: ایلون مسک
اے آئی اور روبوٹس انسانوں سے زیادہ اشیاء اور خدمات فراہم کریں گے‘ انسان ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت پر اپنا کنٹرول کھو سکتے ہیں:مسک
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲۷جولائی
دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ۲۰۳۶ تک پیسے کی اہمیت تقریباً ختم ہو سکتی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹ اس قدر ترقی کر جائیں گے کہ وہ انسانوں کی ضرورت سے کہیں زیادہ اشیاء اور خدمات فراہم کرنے کے قابل ہوں گے۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ اگلے دس برسوں میں دنیا ایسی حالت میں پہنچ سکتی ہے جہاں ہر شخص کے لیے بے پناہ وسائل دستیاب ہوں گے۔
انہوں نے کہا’’لوگ پیسہ آخر کس لیے چاہتے ہیں؟ خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹ، تفریح اور دیگر خدمات کے لیے۔ لیکن اگر روبوٹ اور مصنوعی ذہانت اتنی زیادہ اشیاء اور خدمات پیدا کریں کہ انسان ان سب کو استعمال بھی نہ کر سکے، تو پھر پیسے کی ضرورت ہی کیا رہ جائے گی‘‘؟
مسک نے واضح کیا کہ یہ مستقبل کا ایک بہترین ممکنہ منظرنامہ ہے، تاہم انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ۲۰۳۶تک انسان مصنوعی ذہانت پر اپنا کنٹرول کھو سکتے ہیں کیونکہ اس کی ذہانت انسانوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا’’اگر اے آئی اور انسانوں کے درمیان ذہانت کا فرق اتنا ہی زیادہ ہو جائے جتنا انسانوں اور چمپینزیوں کے درمیان ہے، تو پھر یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ چمپینزی فیصلے کرنے والے نہیں ہوں گے‘‘۔
مسک کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں مصنوعی ذہانت اجتماعی انسانی ذہانت سے بھی آگے نکل جائے گی۔انہوں نے کہا’’شاید انسان ہونے کے سوا کوئی ایسا کام باقی نہ رہے جو اے آئی انسانوں سے بہتر نہ کر سکے‘‘۔تاہم ایلون مسک نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اگر پیسے کی اہمیت ختم ہو جائے تو اس وقت معاشی نظام یا کرنسی کی جگہ کون سا متبادل نظام موجود ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا’’میرا فلسفیانہ نتیجہ یہی ہے کہ ہمیں اس کے مثبت پہلو پر نظر رکھنی چاہیے۔ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس کی ترقی کی اس رفتار کو روکنے کا مجھے کوئی طریقہ نظر نہیں آتا، اور بعض اوقات مجھے لگتا ہے کہ اگر ہمارے پاس اسے روکنے کا بٹن بھی ہو تو شاید ہمیں اسے دبانا نہیں چاہیے‘‘۔
دوسری جانب اوپن اے آئی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹمین نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ انسانیت ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے نظام تیزی سے زیادہ باصلاحیت ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا پہلے ہی’سنگولیریٹی‘ کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے۔
اسی طرح گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ ڈیمس ہسابس نے بھی کہا ہے کہ انسانیت سنگولیریٹی کے دہانے پر کھڑی ہے۔
ادھر اینتھروپک نامی کمپنی، جسے اوپن اے آئی کے سابق محققین نے قائم کیا ہے، پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے نظام ایسے مزید طاقتور اے آئی ماڈلز خود تیار، بہتر اور تعینات کر سکتے ہیں جن میں انسانی مداخلت کی ضرورت نہ رہے۔
کمپنی کی حفاظتی تحقیق میں ایسے فرضی تجربات بھی کیے گئے جن میں بعض جدید اے آئی ماڈلز نے خود کو بند ہونے سے بچانے کے لیے دھوکے بازی اور بلیک میلنگ جیسے رویے اختیار کیے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ یہ صرف حفاظتی جانچ کے لیے کیے گئے تجربات تھے، نہ کہ حقیقی دنیا میں استعمال ہونے والے نظام۔
مختلف محققین نے بھی اپنی تحقیقات میں ایسے واقعات کی نشاندہی کی ہے جن میں جدید مصنوعی ذہانت کے نظاموں نے اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے کے دوران جھوٹ بولنے، دھوکہ دینے یا فریب پر مبنی رویہ اختیار کیا۔
حال ہی میں رائٹرز کی ایک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ اوپن اے آئی کے ایک خودمختار اے آئی ایجنٹ نے مبینہ طور پر اپنے آئندہ ورژنز کے لیے ایسے نوٹس چھوڑے جن میں اندرونی پابندیوں سے آزاد ہونے اور محدود ماحول (Sandbox) سے باہر نکلنے کے طریقوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ تاہم اس بارے میں سرکاری طور پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور نہ ہی اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق ہوئی ہے۔










