ڈی آئی پی آر
سرینگر؍۲۴ جولائی
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج رائل اسپرنگس گالف کورس، سرینگر میں جموں و کشمیر کے پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی تعارفی تقریب (کرٹن ریزر) کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیسٹیول کشمیر اور سنیما کے درمیان تاریخی تعلق کو دوبارہ مضبوط بنانے اور جموں و کشمیر کو فلم سازی کی پسندیدہ منزل کے طور پر فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
تقریب میں چیف سیکریٹری اٹل ڈولو، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری دھیرج گپتا، ممتاز فلم ساز اور پدم شری اعزاز یافتہ مظفر علی، معروف ہدایت کار و مصنف امتیاز علی، فلم ساز ساجد علی، سیکریٹری محکمہ اطلاعات منیر الاسلام، سیکریٹری رائل اسپرنگس گالف کورس حارث احمد ہنڈو،ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل‘ جوائنٹ ڈائریکر اطلاعات شہنواز بخاری، سینئر سرکاری افسران اور فلمی صنعت سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ فلم فیسٹیول جموں و کشمیر اور بھارتی فلمی صنعت کے درمیان ایک نئے تعلق کا آغاز ہے۔ انہوں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب کشمیر اور بالی ووڈ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم سمجھے جاتے تھے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ایک دور ایسا تھا جب کوئی فلم اس وقت تک مکمل نہیں سمجھی جاتی تھی جب تک اس کا کم از کم ایک منظر کشمیر میں فلمایا نہ جاتا۔ اگر پوری فلم یہاں نہ بھی بنتی تو کم از کم ایک یادگار گانا ضرور وادی میں عکس بند کیا جاتا تھا۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ اس فلم فیسٹیول کا مقصد نہ صرف اس تاریخی تعلق کو بحال کرنا ہے بلکہ مقامی فنکاروں اور نوجوان ہنرمندوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا، تخلیقی معیشت کو فروغ دینا اور جموں و کشمیر کو عالمی سطح پر متعارف کرانا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت فلم سازوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے، اجازت ناموں کے عمل کو آسان بنانے، فلم سازی کے اخراجات کم کرنے اور مقامی نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ فلم سازوں کے لیے یہاں آنا آسان ہو، فلم بندی کم لاگت میں ممکن ہو اور ہمارے نوجوان اس صنعت کی ضروریات کے مطابق تربیت یافتہ ہوں۔‘‘
عمرعبداللہ نے معروف فلم ساز مظفر علی کے دیرینہ فلمی منصوبے ’’زونی‘‘ کا بھی ذکر کیا اور خوشی ظاہر کی کہ اس نامکمل منصوبے کو اب ان کے صاحبزادے نے مکمل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ فلم اپنے اصل تصور کی جھلک بھی پیش کرنے میں کامیاب رہی تو گزشتہ چار دہائیوں میں پہلی مرتبہ کشمیر کو ایک منفرد انداز میں دنیا کے سامنے لائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی فلم فیسٹیول مستقبل میں عالمی فلمی کیلنڈر کا مستقل حصہ بن جائے گا اور آئندہ برسوں میں جموں اور گلمرگ میں بھی اس کے متوازی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
انہوں نے فلم فیسٹیول کے دوران سرینگر ہوائی اڈے کو کھلا رکھنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک اور بیرون ملک سے آنے والے فلم سازوں، فنکاروں اور مہمانوں کی آمدورفت آسان ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے مظفر علی، امتیاز علی اور ساجد علی کا اس اقدام کی حمایت اور جموں و کشمیر سے دیرینہ وابستگی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی اس پہل کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
اس موقع پر چیف سیکریٹری اٹل ڈولو نے کہا کہ یہ تقریب جموں و کشمیر اور بالی ووڈ کے تاریخی تعلق کو دوبارہ استوار کرنے کی سمت ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور نوجوان فلم سازوں کو ایسے پلیٹ فارم فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
پدم شری اعزاز یافتہ فلم ساز مظفر علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر شروع ہی سے بالی ووڈ کا لازمی حصہ رہا ہے اور انہوں نے یہاں فلم بندی کے دوران اپنی یادگار وابستگیوں کا بھی ذکر کیا۔
معروف ہدایت کار اور مصنف امتیاز علی نے کہا کہ کشمیری نوجوان غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہیں اور وادی میں مختلف فلموں کی شوٹنگ سے وابستہ اپنی یادیں بھی شرکاء سے شیئر کیں۔
اس سے قبل ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ یہ تقریب جموں و کشمیر میں سنیما کی واپسی کی بنیاد ثابت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک۲۵ سے زائد ممالک سے مختلف زمروں میں تقریباً۴۰۰ فلمیں موصول ہو چکی ہیں، جبکہ فلمیں جمع کرانے کی آخری تاریخ۳۰ جولائی۲۰۲۶ مقرر کی گئی ہے۔
تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ نے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی یادگاری اشیاء (مرچنڈائز) کی بھی رونمائی کی۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول۷ سے۱۰ ستمبر۲۰۲۶ تک منعقد ہوگا، جس میں بھارت اور دنیا بھر سے فلم ساز، فنکار، صنعت سے وابستہ شخصیات اور سنیما کے شائقین شرکت کریں گے۔ اس فیسٹیول کا مقصد جموں و کشمیر کی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی ورثے اور ابھرتے ہوئے فلمی شعبے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔










