شدید بارش کے باوجود دونوں جماعتوں کے کارکنوں کا احتجاج؛ بی جے پی نے راہل کو نشانہ بنایا، کانگریس نے بی جے پی پر لگائے سنگین الزامات
(ایجنسیاں )
جموں؍۲۲ جولائی
شدید بارش کے باوجود بدھ کے روز جموں میں جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر دفتر کے قریب شہیدی چوک پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس کے کارکن آمنے سامنے آ گئے، جس کے بعد کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے پولیس نے بھاری نفری تعینات کرتے ہوئے بیریکیڈ نصب کر دیے۔
پولیس نے دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان خار دار تاریں لگا کر سکیورٹی حصار قائم کیا اور دونوں گروپوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھا، جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی بھی کی جاتی رہی۔
اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کی قیادت میں بی جے پی کے سینئر رہنما اور کارکن شدید بارش کے باوجود مارچ کرتے ہوئے جے کے پی سی سی دفتر کی طرف بڑھے اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف نعرے لگائے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ اور ورکنگ صدر رمن بھلہ کی قیادت میں کانگریس کارکن پارٹی دفتر سے باہر نکل آئے اور جوابی احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے استعفے کا مطالبہ کیا اور بی جے پی پر مبینہ غنڈہ گردی کا الزام لگاتے ہوئے نعرے بازی کی۔
سنیل شرما نے راہل گاندھی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں بحث سے راہ فرار اختیار کی اور نوجوانوں کو بدامنی پر اکسانے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا’’ہم جے کے پی سی سی دفتر تک مارچ کر رہے ہیں تاکہ ایک واضح پیغام دیا جا سکے کہ بھارت جمہوریت پر یقین رکھتا ہے، سیاسی ڈرامے بازی پر نہیں‘‘۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی بحث سے واک آؤٹ کر کے پارلیمنٹ چھوڑ گئے، جو ’’ملک کا اعلیٰ ترین جمہوری ادارہ اور قومی پالیسیوں پر بحث کا سب سے بڑا فورم ہے‘‘۔
بی جے پی لیڈر نے کہا’’ایسا کر کے انہوں نے ایک ایسا قدم اٹھایا جو کسی بڑی سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ ان نوجوانوں کو اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں جو۲۰۴۷ تک ترقی یافتہ بھارت کے وژن کی بنیاد ہیں اور ملک میں انتشار کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں‘‘۔
ان کامزید کہنا تھا کہ کانگریس شاید یہ سمجھتی ہے کہ جس طرح بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ممالک میں نام نہاد عوامی تحریکوں کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، ویسی ہی حکمت عملی یہاں بھی کامیاب ہو سکتی ہے، لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہے۔
بی جے پی لیڈر نے کہا نے کہا کہ بھارت کے عوام، خصوصاً نوجوان، جمہوریت پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔’’اگر راہل گاندھی اقتدار میں آنا چاہتے ہیں تو اس کا ایک جمہوری طریقہ موجود ہے، وہ انتخابات میں عوامی مینڈیٹ حاصل کریں۔بہار، مہاراشٹر، مغربی بنگال، آسام اور دیگر کئی ریاستوں میں انتخابی شکست کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وہ بدامنی پیدا کر کے سیاسی ماحول اپنے حق میں بنانا چاہتے ہیں‘‘۔
ادھر جے کے پی سی سی صدر طارق حمید قرہ نے کانگریس کے احتجاج کو جمہوری حق قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی طلبہ کی تحریک پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کے بجائے اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
قرہ نے حکمراں جماعت پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال اور کانگریس کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کارکن پارٹی دفتر میں موجود ارکان کو خوفزدہ کرنے آئے تھے، تاہم کانگریس بی جے پی کی مبینہ’غنڈہ گردی‘ کا پرامن انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
کانگریسی رہنما نے کہا’’احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن ہمارا احتجاج بی جے پی کی غنڈہ گردی کے خلاف ہے۔ ہمارا احتجاج اس بات پر بھی ہے کہ بی جے پی پارلیمنٹ میں اس حساس اور متنازع معاملے پر بحث نہیں چاہتی۔ہم اس لیے احتجاج کر رہے ہیں کہ دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ اپنی شکایات، مشکلات اور مطالبات لے کر جمع ہوئے، لیکن حکومت نے ان سے بات کرنے کے بجائے ان پر لاٹھی چارج کیا‘‘۔
قرہ نے الزام لگایا کہ پیر کے روز دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو احساس ہو گیا ہے کہ احتجاج ملک بھر میں پھیل رہا ہے۔
کانگریسی لیڈر نے کہا’’بی جے پی ہی پورے ملک میں بدامنی پھیلا رہی ہے اور لوگوں پر حملے کر رہی ہے۔ آج بھی بی جے پی کارکن ہمارے پارٹی دفتر پر حملہ کرنے آئے۔ ہم دفتر کے اندر پرامن طور پر بیٹھے ہوئے تھے، لیکن جب ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ہم پر حملہ کرنے آ رہے ہیں تو ہمیں بھی باہر آنا پڑا‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’بی جے پی جو کچھ کر رہی ہے وہ احتجاج نہیں بلکہ غنڈہ گردی ہے۔ حکومت، انتظامیہ اور پولیس کا استعمال کرتے ہوئے وہ ہم پر حملہ کرنے آئے ہیں، لیکن ہم اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں اور ہر ایسے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔
واضح رہے کہ نیٹ پرچہ لیک معاملے میں جوابدہی طے کرنے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے سمیت دیگر مطالبات کے حق میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے پیر کو دہلی کے جنتر منتر پر منعقدہ ’سنسد چلو‘مارچ کے دوران پولیس کارروائی کو لے کر بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سخت سیاسی کشیدگی جاری ہے۔
منگل کے روز اس معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو سمیت اپوزیشن کے کئی رہنماؤں کو وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دینے کے دوران پولیس نے حراست میں لے کر وہاں سے ہٹا دیا۔ اپوزیشن رہنما وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔










