سرینگر؍۱۵جولائی
پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) پر پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو اس وقت ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا، جب جاری احتجاجی تحریک کے ایک سرکردہ رہنما نے راولاکوٹ میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد کے مؤقف کو کھلے عام مسترد کر دیا۔
عیدگاہ گراؤنڈ میں ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کے رہنما سردار امان خان نے کہا کہ یہ خطہ نہ تو’آزاد‘ ہے اور نہ ہی ’متنازع‘، بلکہ ایک ’زیرِ قبضہ علاقہ‘ ہے۔
انہوں نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کئی دہائیوں پرانے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا’’یہ کوئی متنازع علاقہ نہیں ہے… یہ ایک مقبوضہ علاقہ ہے… اس پر قبضہ کیا گیا ہے‘‘۔
ان کے اس بیان پر جلسے کے شرکاء نے زوردار نعروں اور تالیوں کے ذریعے ردِعمل کا اظہار کیا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب راولاکوٹ میں گزشتہ۴۰ روز سے زائد عرصے سے احتجاج جاری ہے اور مظاہرین پاکستانی حکام پر علاقے میں حالات کو مزید خراب کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
سردار امان خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ تین ہفتوں سے علاقے میں خوراک اور ادویات کی فراہمی روک دی گئی ہے، جس کے باعث انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔ انہوں نے لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب رہنے والے لوگوں اور بھارت سے بھی مدد کی اپیل کی۔
رپورٹ کے مطابق احتجاجی مظاہرے اب پرتشدد صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ایک روز قبل مبینہ طور پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چھ شہری ہلاک ہو گئے۔
ہلاک ہونے والوں میں زاہد مغل، ظفر مغل، ارسلان اکبر اور واجد حیات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واجد حیات راولاکوٹ کے مٹیال میرا بس ٹرمینل پر ہلاک ہوئے، جبکہ دیگر افراد ضلع سدھنوتی میں پیش آنے والے واقعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس ماہ کے آغاز میں بھی ہزاروں مظاہرین لائن آف کنٹرول کے قریب جمع ہوئے تھے، جہاں انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔
ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران سردار امان خان نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ اگر خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی پر پابندیاں برقرار رہیں تو علاقے کے لوگ امداد کے لیے بھارت کی جانب بھی رجوع کر سکتے ہیں۔
راولاکوٹ کے حالیہ جلسے میں انہوں نے شرکاء سے سوال کیا کہ آیا انہیں لائن آف کنٹرول کی جانب مارچ کرنا چاہیے، جس پر مجمع نے بار بار نعرہ لگایا’’آگے بڑھو، لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھو‘‘۔
سردار امان خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں ہے، بلکہ پاکستان کو اس خطے کی ضرورت، اس خطے کو پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔










