منگل, جولائی 21, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

پی ڈی پی کاجنتر منتر پر این سی کے مجوزہ اجلاس میں مشروط آمادگی کا اظہار

۳۷۰کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جماعت اسلامی پر پابندی ختم کرنا بھی ایجنڈے میں شامل کرنے کا مطالبہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-20
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
محبوبہ کا این سی پر جنوبی کشمیر کو نظر انداز کرنے کا الزام
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

سرینگر؍۱۸جولائی

                پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے۲۰ جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر نیشنل کانفرنس کی جانب سے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے حق میں مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے اپنی شرط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کے ایجنڈے میں آرٹیکل۳۷۰ کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جماعت اسلامی پر عائد پابندی کے خاتمے کے مطالبات بھی شامل کیے جائیں۔

                پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارٹی نے اس معاملے پر تفصیلی غور و خوض کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ صرف ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے لیے ہونے والے احتجاج میں شامل ہونا مناسب نہیں ہوگا۔

متعلقہ

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

                محبوبہ نے کہا’’اپنے سینئر ساتھیوں سے تفصیلی مشاورت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ایسے احتجاج میں شرکت مناسب نہیں ہوگی جس کا واحد اور بنیادی مقصد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ہو‘‘۔

                پی ڈی پی صدر نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو لکھے گئے دو صفحات پر مشتمل خط میں کہا کہ پی ڈی پی صرف اسی صورت میں جنتر منتر کے احتجاج میں شریک ہوگی جب آرٹیکل۳۷۰ کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جماعت اسلامی پر پابندی کے خاتمے کو احتجاج کے مرکزی ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔

                سابق وزیر اعلیٰ نے اپنے خط میں لکھا ’’صرف ریاستی درجے کی بحالی کے لیے مشترکہ احتجاج کرنا جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے غیر قانونی خاتمے کو جائز قرار دینے کے مترادف ہوگا اور اسے۵؍ اگست کے اقدام کی تائید کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو ہماری اجتماعی تاریخ کا تاریک ترین دن ہے‘‘۔

                واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز‘۲۰ جولائی کو جنتر منتر پر ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے حق میں ہونے والے احتجاج میں جموں و کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی ہے۔

                محبوبہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کو صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود کرنا ’سنگین ناانصافی، عوام کے ساتھ بے وفائی اور ان کی امنگوں سے غداری‘ کے مترادف ہوگا۔

                پی ڈی پی صدر نے کہا کہ خصوصی حیثیت کی بحالی سے کم کسی بھی مطالبے پر اکتفا کرنا ’’ہمارے حقوق اور وقار کے سامنے شرمناک ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا، جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ ’ادھورا مطالبہ‘ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے جس کے تحت آرٹیکل۳۷۰ کے مسئلے کو پس منظر میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

                محبوبہ نے کہا کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں عوام نے نیشنل کانفرنس کو جو واضح مینڈیٹ دیا، وہ صرف ریاستی درجے کی بحالی کے لیے نہیں تھا۔ ان کے مطابق اگر معاملہ صرف یہی ہوتا تو بی جے پی اور اس کی حامی جماعتوں کو کہیں زیادہ انتخابی کامیابی حاصل ہوتی۔

                سابق وزیرا علیٰ نے مزید کہا کہ اگرچہ لداخ کی طرز پر آل پارٹی پلیٹ فارم قائم کرنے کی ان کی سابقہ تجویز پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم وہ ایک بار پھر فاروق عبداللہ اور وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ اس سلسلے میں پہل کریں۔

                پی ڈی پی صدر نے تجویز دی کہ پہلا قدم تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک آل پارٹی اجلاس بلانا ہونا چاہیے، تاکہ جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مختلف مسائل پر غور کیا جا سکے اور ان کے حل کی راہ نکالی جا سکے۔

                محبوبہ نے کہا کہ ایک بامعنی سیاسی عمل کا آغاز اسی وقت ممکن ہے جب بنیادی مسائل، بشمول سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جماعت اسلامی سمیت سماجی و سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔

                سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی کو بھی ایک وقتی اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کے لیے مسلسل سیاسی کوششوں اور سرگرم رابطوں کی ضرورت ہے، جس کی قیادت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو کرنی چاہیے۔

                موصوفہ نے کہا کہ ایسی سنجیدہ سیاسی کوشش جموں و کشمیر کے مایوس عوام کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے اور انہیں یہ یقین دلائے گی کہ موجودہ تاریکی کے بعد روشنی کی امید اب بھی باقی ہے۔

۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں ہنگامہ آرائی کے آثار ‘ حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

Next Post

’جموں کشمیر کو علم و ادب اور تحقیق کا قومی مرکز بنانا ہمارا ہدف‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج
اہم ترین

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

2026-07-21
جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری
اہم ترین

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

2026-07-21
 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب
اہم ترین

 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب

2026-07-21
جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی
اہم ترین

جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی

2026-07-21
 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر
اہم ترین

 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر

2026-07-21
 موجودہ شکل میں سندھ   طاس معاہدہ دوبارہ نافذ   نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع
اہم ترین

 موجودہ شکل میں سندھ  طاس معاہدہ دوبارہ نافذ  نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع

2026-07-21
چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا  نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے
اہم ترین

چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے

2026-07-21
سے ۵۱اگست تک جموں صوبے میں شدید بارشوں کا امکان خراب موسم کے باعث پونچھ میں دوسرے روز بھی اسکول بند رہے
اہم ترین

 شدید بارش، آندھی اور بجلی گرنے کے خدشات کے باعث بجلی کے کھمبوں، تاروں اور  ٹرانسفارمروںسے دور رہنے کی اپیل 

2026-07-21
Next Post
نشہ مکت جموں کشمیر کیلئے ۱۰۰  روزہ مہم

’جموں کشمیر کو علم و ادب اور تحقیق کا قومی مرکز بنانا ہمارا ہدف‘

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.