’کتنی بار سمجھائیں کہ جموں کشمیر، لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ ‘
(ایجنسیاں)
نئی دہلی؍۲۹ جولائی
جموں و کشمیر مرکز کے زیرِ انتظام علاقے سے متعلق بار بار پھیلائی جانے والی غلط معلومات کا منفرد انداز میں جواب دیتے ہوئے وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) کے فیکٹ چیک ونگ نے بدھ کے روز امریکی ٹی وی شو ’ساؤتھ پارک‘ کے ایک وائرل کردار پر مبنی میم شیئر کیا، جس پر درج تھا’’آخر مجھے یہ بات آپ کو کتنی بار سمجھانی پڑے گی؟‘‘
وزارتِ خارجہ کے فیکٹ چیک نے ایک بار پھر بھارت کے دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے پورے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے بھارت کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے ہیں۔
انسٹاگرام پر جاری کی گئی پوسٹ میں کہا گیا’’جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے بارے میں بار بار پھیلائے جانے والے جھوٹ کے حوالے سے @meaindia کا ردِعمل کچھ اس طرح ہے…‘‘
پوسٹ میں امریکی شو ساؤتھ پارک کے کردار پر مبنی میم کا استعمال کرتے ہوئے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ مسلسل غلط معلومات پھیلائے جانے سے کس نوعیت کی مایوسی پیدا ہوتی ہے۔
بعد ازاں پوسٹ میں کہا گیا’’جموں و کشمیر اور لداخ کے پورے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے، بشمول وہ علاقے جو اس وقت پاکستان کے غیر قانونی اور جبری قبضے میں ہیں، بھارت کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے ہیں‘‘۔
پوسٹ میں مزید کہا گیا’’موجودہ نمائشی انتخابی مشق محض پاکستان کی جانب سے اپنے غیر قانونی قبضے پر پردہ ڈالنے اور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو چھپانے کی ایک کوشش ہے‘‘۔
پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) میں جاری بے چینی کا حوالہ دیتے ہوئے پوسٹ میں کہا گیا’’جیسا کہ ہم حال ہی میں واضح کر چکے ہیں، پی او جے کے میں جاری عوامی احتجاج دراصل اسلام آباد کی کئی دہائیوں پر محیط منظم معاشی استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر کا براہِ راست نتیجہ ہے‘‘۔
وزارتِ خارجہ کے فیکٹ چیک نے یہی پیغام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بھی شیئر کیا، جہاں ایک صارف کی جانب سے کیے گئے دعووں کا جواب دیتے ہوئے بھارت کے مؤقف کو دہرایا گیا۔
متعلقہ اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا تھا’’جموں، کشمیر اور لداخ بھارت کے ’اٹوٹ حصے‘ نہیں ہیں بلکہ پورا خطہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازع علاقہ ہے۔ آزاد جموں و کشمیر نیم خودمختار حیثیت رکھتا ہے، اس کی اپنی منتخب حکومت ہے اور وہاں حقیقی انتخابات ہوتے ہیں، برخلاف اس کے کہ بھارت نے۲۰۱۹ میں آرٹیکل۳۷۰ منسوخ کرکے پہلے سے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کا غیر قانونی الحاق کیا۔ آزاد کشمیر کے انتخابات کو ’نمائشی‘ قرار دینا جبکہ کشمیریوں کو حقِ خودارادیت سے محروم رکھنا کھلی منافقت ہے۔ جبری قبضہ دراصل لائن آف کنٹرول کے بھارتی جانب ہے‘‘۔
وزارتِ خارجہ کے فیکٹ چیک نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ’’جموں و کشمیر اور لداخ کے پورے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے، بشمول پاکستان کے غیر قانونی اور جبری قبضے میں موجود علاقے، بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں‘‘۔اس کے ساتھ ہی پاکستان کی جانب سے خطے میں جاری انتخابی عمل کو ایک مرتبہ پھر’نمائشی انتخابی مشق‘ قرار دیا گیا۔
یہ ردِعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے راولاکوٹ اور میرپور علاقوں میں بنیادی حقوق کے مطالبات پر ہونے والے احتجاج کے دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے کئی افراد ہلاک ہو گئے۔
یہ مظاہرے پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کو انسانی حقوق سے محروم رکھنے کے خلاف منعقد کیے گئے تھے۔
یہ احتجاج ایسے وقت شدت اختیار کر گیا جب خطے میں۵۲ روزہ احتجاجی تحریک جاری تھی، جس کے شرکاء زیرِ حراست افراد کی رہائی، مظاہرین کے خلاف مقدمات کے خاتمے اور اپنے دیگر مطالبات کی منظوری کا مطالبہ کر رہے تھے۔
مظاہرین نے راولاکوٹ میں پاکستانی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی شدید مذمت بھی کی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اور حکام کے درمیان پیر کے روز مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ہزاروں افراد مظفرآباد کی جانب مارچ کی تیاری کر رہے تھے۔
جے اے اے سی نے۲۷ جولائی کو دوپہر ایک بجے تک حکومت کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی مہلت دی تھی اور خبردار کیا تھا کہ بصورت دیگر ہزاروں افراد راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب مارچ کریں گے۔
بعد ازاں کوئی معاہدہ نہ ہونے پر ہزاروں افراد راولاکوٹ میں جمع ہوئے اور مارچ شروع کر دیا، جس کے بعد پاکستانی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی۔
تحریک سے وابستہ عینی شاہدین کے مطابق پیر کی شام ہونے والی کارروائی میں کم از کم۱۴؍افراد ہلاک جبکہ تقریباً دو درجن زخمی ہوئے۔
جے اے اے سی کا دعویٰ ہے کہ۵ جون سے۲۸ جولائی کے درمیان ہلاک ہونے والوں کی تعداد۶۷ تک پہنچ چکی ہے۔ تنظیم نے ان ہلاک شدگان کو ’شہداء‘ قرار دیتے ہوئے اپنی تحریک جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
پی او جے کے میں احتجاجی قیادت کا کہنا ہے کہ موجودہ انتخابی عمل میں نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے ہیرا پھیری کی گئی ہے، جس سے عوامی رائے مجروح اور جمہوری ادارے کمزور ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکام پر گرفتاریوں، دھمکیوں اور بھاری سیکورٹی تعیناتی کے ذریعے سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بدامنی راولاکوٹ سے بڑھ کر میرپور تک پھیل گئی ہے، جہاں متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے تازہ احتجاج کے دوران شہریوں پر فائرنگ کی۔
ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ راولاکوٹ میں مظاہرین کے خلاف سیکورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ مہلک طاقت کے استعمال کی اطلاعات کی فوری، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ تشدد خطے میں مظاہرین کے خلاف ’غیر قانونی طاقت کے استعمال کی ایک طویل تاریخ‘ سے مطابقت رکھتا ہے۔ (ایجنسیاں)










