چلئے صاحب کچھ لوگ ناراض ہیں ۔ناراض نہیں ، بہت ناراض ہیں ۔کسی ایک سیاسی جماعت کے کسی ایک ترجمان کا انہیں غصہ ہے ۔ غصہ شدید ہے اور اسلئے ہے کہ ان لوگوں کا جاننا اور ماننا ہے کہ ……. کہ یہ ترجمان تاریخ کے’ت‘ سے بھی واقف نہیں ہے اور چلا ہے کشمیر کے ایک تاریخی واقعے‘ ایسا واقعہ جس نے کشمیر کی تاریخ بدل کے رکھ دی اور……. اورہمیشہ ہمیشہ کیلئے بدل کے رکھ دی‘ اسی تاریخی واقعہ پر یہ ترجمان الول جلول اور بے ہنگم باتیں کررہا ہے …….اور ایسی باتیں کرکے یہ کسی او ر کو نہیں بلکہ خود کے بے نقاب کررہا ہے …….خود کو تاریخ سے نابلد ہونے کا سرٹیفکیٹ دے رہا ہے …….وہ بھی آریجنل سرٹیفکیٹ ۔ چلیں کوئی بات نہیں کہ ایسا ہو تا رہتا ہے …….اپنے کشمیر میں ایسا ہو تا رہتا ہے اور اس پر اتنا غصہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ یہ جو کم بخت تاریخ ہے بڑی ہی بے رحم ہو تی ‘ یہ کوئی پاس لحاظ نہیں رکھتی ہے ‘ یہ معاف نہیں کرتی اور جو کوئی بھی اسے مٹانے یا مسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ خود مٹ جاتا ہے‘لیکن تاریخ خود نہیں مٹتی ہے ……. بالکل بھی نہیں مٹتی ہے ۔اس لئے ان لوگوں ‘ ان حضرات سے ہماری مودبانہ گزارش ہے کہ جناب اتنا غصہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ‘ بالکل بھی نہیں ہے‘اپنا غصہ تھوک دیجئے کہ ……. کہ تاریخ بہت کچھ سکھاتی بھی ہے اور اگر یہ بے چارہ ‘ یہ ترجمان تاریخ سے ابھی کچھ نہیں سیکھا ہے تو خود سیکھ جائے گا اور سو فیصد سیکھ جائے گا ۔بس آپ شانت ہو جائیے اور اپنے کام پر لگ جائیے۔ کیوں کہ بات اس پاپی پیٹ کی ہے ‘ پیٹ کے اس دوزخ میں لگی آگ کو بھجانے کی ہے …….اور اگر اس پاپی پیٹ کی آگ کو بھجانے کیلئے اس بے چارے نے دو چار ایسی ویسی باتیں کیں، جو تاریخی اعتبار سے صحیح نہیں تھیں ،درست نہیں تھیں بلکہ غلط تھیں تو کیا اب آپ اس بے چارے کی جان لیں گے کیا ۔ کشمیر میں ایسے اور اس جیسے بہت سے کردار پہلے بھی آئے اور گئے ……. آج ان کا کوئی نام لیوا نہیں ہے۔یہ وہ تھے جب پر پیسہ پھینکا جاتا تھا اور یہ تماشا دکھاتے تھے …….’پیسہ پھینکو اور تماشا دیکھو‘ کی مثال ان پر صادق آتی تھی ‘ سو فیصد آتی تھی اور آج ان میں سے کسی کا ایڈریس تک کہیں موجود نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے ۔کم بخت تاریخ !۔ ہے نا؟



