کشمیر کی شناخت صرف سیاحت تک محدود نہیں بلکہ یہاں کی دستکاریاں، قالین، شالیں، سیب، زعفران اور اخروٹ کی طرح کشمیر کی کرکٹ بیٹ انڈسٹری بھی ایک ایسی منفرد شناخت ہے جس نے عالمی سطح پر اپنی جگہ بنائی ہے۔ یہ صنعت نہ صرف ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے بلکہ دنیا بھر میں ’میڈ اِن کشمیر‘ کا ایک ایسا برانڈ بھی ہے جس پر اہلِ کشمیر بجا طور پر فخر کرسکتے ہیں۔
یہ ایک خوش آئند حقیقت ہے کہ کشمیر کے تیار کردہ بلے صرف مقامی میدانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ بین الاقوامی کرکٹ میں بھی اپنی صلاحیت کا لوہا منوا چکے ہیں۔ کئی بین الاقوامی کرکٹرز نے کشمیر کے بلے استعمال کئے ہیں اور متحدہ عرب امارات کے بلے باز جنید صدیقی کی جانب سے ٹی۲۰عالمی کپ میں کشمیر کے بنے بلے سے لگایا گیا۱۰۹ میٹر طویل چھکا اس صنعت کے معیار کا ایک ناقابلِ فراموش ثبوت ہے۔ سنگم، اننت ناگ میں قائم جی آر۸کمپنی کو آئی سی سی سے منظوری حاصل ہونا بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ کشمیر کی لکڑی اور یہاں کے ہنرمند عالمی معیار کی مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ صنعت آج تقریباً پچاس ہزار سے ایک لاکھ افراد کو براہ راست یا بالواسطہ روزگار فراہم کرتی ہے، جبکہ سالانہ تقریباً پندرہ سے تیس لاکھ کرکٹ بلے تیار کئے جاتے ہیں جن کی مالیت تقریباً تین سو کروڑ روپے تک پہنچتی ہے۔ جنوبی کشمیر کے سنگم، بجبہاڑہ، پلوامہ اور اننت ناگ کے علاقوں میں اس صنعت نے کئی دہائیوں سے مقامی معیشت کو سہارا دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے، یہ صنعت امید کی ایک روشن کرن ہے۔
بدقسمتی سے اس روشن تصویر پر اب موسمیاتی تبدیلیوں کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔ وادی میں برف باری اور بارشوں میں مسلسل کمی، ندی نالوں اور دلدلی علاقوں کا سکڑنا اور زیرزمین پانی کی سطح میں گراوٹ نے کشمیر ولو کی افزائش کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہی وہ درخت ہے جس کی لکڑی عالمی معیار کے کرکٹ بلے بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اگر یہی خام مال ختم ہوگیا تو اس صنعت کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔
ایک وقت تھا جب جنوبی کشمیر کے ندی نالوں کے کنارے ولو کے گھنے درخت ہوا کرتے تھے۔ کسان ان درختوں کو سرمایہ سمجھ کر لگاتے تھے، لیکن آج وہی زمینیں خشک ہوچکی ہیں۔ پانی کی قلت کے باعث کسان ولو کی جگہ جلد تیار ہونے والے پاپلر جیسے درخت لگانے کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ ان سے جلد آمدنی حاصل ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف کئی دہائیوں تک ولو کے درخت تو کاٹے گئے لیکن ان کی مناسب پیمانے پر دوبارہ شجرکاری نہیں کی گئی، جس کا نتیجہ آج خام مال کی شدید قلت کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔
یہ محض ایک صنعتی بحران نہیں بلکہ ایک معاشی اور سماجی خطرہ بھی ہے۔ اگر خام مال کی قلت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو آنے والے چند برسوں میں بیٹ سازی کی صنعت شدید بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔ اس کا مطلب صرف کارخانوں کی بندش نہیں بلکہ ہزاروں مزدوروں، بڑھئیوں، لکڑی کے تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور چھوٹے کاروباری افراد کے روزگار کا خاتمہ بھی ہوگا۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سنگم کے صنعتی علاقے کے دورے کے دوران اس صنعت کی اہمیت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس کے تحفظ اور فروغ کے لئے کئی اہم اعلانات بھی کئے ہیں۔ انہوں نے ولو کی سائنسی بنیادوں پر شجرکاری، منظم ری پلانٹیشن، بہتر اقسام کی افزائش، بجلی کی فراہمی، طبی سہولیات، فائر اینڈ ایمرجنسی خدمات اور کاروباری آسانیوں کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ یقیناً ایک مثبت قدم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اعلانات عملی اقدامات میں بھی تبدیل ہوں گے؟
حقیقت یہ ہے کہ اس صنعت کو وقتی اعلانات سے زیادہ ایک جامع اور طویل المدتی پالیسی کی ضرورت ہے۔ ولو کے درخت کو اسی طرح قانونی تحفظ دیا جانا چاہئے جس طرح کشمیر میں چنار اور اخروٹ کے درختوں کو حاصل ہے۔ حکومت کو ایسے علاقوں کی نشاندہی کرنی چاہئے جہاں ولو کی بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جاسکے۔ کسانوں کو مالی مراعات، سبسڈی اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے تاکہ وہ دوبارہ اس درخت کی کاشت کی طرف راغب ہوں۔
اس کے ساتھ ساتھ شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے تیار کردہ ہائبرڈ ولو اقسام کی کاشت کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ اقسام نسبتاً کم عرصے میں تیار ہوجاتی ہیں اور اگر جدید آبپاشی، خصوصاً ڈرپ اریگیشن، کو فروغ دیا جائے تو پانی کی قلت کے باوجود ولو کی کامیاب افزائش ممکن ہوسکتی ہے۔
صرف خام مال ہی نہیں بلکہ ویلیو ایڈیشن پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ جدید مشینری، سائنسی سیزننگ پلانٹس، معیاری پیکجنگ، عالمی مارکیٹنگ، برانڈنگ اور آن لائن برآمدات کے ذریعے کشمیر کی بیٹ انڈسٹری کئی گنا ترقی کرسکتی ہے۔ آج دنیا بھر میں کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اگر کشمیر اپنے بلوں کی برانڈنگ مؤثر انداز میں کرے تو بین الاقوامی منڈی میں اس کا حصہ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اس صنعت کو صرف ایک روایتی کاروبار کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اسے ’کشمیر برانڈ‘کے طور پر فروغ دے۔ جس طرح سوئٹزرلینڈ گھڑیوں، جاپان الیکٹرانکس اور اٹلی فیشن کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، اسی طرح کشمیر بھی عالمی کرکٹ میں اپنے ولو بلوں کی وجہ سے منفرد شناخت حاصل کرسکتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ دنیا بھر میں ماحول دوست صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ ولو کا درخت نہ صرف معیشت کو سہارا دیتا ہے بلکہ ایک مؤثر کاربن سنک بھی ہے، جو ماحول میں کاربن جذب کرکے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس اعتبار سے ولو کی شجرکاری ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی دونوں مقاصد پورے کرسکتی ہے۔
یہ اداریہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہے کہ کشمیر کی بیٹ انڈسٹری محض ایک کاروبار نہیں بلکہ وادی کی شناخت، ہنرمندی، روزگار اور عالمی وقار کی علامت ہے۔ اگر آج بروقت منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں شاید صرف کتابوں میں پڑھیں گی کہ کبھی کشمیر دنیا کے بہترین کرکٹ بلے تیار کیا کرتا تھا۔ لیکن اگر حکومت، صنعت، ماہرین، کسان اور عوام مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو یہی صنعت نہ صرف موجودہ بحران سے نکل سکتی ہے بلکہ عالمی منڈی میں نئی بلندیوں کو بھی چھو سکتی ہے۔
جب کشمیر کے بنے ہوئے بلے عالمی کرکٹ کے بڑے مقابلوں میں استعمال ہو رہے ہیں اور آئی سی سی کے معیار پر پورا اتر رہے ہیں تو یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس صنعت کو زوال کی طرف نہ جانے دیا جائے۔ اسے مزید مضبوط، جدید، پائیدار اور مسابقتی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کشمیر کی شناخت صرف اس کے حسین مناظر نہیں، بلکہ اس کے ہنر، محنت اور صنعت بھی ہیں۔ ان کا تحفظ ہی دراصل کشمیر کے روشن معاشی مستقبل کی ضمانت ہے۔





