سوشل میڈیا پر غیر تربیت یافتہ ’رپورٹرز‘ کی بڑھتی تعداد پر عدالت کا اظہارِ تشویش؛ پارلیمنٹ سے صحافتی آزادی اور جوابدہی میں توازن قائم کرنے کے لیے ضابطہ سازی پر غور کرنے کی اپیل
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۷جولائی
دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ آزادیٔ صحافت کو غیر ذمہ دارانہ صحافت یا ایسے مواد کی اشاعت کے لیے ڈھال نہیں بنایا جا سکتا جو عوامی نظم و نسق کے لیے خطرہ بنے۔
عدالت نے مقننہ پر زور دیا کہ وہ ایسا مؤثر ضابطۂ کار وضع کرے جو ایک طرف صحافت کی آزادی کو برقرار رکھے اور دوسری جانب پیشہ ورانہ جوابدہی، اخلاقی معیار، قانون کی حکمرانی، شہریوں کے حقوق اور وسیع تر عوامی مفاد کو بھی یقینی بنائے۔
جسٹس گریش کتھپالیہ نے حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث میڈیا کے ایک بڑے حصے کے غیر منظم اور غیر ضابطہ ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ عوامی رائے کو متاثر کرنے کی اس کی طاقت کے ساتھ تحمل، غیر جانبداری اور ذمہ داری کی لازمی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔
عدالت نے کہا کہ اب یہ رجحان عام ہوتا جا رہا ہے کہ ’’خود ساختہ رپورٹرز‘‘ شہریوں کے سامنے جارحانہ انداز میں مائیک لے جا کر فوری ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں، اور اگر کوئی شخص خاموش رہنے کو ترجیح دے تو اسے ’’سوالات سے فرار‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے، جس سے عوام میں گمراہ کن تاثر پیدا ہوتا ہے اور بلا جواز عوامی دباؤ جنم لیتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ اگرچہ آزادیٔ صحافت ایک جمہوری معاشرے کا ناگزیر ستون ہے، تاہم ’’منتخب رپورٹنگ، سنسنی خیزی یا غیر مصدقہ الزامات‘‘ کے ذریعے معاشرے کے کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے یا بدنام کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان بھی انتہائی تشویشناک ہے۔
عدالت کے مطابق اس قسم کا طرزِ عمل نہ صرف سماجی تقسیم کو گہرا کر سکتا ہے بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جسٹس کتھپالیہ نے۱۶ جولائی کو سنائے گئے فیصلے میں کہا، ’’آج موبائل فون اور مائیکروفون رکھنے والا تقریباً ہر شخص خود کو ’رپورٹر‘ قرار دے سکتا ہے، حالانکہ اکثر ایسے افراد کے پاس نہ صحافتی تربیت ہوتی ہے، نہ اخلاقی بنیادیں اور نہ ہی کسی قسم کی جوابدہی۔‘‘
عدالت نے مزید کہا، ’’بلاشبہ آزادیٔ صحافت کا ہر قیمت پر تحفظ ہونا چاہیے، لیکن اسے غیر ذمہ دارانہ صحافت، دھونس یا ایسے مواد کی تشہیر کے لیے ڈھال نہیں بننے دیا جا سکتا جو عوامی نظم و نسق کو نقصان پہنچائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مقننہ ایسا مناسب ضابطۂ کار وضع کرنے پر غور کرے جو صحافت کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ جوابدہی، اخلاقی معیارات، قانون کی حکمرانی، شہریوں کے حقوق اور وسیع تر عوامی مفاد کو بھی یقینی بنائے۔‘‘
ہائی کورٹ دو ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کر رہا تھا، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے جولائی۲۰۲۵ میں سیما پوری کی ایک غیر مجاز کالونی میں یوٹیوب چینل کے لیے رپورٹنگ کرنے والے دو فری لانس صحافیوں پر حملہ کیا تھا۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ شکایت کنندہ اور اس کا ساتھی علاقے میں مبینہ طور پر بغیر اجازت تعمیر کی گئی ایک عبادت گاہ کے بارے میں ویڈیو ریکارڈ کر رہے تھے، جس پر مقامی لوگ مشتعل ہو گئے تھے۔
عدالت نے قرار دیا کہ یہ واقعہ بظاہر ’’ہجوم کے شدید غصے‘‘ کا نتیجہ تھا اور موجودہ ملزمان کا کردار ابھی واضح نہیں ہے، اس لیے انہیں مزید آزادی سے محروم رکھنے کی کوئی معقول وجہ نہیں بنتی۔
عدالت نے حکم دیا، ’’لہٰذا دونوں ضمانت کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں اور دونوں ملزمان کو دس ہزار روپے کے شخصی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے ایک ایک ضامن جمع کرانے کی شرط پر ضمانت پر رہا کیا جائے۔‘‘










