اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے کے درمیان بل پاس‘۱۰سال قید اور۵۰ لاکھ روپے جرمانے کی سخت سزا کی تجویز
جتیندر سنگھ نے راہل گاندھی کے الزامات مسترد کر دئے‘حقائق اور ذمہ داری کے احساس کے بغیر ایوان میں کچھ بھی کہنے کا الزام
(ایجنسیاں)
نئی دہلی؍۲۹ جولائی
لوک سبھا نے بدھ کے روز اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے اور نعرہ بازی کے درمیان پبلک ایگزامینیشن (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل‘۲۰۲۶ منظور کر لیا، جس میں امتحانی پرچوں کے افشا (پیپر لیک) کے جرائم کے لیے سزا کو مزید سخت بناتے ہوئے۱۰ سال تک قید اور۵۰ لاکھ روپے جرمانہ مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ ترمیمی بل مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے۲۷ جولائی کو لوک سبھا میں پیش کیا تھا۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا جب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے بڑے طلبہ احتجاج کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
ایوان میں بحث کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نے نیٹ(این ای ای ٹی) پیپر لیک معاملے میں فوری کارروائی کی اور۲۰۲۴ میں اینٹی پیپر لیک قانون نافذ ہونے کے بعد اب تک۵۲ ؍ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں۔
مرکزی نے کہا کہ ترمیمی بل اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اپنے تجربات سے سیکھنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں پیپر لیک کے واقعات سے متعلق خودکشیوں کی شرح میں بھی کمی آئی ہے۔
جتیندر سنگھ نے لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں پارلیمانی روایات اور حکومتی نظامِ کار کا خاطر خواہ علم نہیں ہے۔
بل کی منظوری کے فوراً بعد لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
اس سے قبل بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے وزیر اعظم کے دفتر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ نیٹ تنازعے کے خلاف قومی دارالحکومت میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ انہوں نے راہل گاندھی کے اس الزام کو مسترد کیا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ پر فائرنگ کا حکم دیا تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ فائرنگ کا حکم دینے کا اختیار کسی وزیر کے پاس نہیں بلکہ مجسٹریٹ کے پاس ہوتا ہے، اور راہل گاندھی نے عوامی زندگی کے کم تجربے کی وجہ سے ایسے بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں۔
مرکزی وزیرنے کہا کہ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ وزیر داخلہ نے دہلی میں مظاہرین پر فائرنگ کا حکم دیا، مگر وہ اپنے الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔
انہوں نے کہا’’سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ جب گولی چلی ہی نہیں تو حکم دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایسے احکامات جاری کرنے کا اختیار مجسٹریٹ کے پاس ہوتا ہے، کسی وزیر کے پاس نہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا ’’کوئی گولی نہیں چلائی گئی، صرف آنسو گیس کا استعمال کیا گیا‘‘۔ اور اس حوالے سے وزیر داخلہ امت شاہ کا بھرپور دفاع کیا۔
راہل گاندھی کے اس دعوے پر کہ امت شاہ کے قافلے میں۳۰ گاڑیاں شامل ہوتی ہیں، جتیندر سنگھ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ قائدِ حزب اختلاف کو گنتی تک نہیں آتی۔اسی طرح امت شاہ کے مبینہ غیر ملکی دورے سے متعلق راہل گاندھی کے بیان کو بھی انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کبھی کسی غیر ملکی دورے پر نہیں گئے۔
انہوں نے کہا ’’حقائق اور ذمہ داری کے احساس کے بغیر ایوان میں کچھ بھی کہہ دینا اور پھر ایوان سے چلے جانا، قائدِ حزب اختلاف کے شایانِ شان رویہ نہیں ہو سکتا‘‘۔
اس سے قبل راہل گاندھی نے بل پر بحث کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کی سخت کارروائی کی منظوری دی تھی، جس پر لوک سبھا میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔
راہل گاندھی نے کہا’’وزیر داخلہ آج ایوان میں موجود نہیں کیونکہ وہ خوفزدہ ہیں‘‘۔ اس بیان پر حکمراں جماعت کے ارکان نے سخت اعتراض کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ۲۰ جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف پارلیمنٹ مارچ کے دوران سیکورٹی فورسز کی کارروائی وزیر داخلہ کی منظوری سے کی گئی تھی۔
اس موقع پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ بحث کا موضوع وزیر داخلہ نہیں ہے۔بعد ازاں پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے راہل گاندھی کے بیانات پر اعتراض کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الزامات کی بنیاد واضح کریں یا پھر ایوان سے معافی مانگیں۔ (ایجنسیاں)










