ڈل‘ہوکرسر‘ مانسبل اور وولر جھیلوں کا جائزہ‘ڈل کے سنگھاڑوں میں کیڈمیم کی مقدار عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے۵ء۵گنا زیادہ
ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۴جولائی
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کشمیر کی جھیلیں، بالخصوص مشہور ڈل جھیل، بھاری دھاتوں (ہیوی میٹلز) کی آلودگی کا شکار ہو رہی ہیں اور یہ آلودگی عوام کی خوراک کے طور پر استعمال ہونے والے سنگھاڑوں (ٹرپا نیٹنس)، جنہیں مقامی زبان میں ’گور‘ کہا جاتا ہے، تک پہنچ رہی ہے۔
’سائنٹیفک رپورٹس‘ نامی بین الاقوامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ڈل جھیل، ہوکرسر ویٹ لینڈ، مانسبل جھیل اور وولر جھیل سے حاصل کیے گئے پانی، تلچھٹ (سیڈیمینٹس) اور سنگھاڑے کے پودوں کے مختلف حصوں کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں کیڈمیم ‘کرومیم ‘ تانبا ‘ کوبالٹ ‘ لوہا‘ مینگنیز ، نکل اور زنک سمیت آٹھ بھاری دھاتوں کی موجودگی کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق ڈل جھیل چاروں آبی ذخائر میں سب سے زیادہ آلودہ پائی گئی، اس کے بعد ہوکرسر ویٹ لینڈ کا نمبر آیا، جبکہ مانسبل اور وولر جھیلوں میں نسبتاً کم آلودگی ریکارڈ کی گئی۔
محققین نے بتایا کہ سنگھاڑے کے پودے کی جڑوں میں بھاری دھاتوں کی سب سے زیادہ مقدار پائی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پودا آلودہ تلچھٹ سے آلودگی جذب کرتا ہے۔ جڑوں میں لوہے کی مقدار۳۲۲ء۵۰ ملی گرام فی کلوگرام جبکہ زنک کی مقدار۸۲ء۴۵ ملی گرام فی کلوگرام ریکارڈ کی گئی۔
اگرچہ سنگھاڑے کے پھلوں میں جڑوں کے مقابلے میں دھاتوں کی مقدار کافی کم تھی، تاہم ڈل جھیل سے حاصل کیے گئے خوردنی پھلوں میں کیڈمیم کی مقدار۰ء۱۱ ملی گرام فی کلوگرام تک پائی گئی، جو عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ محفوظ حد۰ء۰۲ ملی گرام فی کلوگرام سے تقریباً۵ء۵ گنا زیادہ ہے۔
تحقیق میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ صحت کے خطرات جانچنے کے طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ڈل جھیل سے حاصل ہونے والے سنگھاڑوں کا مسلسل استعمال کیڈمیم کی موجودگی کے باعث صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ زیادہ تر بھاری دھاتوں کی سطح محفوظ حد کے اندر رہی، تاہم ڈل جھیل کے نمونوں میں کیڈمیم کی مقدار خطرناک حد سے تجاوز کر گئی۔
محققین نے اس آلودگی کی بنیادی وجوہات میں غیر تصفیہ شدہ گھریلو سیوریج، زرعی فضلہ، شہری کچرا، ہاؤس بوٹس سے خارج ہونے والا فضلہ اور دیگر انسانی سرگرمیوں کو ذمہ دار قرار دیا، جنہوں نے کشمیر کے آبی ذخائر کو شدید متاثر کیا ہے۔
تحقیق میں سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سری نگر میں روزانہ پیدا ہونے والے تقریباً۱۹۳ ملین لیٹر سیوریج میں سے۱۴۰ ملین لیٹر بغیر صفائی کے خارج ہو جاتا ہے، جس کا بڑا حصہ بالآخر ڈل جھیل میں جا پہنچتا ہے۔
پانی اور تلچھٹ کے تجزیے میں بھی ڈل جھیل میں بائیو کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ‘کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ ‘غذائی اجزاء اور بھاری دھاتوں کی بلند سطح ریکارڈ کی گئی، جو شدید نامیاتی آلودگی اور پانی کے معیار میں مسلسل گراوٹ کی نشاندہی کرتی ہے۔
تحقیق میں ایک مثبت پہلو کی بھی نشاندہی کی گئی۔ سائنس دانوں کے مطابق سنگھاڑے کا پودا اپنی جڑوں میں بھاری دھاتوں کو جذب اور محفوظ رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسے فائٹو ریمیڈی ایشن (آلودگی دور کرنے کے لیے پودوں کا استعمال) کے لیے مؤثر پودا قرار دیا جا سکتا ہے۔
تاہم محققین نے خبردار کیا کہ اگرچہ یہ پودا جھیلوں کی آلودگی کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کے خوردنی حصوں میں زہریلی دھاتوں کی موجودگی انسانی خوراک کے ذریعے صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
تحقیق کے اختتام پر سفارش کی گئی ہے کہ کشمیر کی جھیلوں کی مسلسل حیاتیاتی نگرانی (بایو مانیٹرنگ) کی جائے اور خاص طور پر ڈل جھیل جیسے آلودہ آبی ذخائر سے حاصل ہونے والے سنگھاڑوں کی باقاعدہ جانچ کی جائے تاکہ عوامی صحت کا تحفظ اور خطے کے آبی ماحولیاتی نظام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔










