ایسا لگتا ہے کہ معاملہ کچھ زیادہ ہی سنگین اور پیچیدہ بن گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمارے گورے گورے بانکے چھورے وزیرِ اعلیٰ، عمر عبداللہ، جو مانسون اجلاس کے آغاز ہی میں اپنی کابینہ میں توسیع کرنے والے تھے، اب تک کر چکے ہوتے۔ اجی جناب! ہم کون ہوتے ہیں تاریخ ڈکٹیٹ کرنے والے؟ ہم تو ڈکٹیٹر نہیں ہیں……. یہ تو خود جناب نے کہا تھا، یا کم از کم ایسا تاثر دیا تھا، کہ دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کے لیے ہونے والے احتجاج کے آس پاس کابینہ میں توسیع کی جائے گی…….ہم نے اس وقت بھی کہا تھا اور آج پھر کہہ رہے ہیں کہ یہ تو سراسر آ بیل مجھے مار والی بات ہے……. نہ جانے ہمارے وزیرِ اعلیٰ کو کیا شوق چرایا ہے کہ خود ہی بیل کو دعوت دے رہے ہیں کہ آؤ اور مجھے مارو۔ حکومت کا کاروبار، چاہے لنگڑا لولا ہی سہی، مگر چل تو رہا ہے۔ لوگوں نے بھی اب اس حکومت سے اپنی ساری امیدیں تقریباً چھوڑ دی ہیں اور خود کو اس بات پر آمادہ کر لیا ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی تک ایسے ہی گزارا کرنا ہوگا۔اس لیے وزیرِ اعلیٰ پر عوام کی طرف سے تو کم از کم کوئی دباؤ نہیں ہے، بالکل بھی نہیں……. لیکن کل کو اگر کابینہ میں توسیع کے بعد کچھ اُلٹا سیدھا ہو گیا تو خدارا اس بیچاری عوام کو ذمہ دار نہ ٹھہرائیے گا، بالکل بھی نہ ٹھہرائیے گا۔اللہ میاں کی قسم! ہم تو اب بھی یہی کہہ رہے ہیں، بلکہ سمجھا رہے ہیں۔ ہم کر بھی کیا سکتے ہیں، سمجھانے کے سوا؟ ہم اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیرِ اعلیٰ کو یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ فی الحال کابینہ میں توسیع کا خیال دل سے نکال دیں۔ اس لیے کہ اس ایک بات نے ان کے ممبرانِ اسمبلی کے دلوں میں نہ جانے کیسے کیسے خیال آ رہے ہوں اور ……. اور خیالوں ہی خیالوں میں نہ جانے کتنے خیالی پلاؤ بھی پک چکے ہوں گے۔
اس میں کوئی بری بات نہیں، لیکن مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ایک انار اور سو بیمار۔ اور یہاں تو وزیرِ اعلیٰ کے تقریباً سبھی ممبرانِ اسمبلی بیمار ہیں، وہ بھی ہول سیل میں بیمار، اور ہر ایک کو وہی ایک انار چاہیے۔ مگر انار ہے کہ صرف ایک۔وزیرِ اعلیٰ صاحب! جس طاقت پر آج آپ اِترا رہے ہیں، اگر کابینہ کی توسیع کے دوران وہ ذرا سی بھی اِدھر اُدھر ہو گئی تو، اللہ میاں کی قسم، یہی طاقت آپ کی سب سے بڑی کمزوری بن سکتی ہے۔ آپ اتنے کمزور ہو سکتے ہیں کہ آپ گر سکتے ہیں……. منہ کے بل بھی گر سکتے ہیں۔اس لیے جو جیسے چل رہا ہے، اسے ویسے ہی چلنے دیجیے، اور آپ بھی چلتے رہیے۔ہے نا؟




