عمرعبداللہ نے کہا’’ہماری فوری کوشش لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن تھا۔ اس کے بعد ہم نے لاشوں کی بازیابی پر توجہ دی۔ اب مرحلہ بازآبادکاری اور تعمیر نو کا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ مکمل طور پر تباہ شدہ مکانات کے مالکان کو دوبارہ کیسے آباد کیا جائے اور جن گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے، ان کے مکینوں کی کس طرح مدد کی جائے۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جن لوگوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں، انہیں دوبارہ کیسے آباد کیا جائے، اور جن کے گھر کھڑے تو ہیں لیکن انہیں شدید نقصان پہنچا ہے، ان کی کس طرح مدد کی جائے‘‘۔

                عمر عبداللہ نے کہا کہ سڑکیں، اسکول، اسپتال اور سیلاب سے بچاؤ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا’’سرکاری بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ ہم پونچھ میں متعلقہ افسران سے ملاقات کریں گے اور لوگوں کو اس مشکل وقت سے نکالنے کے لیے جو کچھ ممکن ہوا، کریں گے‘‘۔

                شدید متاثرہ علاقوں میں مفت راشن فراہم کرنے کے امکان سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر ضلعی انتظامیہ ایسی سفارش کرے تو حکومت اس کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا’’اگر ضلعی انتظامیہ یہ تجویز پیش کرتی ہے کہ جن علاقوں میں سب سے زیادہ نقصان اور فصلوں کی تباہی ہوئی ہے وہاں مفت راشن فراہم کیا جائے، تو ہم اس کے لیے پوری طرح تیار ہیں‘‘۔

                ۲۰۱۴ کے سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا’’ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے۲۰۱۴کے سیلاب کے دوران پورے جموں و کشمیر میں چھ ماہ تک مفت راشن فراہم کیا تھا، حالانکہ کئی علاقے سیلاب سے متاثر بھی نہیں ہوئے تھے‘‘۔

                خصوصی امدادی پیکیج کے مطالبے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت پہلے پونچھ اور راجوری دونوں اضلاع میں نقصانات کا مکمل تخمینہ لگائے گی، اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا’’میرا دورہ ابھی شروع ہوا ہے۔ نقصان صرف پونچھ تک محدود نہیں بلکہ راجوری بھی متاثر ہوا ہے۔ میں یہاں کھڑے ہو کر صرف پونچھ کے لیے کسی خصوصی پیکیج کا اعلان نہیں کر سکتا۔ آج میں پونچھ جا رہا ہوں، کل راجوری کا دورہ کروں گا۔ اس کے بعد سرینگر میں بیٹھ کر فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔ اگر خصوصی پیکیج کی ضرورت ہوئی تو ضرور فراہم کیا جائے گا‘‘۔تاہم انہوں نے فوری طور پر کسی پیکیج کے اعلان سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے ایک باقاعدہ سرکاری طریقۂ کار موجود ہے۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا’’امدادی پیکیج میڈیا کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان نہیں کیے جاتے۔ اس کا ایک باقاعدہ طریقۂ کار ہے۔ پہلے تمام تیاریاں مکمل ہونے دیں، اس کے بعد جو کچھ کرنا ہوگا، کیا جائے گا‘‘۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کی رقم تیار ہے اور جیسے ہی بینک کھاتوں کی تفصیلات اور دیگر رسمی کارروائیاں مکمل ہوں گی، امدادی رقم جاری کر دی جائے گی۔

                عمرعبداللہ نے کہا’’رقم تیار ہے۔ جیسے ہی ہمیں متاثرین کے بینک کھاتوں کی تفصیلات موصول ہوں گی اور باقی کارروائیاں مکمل ہوں گی، امدادی رقم جاری کر دی جائے گی‘‘۔

                سابق وزیر اعلیٰ کی جانب سے مبینہ طور پر قومی پرچم کے استعمال سے متعلق ایک واقعے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ دانستہ نہیں بلکہ ایک غیر ارادی غلطی تھی۔انہوں نے کہا’’اس سوال کا جواب آپ کو انہی سے پوچھنا چاہیے۔ جہاں تک میری سمجھ ہے، یہ غالباً ایک غلطی تھی۔ میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ کوئی شخص جو کسی ریاست کا وزیر اعلیٰ رہ چکا ہو، جان بوجھ کر قومی پرچم کو الٹا لہرائے گا۔ اگر یہ غلطی سے ہوا ہے تو اسے غلطی ہی سمجھنا چاہیے۔ میرے خیال میں یہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا تھا۔‘‘

ویب ڈیسک

۔۔۔۔۔۔۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

جموں میں کانگریس پارٹی اور نیشنل کانفرنس کے احتجاجی مظاہرے  

Next Post

جموں کشمیر سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کریں گے

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی شہادت کو سب سے بہترین خراجِ عقیدت‘
اہم ترین

’۳۷۰ کی منسوخی ایک فیصلہ نیا باب تھا‘

2026-08-06
’جموںکشمیر کو منشیات سے پاک کرنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا‘
اہم ترین

جموں کشمیر سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کریں گے

2026-08-06
سنتور ہوٹل ملازموں کا سرینگر میں احتجاج
اہم ترین

جموں میں کانگریس پارٹی اور نیشنل کانفرنس کے احتجاجی مظاہرے  

2026-08-06
مصنوعی ذہانت سے بھارت کو کم خطرات، ترقی کے غیر معمولی مواقع زیادہ:ورلڈ بینک   
اہم ترین

مصنوعی ذہانت سے بھارت کو کم خطرات، ترقی کے غیر معمولی مواقع زیادہ:ورلڈ بینک  

2026-08-06
جموں و کشمیر کی ترقی کیلئےاسٹارٹ اپ کلچر پر توجہ ضروری:ایل جی سنہا
اہم ترین

۳۷۰ کی منسوخی سے امتیازی نظام کا خاتمہ ہوا‘ کوئی احتجاج نہیں دیکھا:سنہا

2026-08-06
مغربی بنگال اورآسام اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی شاندار فتح
اہم ترین

۳۷۰ کی منسوخی سے امن، ترقی اور  مساوات کے نئے دور کا آغاز ہوا: بی جے پی

2026-08-06
سرینگر شہر میں مشترکہ سکیورٹی مشق
اہم ترین

منسوخی کے ۷ سال ‘سرینگر  میں سخت حفاظتی انتظامات

2026-08-06
جموں و کشمیر میں بڑا ردوبدل‘۸۲پولیس افسران تبدیل
اہم ترین

سانبہ میں بین الریاستی منشیات  اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب

2026-08-06
Next Post
’جموںکشمیر کو منشیات سے پاک کرنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا‘

جموں کشمیر سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کریں گے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.