’اس صنعت سے جڑے ہر ایک شخص کو برابر کے مواقع ملنے چاہئیں‘
(ڈی آئی پی آر )
سرینگر؍۲۷ جولائی
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج ٹورسٹ ٹریڈ انٹرسٹ گلڈ، جموں و کشمیر کے زیر اہتمام منعقدہ’اخلاقی سیاحت کانکلیو‘ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر میں سیاحت کا ایسا ماڈل فروغ دیا جائے جو ذمہ دار، پائیدار اور سب کی شمولیت پر مبنی ہو۔
اپنے کلیدی خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے کانکلیو کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب سیاحت کو محض ایک صنعت نہیں بلکہ قدرت، ثقافت اور سماج کے تئیں اخلاقی ذمہ داری کے طور پر ازسرِ نو متعین کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔
سنہا نے کہا کہ کانکلیو کا موضوع ’آج ذمہ داری، کل پائیداری، سب کے لیے فائدہ‘اس اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ قدرتی اور ثقافتی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھا جائے۔
ایل جی نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ہمیشہ ’زمین کا جنت‘ کہا جاتا رہا ہے اور اس کی اصل وجہ یہاں قدرتی حسن اور ثقافتی ہم آہنگی کا منفرد امتزاج ہے۔انہوں نے کہا’’جموں و کشمیر میں سیاحت کو اسی ورثے کے جشن کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور مستقبل میں اخلاقی سیاحت ہی ہماری رہنمائی کا بنیادی اصول ہونا چاہیے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے سیاحت کے شعبے میں گزشتہ برسوں کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاحوں کی آمد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، ملکی و غیر ملکی سیاحوں کا اعتماد بحال ہوا ہے، سرمایہ کاری بڑھی ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
سنہا نے کہا’’تاہم اصل کامیابی صرف اعداد و شمار میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ خوشحالی مقامی آبادی تک پہنچے، ان کی زندگی میں امید، وقار اور ترقی آئے۔ گزشتہ چھ برسوں میں جموں و کشمیر کی سیاحت نے آمد، سرمایہ کاری اور مواقع کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں، لیکن حقیقی کامیابی اس وقت ہوگی جب ہر گھر اس خوشحالی سے مستفید ہو‘‘۔
ایل جی نے زور دے کر کہا کہ ذمہ دار سیاحت کا مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہونا چاہیے جہاں ہر سیاح خوشگوار یادیں لے کر واپس جائے اور ساتھ ہی جنگلات، جھیلیں، دریا اور قدرتی وسائل بھی محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور تحفظِ ماحول کے درمیان توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ڈل جھیل کے کشتی بان، پہاڑی راستوں پر خدمات انجام دینے والے گھوڑے والے، پشمینہ اور پیپر ماشی جیسی روایتی دستکاری سے وابستہ ہنرمند، گریز اور بنگس میں ہوم اسٹے چلانے والے خاندان سبھی سیاحتی شعبے کے مساوی شراکت دار ہیں۔
سنہا نے کہا’’منافع صرف بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ سیاحت کے ذریعے تمام متعلقہ افراد کو باوقار آمدنی، تربیت اور ترقی کے مواقع ملنے چاہئیں۔ ہمیں مل کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ خوشحالی آخری گاؤں، آخری خاندان اور قطار میں کھڑے آخری شہری تک پہنچے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سیاحت کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب دستکاروں، چھوٹے کاروباریوں، نوجوانوں اور خواتین کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے، انہیں منصفانہ معاوضہ ملے اور باوقار روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
ایل جی نے مزید کہا کہ پائیدار سیاحت ایسا تصور ہے جس میں ترقی اور قدرت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سڑکوں، ہوٹلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اس انداز میں کی جائے کہ ماحولیات پر کم سے کم منفی اثرات مرتب ہوں۔
سنہا نے سیاحوں اور سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال سے گریز کریں، کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائیں، پانی اور توانائی کا دانشمندانہ استعمال کریں اور جنگلی حیات کا احترام کریں تاکہ ماحول دوست سیاحت ایک عوامی تحریک بن سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے تمام متعلقہ فریقوں سے کہا کہ وہ کانکلیو میں ہونے والی گفتگو کو واضح اہداف، مقررہ مدت اور مؤثر جائزہ نظام کے ساتھ عملی منصوبوں میں تبدیل کریں۔انہوں نے ماحول دوست ہوم اسٹے اور ہوٹلوں کے لیے سرٹیفکیشن نظام متعارف کرانے، نوجوانوں کے لیے جامع تربیتی پروگرام شروع کرنے تاکہ وہ قدرت اور ثقافت کے محافظ بن سکیں، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے سیاحوں کو براہِ راست مقامی برادریوں سے جوڑنے کی بھی تجویز پیش کی۔
ایل جی نے کہا’’اگر مقامی برادریاں اور نوجوان جدت کو حساسیت کے ساتھ، ٹیکنالوجی کو ثقافت کے ساتھ اور ترقی کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ جوڑ دیں تو مجھے یقین ہے کہ جموں و کشمیر پورے ملک کے لیے پائیدار سیاحت کا ایک مثالی نمونہ بن سکتا ہے۔‘‘










