پونچھ‘ راجوری اور دیگر متاثرہ علاقوں میں حکومت زمینی سطح پر نظر آئے:شرما
ایجنسیاں
جموں؍۲۱ جولائی
جموں کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے منگل کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں معطل کرکے پونچھ، راجوری اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے دیگر قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں راحت اور بازآبادکاری کے کاموں پر توجہ مرکوز کرے۔
پارٹی ہیڈکوارٹر جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا، ’’یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ حکومت ان لوگوں کے درمیان نظر نہیں آ رہی جو قدرتی آفات کی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت کی موجودگی اور اس کا ردعمل متاثرہ خاندانوں کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہا ہے۔ بی جے پی نے ہر خاندان اور ہر فرد تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ہم حکومت سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہو اور انہیں مطلوبہ امداد فراہم کرے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں سنیل شرما نے کہا کہ اگر حکومت جموں خطے میں قدرتی آفات سے متاثرہ عوام کی راحت اور بازآبادکاری میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے ایک بار پھر ریاستی درجہ کے مسئلے کو بہانہ بنائے گی تو یہ انتہائی افسوسناک ہوگا۔
شرما نے زور دے کر کہا کہ یہ سیاست کرنے کا نہیں بلکہ امدادی سرگرمیوں پر توجہ دینے کا وقت ہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ سیاست کا وقت نہیں ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں اور افراد کو سیاست سے بالاتر ہو کر فوری طور پر کام کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہر ممکن امداد بلا تاخیر متاثرہ خاندانوں تک پہنچے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کو اپنی زندگیاں دوبارہ آباد کرنے میں مدد دیں۔ اگر حکومت اس بحرانی صورتحال میں زمینی سطح پر نظر آئے تو ہم (بی جے پی) بھی ایک ذمہ دار جماعت کی حیثیت سے حکومت اور انتظامیہ کو راحت اور بازآبادکاری کے کاموں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ لیکن پہلے حکومت کو میدان میں نظر آنا ہوگا۔‘‘
بی جے پی لیڈر نے واضح کیا کہ پارٹی اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتی۔ انہوں نے کہا، ’’لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم قدرتی آفات سے تباہ حال عوام کی تکلیف پر خاموش تماشائی بھی نہیں بن سکتے۔ عوام کی امیدیں اور توقعات ہم (بی جے پی) سے بھی وابستہ ہیں۔ ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم ان کی آواز بلند کریں اور ایک ذمہ دار اور فعال اپوزیشن جماعت کا کردار ادا کریں، جو کردار عوام نے ہمیں دیا ہے۔‘‘
شرما نے کہا، ’’اپنی بنیادی ذمہ داری کے تحت بی جے پی نے متاثرہ عوام تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ہم نے جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے سری نگر میں منعقد ہونے والے اپنے ’سیکریٹریٹ چلو‘ مارچ کو ملتوی کرکے قدرتی آفات سے متاثرہ پونچھ اور راجوری جانے کا فیصلہ کیا تاکہ اس مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے رہ سکیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ راجوری اور پونچھ کے جڑواں اضلاع میں اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں تقریباً۲۶ سے۲۷؍ افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ڈوڈہ ضلع کے راگی نالہ میں مٹی کا تودہ گرنے کے واقعے میں بھی دو افراد کی جان گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھلیسہ، مرواہ۔وروان اور دچھن کے کیار علاقے بھی اسی نوعیت کے سیلابی واقعات سے متاثر ہوئے، اگرچہ وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم صورتحال تشویشناک ہے۔
پارٹی کے ملتوی کیے گئے ’’سیکریٹریٹ چلو‘‘ مارچ کے بارے میں سنیل شرما نے کہا، ’’یہ مارچ بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے تھا، جو جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر رہی ہے۔ ہم ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کے خلاف نہیں ہیں، لیکن ہماری تشویش یہ ہے کہ بھرتی کا نظام درست نہیں ہے اور اسی وجہ سے اقربا پروری کو فروغ مل رہا ہے۔‘‘
شرما نے مزید کہا، ’’اسی طرح جموں و کشمیر کے عوام جمہوریت کو نچلی سطح پر مضبوط بنانے کے لیے پنچایتی انتخابات کے انعقاد کا انتظار کر رہے تھے، لیکن وزیر اعلیٰ نے انتہائی غرور کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ پنچایتی انتخابات ان کی مرضی کے مطابق ہوں گے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مستقبل قریب میں پنچایتی انتخابات نہیں ہوں گے۔ بی جے پی۲۰ جولائی کو سری نگر میں احتجاجی مارچ کے ذریعے ان مسائل پر عوام کی آواز بلند کرنا اور اپنے احتجاج کا اظہار کرنا چاہتی تھی۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ۱۸؍ اور۱۹ جولائی کی درمیانی شب قدرتی آفات کے باعث سرنکوٹ، پونچھ شہر اور ضلع کے دیگر علاقوں کے علاوہ راجوری میں ہونے والی تباہی، جس میں تقریباً دو درجن افراد کی جانیں گئیں، کے پیش نظر پارٹی نے اپنا مارچ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔
شرما نے کہا کہ ایسے بحرانی حالات میں عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہوتی ہے، اسی لیے بی جے پی نے فیصلہ کیا کہ احتجاجی مارچ بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن پارٹی کے ایک وفد کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا چاہیے۔
قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ اس دورے کا مقصد متاثرہ عوام کے مسائل کو سننا، انہیں درپیش مشکلات کو سمجھنا اور زمینی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پونچھ اور راجوری کے عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے اور ان کی بحالی و بازآبادکاری کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔










