ایجنسیاں
سری نگر؍ ۱۴جولائی
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (این سی) کے سینئر رہنما، سابق وزیر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر مصطفیٰ کمال منگل کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ۸۳ برس کے تھے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے شام تقریباً۵ بجے سری نگر کے ایک نجی اسپتال میں آخری سانس لی۔ وہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے چچا تھے۔
ڈاکٹر مصطفیٰ کمال غیر شادی شدہ تھے اور نیشنل کانفرنس کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا’’میرے والد کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر مصطفیٰ کمال آج شام سری نگر کے پارس اسپتال میں انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ چند ماہ سے علیل تھے، تاہم چار روز قبل ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی تھی۔ انہوں نے انتہائی حوصلے کے ساتھ بیماری کا مقابلہ کیا۔ ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور اسپتال کے عملے نے بھرپور کوشش کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ اللہ تعالیٰ میرے چچا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے‘‘۔
ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے۱۹۶۲ میں جے پور کے سوائی مان سنگھ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے ٹنگمرگ میں بطور جنرل فزیشن خدمات انجام دیتے رہے۔
ان کا سیاسی سفر۱۹۸۳ میں جموں و کشمیر قانون ساز کونسل کے رکن بننے سے شروع ہوا، جہاں وہ۱۹۸۷تک رکن رہے۔
بعد ازاں وہ۱۹۸۷ میں نیشنل کانفرنس کے ٹکٹ پر گلمرگ اسمبلی حلقہ سے کامیاب ہوئے اور اپنے مدمقابل غلام حسن میر کو شکست دی۔ وہ۲۰۰۲ تک اس حلقے کی نمائندگی کرتے رہے۔
ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے۱۹۸۳‘۱۹۸۷؍اور۱۹۹۶ میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت والی حکومتوں میں کابینہ کے مختلف اہم محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
وہ نیشنل کانفرنس کے ترجمان کی حیثیت سے بھی سرگرم رہے اور جموں و کشمیر سے متعلق مختلف سیاسی معاملات، خصوصاً۲۰۱۹میں منسوخ کیے گئے خصوصی درجے کے معاملے پر پارٹی کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرتے رہے۔
مرحوم کو آج شام آبائی مقبرہ میں سپرد خاک کیا گیا اس سے پہلے ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔










