نئی دہلی، 15 جولائی (یو این آئی) فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریبی علاقوں کے دورے کے بعد بدھ کو اسٹریٹجک طور پر اہم مشرقی کمان کی اہم فوجی اکائیوں کا دورہ کر کے آپریشنل تیاریوں اور موجودہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔
فوج کے مطابق اس دوران انہوں نے چوکسی، جدید کاری اور جنگ کے لیے تیاری پر ہندوستانی فوج کی توجہ کا اعادہ کیا۔ جنرل سیٹھ کو ترشکتی کور کے دو روزہ دورے میں مشرقی کمان میں آپریشنل ماحول اور حساس سرحدوں پر سکیورٹی کے حالات سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔ ترشکتی کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے انہیں علاقے میں آپریشنل تعیناتی، نگرانی کے نظام اور موجودہ سکیورٹی صورتحال کے بارے میں بتایا۔
فوج کے سربراہ نے ٹیکنالوجی کو اپنانے، فوج کی جدید کاری اور صلاحیت کے فروغ کے ذریعے آپریشنل صلاحیتیں بڑھانے کے لیے کیے جا رہے کاموں کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے بدلتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے لیے فوج کے تیار رہنے پر زور دیا۔ جنرل سیٹھ نے بدھ کو بینگڈوبی ملٹری اسٹیشن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے علاقے کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور وہاں تعینات اکائیوں کی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے آپریشنل لاجسٹکس کا جائزہ لیا۔
بعد میں فوج کے سربراہ نے اسپیئر کور کا دورہ کیا اور اس کی آپریشنل تیاری کا جائزہ لیا۔ سینئر کمانڈروں نے انہیں بدلتے ہوئے آپریشنل ماحول، مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل کے طریقوں اور لڑائی کے لیے تیاری کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اٹھائے جا رہے اقدامات کے بارے میں جانکاری دی۔ انہوں نے شمال مشرق میں امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دینے کے مقصد سے چلائے جا رہے کمیونٹی آؤٹ ریچ پروگرام کا بھی جائزہ لیا۔
جنرل سیٹھ نے کمانڈروں اور فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے "وجے” کے اپنے وژن کا اعادہ کیا، جو چوکسی، اختراع، مشترکات، خود کفالت اور وارئیر فرسٹ کے پانچ ستونوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصول ہندوستانی فوج کو "چست، حالات کے مطابق ڈھلنے والی اور مستقبل کے لیے تیار” رہنے میں مدد کریں گے، ساتھ ہی ‘وکست بھارت وژن 2047’ کے قومی ہدف میں اپنا تعاون دیں گے۔ فوج کے سربراہ نے مشکل علاقوں اور چیلنجنگ حالات کے باوجود پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل عمدگی کے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے پر اس علاقے میں تعینات افسران اور جوانوں کی ستائش کی۔









