نئی دہلی، 13 جولائی (یواین آئی) اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی ذیلی کمپنی ایس بی آئی فنڈز مینجمنٹ لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر دیباشیش مشرا نے پیر کو کہا کہ کمپنی کا ابتدائی عوامی اجرا (آئی پی او)، جو 14 جولائی کو کھل رہا ہے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے گا۔
یہاں آئی پی او کے بارے میں معلومات دینے کے لیے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مشرا نے کہا کہ کمپنی سرمایہ اکٹھا کرنے کی ضرورت کے تحت آئی پی او نہیں لا رہی، کیونکہ وہ اثاثہ جات کے انتظام کے کاروبار میں ہے اور اسے اضافی سرمایہ درکار نہیں۔ ان کے مطابق اس آئی پی او کا مقصد بازار میں اعتماد کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہاکہ "ہم بازار کو مزید رفتار دینا چاہتے ہیں، اسی لیے ہم عوامی بازار میں داخل ہو رہے ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ دیگر اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیاں پہلے ہی شیئر بازار میں درج ہیں، اس لیے ایس بی آئی فنڈز مینجمنٹ کے لیے بھی یہ اگلے مرحلے میں داخل ہونے کا ایک فطری قدم ہے۔ کمپنی کا آئی پی او 14 سے 16 جولائی تک سرمایہ کاروں کے لیے کھلا رہے گا۔ اس کے لیے فی شیئر قیمت 545 روپے سے 574 روپے کے درمیان مقرر کی گئی ہے۔
کمپنی نے آئی پی او سے قبل 30 بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو ترجیحی بنیاد پر 3.27 کروڑ سے زائد حصص الاٹ کرکے 1,880 کروڑ روپے جمع کیے ہیں۔ ان سرمایہ کاروں میں وائٹ اوک کیپیٹل، 3پی انڈیا، بینیٹ کولمین، ٹاٹا اے آئی جی جنرل انشورنس اور دیگر شامل ہیں۔ یہ حصص 574 روپے فی ایکویٹی شیئر کے حساب سے الاٹ کیے گئے۔
ترجیحی الاٹمنٹ کے بعد آئی پی او میں اب ایک روپے مالیت کے 17,09,56,631 حصص بولی کے لیے دستیاب ہوں گے۔ سرمایہ کار کم از کم 26 حصص کے لیے درخواست دے سکیں گے، اس کے بعد 26 کے مضاعف میں بولی لگائی جا سکے گی۔
پہلے سے کیے گئے الاٹمنٹ کے علاوہ کمپنی کو اس آئی پی او سے 9,317 کروڑ روپے سے 9,812 کروڑ روپے تک سرمایہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔
کل دستیاب حصص میں سے 50 فیصد تک اہل ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے مختص کیے جا سکیں گے، جبکہ کم از کم 35 فیصد حصص خردہ (ریٹیل) سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ رہیں گے۔ کمپنی کے اہل ملازمین کو فی شیئر 54 روپے کی رعایت دی جائے گی۔
ایس بی آئی فنڈز مینجمنٹ کے آئی ٹی شعبے کے سربراہ سری نواس جین نے ورچوئل انداز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی سرمایہ بازار میں ترقی کی اب بھی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کمپنی ملک کی سب سے بڑی اثاثہ جاتی انتظامی کمپنی ہے، اس کے باوجود وہ اپنی مارکیٹ شیئر میں مزید اضافہ کرنا چاہتی ہے۔










