نئی دہلی، 11 جولائی (یواین آئی) نیتی آیوگ نے ریسرچ انسٹی ٹیوٹس اور انڈسٹری کے ماہرین کے ساتھ جمعہ کے روز ‘شانتی ایکٹ، 2025’ کے نفاذ پر ایک مشاورتی اجلاس کا اہتمام کیا۔
دہلی کے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں منعقدہ اس اجلاس میں حکومت، ریسرچ انسٹی ٹیوٹس اور انڈسٹری کے ماہرین، سربراہان اور پالیسی سازوں نے ایکٹ کے آپریشنل میکانزم پر غور و خوض کیا۔ اس مشاورتی اجلاس کی صدارت پروفیسر ابھے کرندیکر (ممبر، نیتی آیوگ) نے کی۔ اجلاس میں ایم او پی کے سکریٹری پنکج اگروال، سی ای اے کے چیئرمین گھنشیام پرساد، این ٹی پی سی کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر (سی ایم ڈی) گردیپ سنگھ، نیتی آیوگ کے پروگرام ڈائریکٹر انشو بھاردواج اور نیتی آیوگ کے مشیر راجناتھ رام بھی موجود تھے۔
تکنیکی مذاکرات میں ایکٹ کے مؤثر نفاذ کے لیے تین بنیادی شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی: قانون سازی اور ریگولیٹری فریم ورک، مالیات، انشورنس اور عوامی اعتماد، نیز مینوفیکچرنگ، آپریشنز اور صلاحیت سازی۔ اجلاس کے دوران شانتی ایکٹ 2025 کے تحت آئینی تقاضوں کی تکمیل کے طریقۂ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس کے علاوہ اس بات پر بھی تبادلۂ خیال ہوا کہ ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاری کو کس طرح فروغ دیا جا سکتا ہے۔
اجلاس کے دوسرے حصے میں، اسٹیک ہولڈرز (شراکت داروں) نے ایکٹ کے نفاذ میں تعاون کے لیے ضروری مالیاتی طریقہ کار اور خطرات سے نمٹنے کے فریم ورک (رسک مٹیگیشن فریم ورک) کا جائزہ لیا۔ گفتگو میں طویل مدتی پروجیکٹوں کے لیے موزوں انشورنس انتظامات کے ساتھ ساتھ ایٹمی توانائی (نیوکلیئر انرجی) کے پروجیکٹوں کے تئیں عوامی بیداری، کمیونٹی کے اعتماد اور وسیع تر قبولیت کو مضبوط کرنے کی حکمت عملیوں پر بھی غور کیا گیا۔
مرکزی توجہ آپریشنل مرحلے پر تھی، جس میں ملکی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو مستحکم کرنے، آپریشنل تیاریوں کو یقینی بنانے اور نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ہنر مند افرادی قوت (اسکلڈ ورک فورس) تیار کرنے پر زور دیا گیا۔
اسٹیک ہولڈرز نے ان تینوں اہم شعبوں میں متنوع خیالات پیش کیے جو شانتی ایکٹ، 2025 کے نفاذ کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے میں کارآمد ثابت ہوں گے۔










