(ایجنسیاں )
جموں؍۲۴ جولائی
مسلسل بارشوں، لینڈ سلائیڈ، پہاڑوں سے پتھر گرنے اور سڑک کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچنے کے باعث جموں۔سرینگر قومی شاہراہ جمعہ کو مسلسل تیسرے روز بھی ٹریفک کے لیے بند رہی، جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد گاڑیاں مختلف مقامات پر پھنس گئیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ چھ روز کے دوران جموں خطے میں موسلا دھار بارش، بادل پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب سے۲۶؍ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ۶؍افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
پونچھ اور راجوری اضلاع، جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ امدادی ٹیمیں اضافی نفری کے ساتھ سیلابی نالوں اور حساس علاقوں میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
۲۵۰کلومیٹر طویل جموں۔سرینگر قومی شاہراہ، جو کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والی واحد ہمہ موسمی سڑک ہے، ادھم پور ضلع کے دیوہل پل، سمرولی اور جکھانی جبکہ رام بن ضلع کے بنیہال میں متعدد مقامات پر بند رہی۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈ اور پتھر گرنے کے باعث شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بدستور معطل ہے۔
حکام نے بتایا کہ شاہراہ کی بحالی کا کام جاری ہے، تاہم مسلسل بارش ملبہ ہٹانے اور مرمتی کاموں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
شاہراہ بند ہونے کے باعث رام بن، نگروٹہ، جموں، ادھم پور، لکھن پور اور سانبہ میں ایک ہزار سے زائد گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ انتظامیہ نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ شاہراہ کو محفوظ قرار دیے جانے تک سفر سے گریز کریں۔
قومی شاہراہ کے علاوہ ڈوڈہ۔کشتواڑ سڑک سمیت ایک درجن سے زائد بین الاضلاعی سڑکیں بھی لینڈ سلائیڈ، مٹی کے تودے گرنے اور سڑکوں کو نقصان پہنچنے کے باعث بند ہیں، تاہم مغل روڈ اور سرینگر۔سونہ مرگ۔گمری (ایس ایس جی) روڈ شدید بارش کے باوجود آمدورفت کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔
درماندہ مسافروں کی سہولت کے لیے شمالی ریلوے نے بڈگام اور بانیہال سے کٹرہ کے لیے خصوصی ٹرین چلائی، جبکہ۶۰۰ سے زائد سیاحوں کو سرینگر سے جموں منتقل کیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے چناب وادی، ادھم پور، جموں، سانبہ اور کٹھوعہ سمیت جموں کے مختلف علاقوں میں مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ جنوبی کشمیر میں بھی نمایاں بارش متوقع ہے۔ محکمہ کے مطابق دوپہر کے بعد موسم میں بتدریج بہتری آنے کا امکان ہے، اگرچہ شام تک کہیں کہیں ہلکی بارش جاری رہ سکتی ہے۔
حکام نے بتایا کہ تقریباً تمام بڑے دریا اور ندی نالے معمول سے زیادہ پانی کے ساتھ بہہ رہے ہیں، جبکہ اچانک آنے والے سیلاب سے نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے، جس کے باعث مکانات، دکانوں اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
متاثرہ اضلاع میں سول انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف اور دیگر ایجنسیاں امدادی اور بچاؤ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ خراب موسمی صورتحال کے باعث شری امرناتھ یاترا، ماتا ویشنو دیوی یاترا، شیو کھوری یاترا اور مچیل یاترا ایک دن کے لیے معطل رہیں گی، جبکہ یاتریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ بیس کیمپوں اور رہائشی مراکز میں ہی قیام کریں۔
سرکاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ محکمہ موسمیات کی خراب موسم سے متعلق پیش گوئی کے پیش نظر شری امرناتھ جی یاترا آئندہ احکامات تک معطل رہے گی۔ اسی لیے جموں، ادھم پور یا رام بن سے سرینگر کی جانب کسی بھی یاتری بردار گاڑی کو روانہ ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکام کے مطابق۱۵ ہزار سے زائد یاتری جموں، کٹھوعہ، سانبہ، ادھم پور، رام بن اور بانیہال کے بیس کیمپوں اور رہائشی مراکز میں مقیم ہیں، جبکہ شاہراہ پر کشمیر کی جانب کسی بھی غیر مجاز نقل و حرکت کو روکنے کے لیے سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
گزشتہ۲۴ گھنٹوں کے دوران جموں خطے میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ادھم پور میں۹۶ء۵ ملی میٹر بارش ہوئی، جو سب سے زیادہ رہی۔ اس کے بعد بٹوٹ۸۴ء۲ ملی میٹر‘ رام بن ۶۹ء۵ ملی میٹر اور بھدرواہ۶۵ء۷ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
اسی دوران کٹرہ میں۴۵ء۱ ملی میٹر، کٹھوعہ۴۴ء۸ ملی میٹر، بانیہال۳۸ء۳ ملی میٹر، ڈوڈہ۳۵ ملی میٹر، ریاسی۲۷ء۵ ملی میٹر، کشتواڑ۲۷ ملی میٹر، جموں ایئرپورٹ۲۶ ملی میٹر، جموں شہر۲۵ء۲ ملی میٹر اور پونچھ۷ء۵ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ راجوری میں کوئی بارش درج نہیں کی گئی۔










