ٹرمپ نے پاکستان کی ناک کاٹ دی
بُرا ہو اس ٹرمپ ‘ڈونالڈ ٹرمپ کا۔نہ جانے یہ کس مٹی کا بنا ہے ‘ مٹی کا ہی بنا ہے یا کسی اور شئے کا ۔کسی کی نہیں سنتا ‘ بالکل بھی نہیں سنتا ۔ جو جی میں آتا ہے کرتا ہے اور جو یہ کرتا ہے وہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا ہے ……. بالکل بھی نہیں آتا ہے ۔ اسے کسی سے کوئی سرو کار نہیں ہے ‘کوئی جئے یا مرے ‘ اس کی بھلا ہے ۔ کیا ہو جاتا ،آپ ہی بتائیے کہ کیا ہو جاتا اگر ٹرمپ کچھ دن اور صبر کر لیتا ‘تھوڑا انتظار کر لیتا اور پھر جا کے ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ۔بجا دیتا ہمیں کیا ‘ ایران جانے اور امریکہ ۔ لیکن بے چارہ پاکستان تو مزید کچھ دنوں تک اس خوش فہمی میں رہتا کہ اس نے جنگ رکوا دی ‘ اس نے ٹرمپ اور ایران میں جنگ بندی کرا دی …….لیکن ٹرمپ کو پاکستان کی اتنی سی بھی خوشی برداشت نہیں ہو ئی اور اس نے آؤ دیکھا اور نہ تاؤ اور ایران پر حملے شروع کر دئے اس اعلان کے ساتھ کہ اس کے ساتھ پاکستان کی ’ثالثی‘ میں جو معاہدہ ہوا تھا اب اس کی کوئی وقعت نہیںہے ……. بالکل بھی نہیں ہے ۔ٹرمپ نے یقیناً حملہ ایران پر کیا ‘ لیکن چوٹ ……. یا پھر چوٹیں پاکستان کو لگیں ہوں گی اور سو فیصد لگیں ہوں گی ۔کہا تھا ہم نے……. ہمسایہ ملک سے کہا تھا کہ ساتویں آسمان پر اڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ جنگ تمہاری وجہ سے نہیں رکی ……. اگر یہ رکی تو اس لئے رکی کہ ٹرمپ ایسا چاہتا تھا …….اور اب ٹرمپ ایسا نہیں چاہتا ہے ‘ وہ ایران پر حملہ کرنا چاہتا ہے سو وہ حملہ کررہا ہے ……. اب دکھائے نا ،پاکستان اب حملے رکوا کے دکھائے نا ……. اب ثالثی کرکے دکھائے نا کہ اب یہ اس کے بس کا روگ نہیں ہے ۔ اسی طرح جس طرح ٹرمپ کسی کے بس کا روگ نہیں ہے اور اس لئے نہیں ہے کہ وہ جس مٹی کا بنا ہوا ہے ……. اگر وہ مٹی کا بنا ہوتو وہ مٹی یقینا ًکسی اور جہاں کی ہو گی ‘ اس جہاں کی نہیں کہ سارا جہاں بھی اگر ٹرمپ کو سمجھانے نکل پڑے گا تو وہ اسے سمجھا نہیں سکے گا ……. یہ ایک بات کہ …….کہ صاحب تمہارا کیا جاتا اگر حملے ……. ایران پر حملے تھوڑی تاخیر سے شروع کرتے اور اس وقت کا انتظار کرتے جب تمہارے اس ’ثالث‘اور ’دوست ‘ کے پاؤں زمین پر نہ آجاتے ……. حملہ کرکے تو تم نے اسے سیدھا آسمان سے نیچے زمین پر گرا دیا اور اس کی کمر توڑ دی اور ہاں ناک بھی کاٹ دی ۔ ہے نا؟




