سرینگر جموں و کشمیر کا دارالحکومت ہے، لیکن کیا یہ واقعی ایک جدید، صحت مند اور رہنے کے قابل دارالحکومت ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر شہر میں سبز رقبہ عالمی معیار سے بہت کم کیوں ہے؟ سڑکیں چوڑی ہو رہی ہیں، فٹ پاتھ اور بازار جدید بنائے جا رہے ہیں، مگر درخت کہاں ہیں؟ پارک کیوں سکڑ رہے ہیں؟ شہری منصوبہ بندی میں سبزہ آخر ترجیح کیوں نہیں؟ یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جن پر حکومت، شہری منصوبہ سازوں اور متعلقہ اداروں کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
دنیا بھر میں یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ شہر صرف عمارتوں، سڑکوں اور پلوں کا نام نہیں ہوتے بلکہ ان کی زندگی ان کے سبز علاقوں، درختوں، پارکوں، جھیلوں اور کھلی فضا سے وابستہ ہوتی ہے۔ اسی لیے اقوام متحدہ، عالمی ادارۂ صحت اور جدید شہری منصوبہ بندی کے تمام اصول اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شہری ترقی اور ماحولیاتی توازن ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔ اگر کسی شہر میں کنکریٹ بڑھتا جائے اور سبزہ کم ہوتا جائے تو وہ شہر ترقی نہیں بلکہ ماحولیاتی بحران کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔
سرینگر بدقسمتی سے اسی بحران کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہر شہری کو کم از کم نو مربع میٹر کھلا سبز رقبہ میسر ہونا چاہیے، جبکہ سرینگر میں فی کس سبز رقبہ محض۲ء۶ مربع میٹر رہ گیا ہے۔ شہری ترقی کے رہنما اصولوں کے مطابق شہر میں تقریباً۵۷۰ ہیکٹر سبز رقبہ ہونا چاہیے، لیکن دستیاب سبز رقبہ اس سے تقریباً نصف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جموں و کشمیر کا دارالحکومت اپنے شہریوں کو وہ بنیادی ماحولیاتی سہولت بھی فراہم نہیں کر پا رہا جو آج دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک کے شہر بھی فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ سرینگر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران’اسمارٹ سٹی‘ منصوبے کے تحت ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ لال چوک، ایم اے روڈ، امیرا کدل، بٹہ مالو، کرن نگر، مومن آباد اور کئی دیگر علاقوں کی نئی شکل و صورت سامنے آئی۔ فٹ پاتھ بنائے گئے، سڑکیں کشادہ کی گئیں، بازاروں کو جدید بنایا گیا اور پیدل چلنے والوں کے لیے نئی سہولتیں پیدا کی گئیں۔ ان اقدامات کی اپنی اہمیت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک اسمارٹ سٹی صرف ٹائلوں، کنکریٹ اور آرائشی لائٹوں سے بنتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ان منصوبوں میں سبزہ تقریباً غائب رہا۔ کہیں درختوں کی نئی قطاریں دکھائی نہیں دیتیں، کہیں سایہ فراہم کرنے والے مقامی درخت نہیں لگائے گئے، بلکہ متعدد مقامات پر پرانے اور تاریخی چنار بھی ترقی کے نام پر کاٹ دیے گئے۔ اگر شہر کی نئی شاہراہیں اور فٹ پاتھ گرمیوں میں پیدل چلنے کے قابل ہی نہ ہوں تو ایسی ترقی کا فائدہ عام شہری کو کس حد تک پہنچتا ہے؟
گرمیوں کے موسم میں اس حقیقت کو ہر شہری محسوس کرتا ہے۔ جون اور جولائی کی دوپہروں میں لال چوک، ایم اے روڈ یا راجباغ کے بیشتر حصوں میں پیدل چلنا دشوار ہو جاتا ہے۔ درجہ حرارت اگرچہ سرکاری ریکارڈ میں۳۲ یا۳۵ڈگری درج ہوتا ہے، لیکن کنکریٹ سے منعکس ہونے والی حرارت اس سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ شہر میں درختوں کی عدم موجودگی نے ’اربن ہیٹ آئی لینڈ‘کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے، جہاں کنکریٹ سورج کی حرارت جذب کر کے ماحول کو مزید گرم بنا دیتا ہے۔
یہ صورتحال صرف گرمی تک محدود نہیں۔ فضائی آلودگی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
طبی ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ باریک آلودہ ذرات سانس، دل اور دیگر بیماریوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اگر شہر میں زیادہ درخت ہوتے، سبز راہداریاں ہوتیں اور کھلے میدان محفوظ رہتے تو یہی قدرتی نظام آلودگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا۔
سرینگر کی بدقسمتی صرف یہ نہیں کہ نئے پارک نہیں بن رہے بلکہ پرانے پارک بھی سکڑتے جا رہے ہیں۔ پرتاپ پارک، اقبال پارک، پولو گراؤنڈ، نسیم باغ، بادام واری اور دیگر تاریخی سبز مقامات گزشتہ کئی دہائیوں میں مختلف تعمیراتی منصوبوں کی نذر ہوتے رہے ہیں۔ کہیں سرکاری عمارتیں بنیں، کہیں رہائشی کالونیاں وجود میں آئیں اور کہیں پارکوں کا بڑا حصہ دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شہر کے ’پھیپھڑے‘ آہستہ آہستہ سکڑتے چلے گئے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ سرینگر کا ماسٹر پلان شہری آبادی میں مسلسل اضافے کی پیش گوئی کرتا ہے، مگر اسی تناسب سے نئے پارکوں، شہری جنگلات اور سبز راہداریوں کی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔ اگر آج لاکھوں آبادی والے شہر میں سبز رقبہ ناکافی ہے تو آئندہ دس یا پندرہ برس بعد صورتحال کتنی سنگین ہوگی، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
دنیا کے کئی شہروں نے اس مسئلے کا کامیاب حل تلاش کیا ہے۔ سنگاپور نے خود کو’گارڈن سٹی‘ میں تبدیل کیا، حالانکہ اس کے پاس سرینگر جیسی قدرتی نعمتیں موجود نہیں تھیں۔ یورپ کے بیشتر شہروں میں ہر نئی سڑک کے ساتھ درخت لگانا قانونی تقاضا ہے۔ دریاؤں کے کناروں کو صرف پتھر اور کنکریٹ سے نہیں بلکہ مقامی درختوں اور قدرتی سبز پٹیوں سے محفوظ بنایا جاتا ہے۔ وہاں ترقی کا مطلب فطرت کو ختم کرنا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہے۔
سرینگر میں بھی یہ سب ممکن ہے، بشرطیکہ منصوبہ بندی کی ترجیحات تبدیل کی جائیں۔ شہر کے ہر نئے ترقیاتی منصوبے میں کم از کم تیس فیصد سبز رقبہ لازمی قرار دیا جائے۔ دریائے جہلم کے کناروں پر مقامی درختوں کی ہزاروں قطاریں لگائی جائیں۔ تمام نئی شاہراہوں کو سایہ دار درختوں سے آراستہ کیا جائے۔ زبروان کے دامن، شہر کے داخلی راستوں اور خالی سرکاری اراضی پر شہری جنگلات قائم کیے جائیں۔ ہر محلے میں ایسا پارک ہو جہاں بچے کھیل سکیں، بزرگ بیٹھ سکیں اور شہری صاف ہوا میں سانس لے سکیں۔
یہ ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ شہریوں کی بھی ہے۔ درخت لگانا، ان کی حفاظت کرنا، پارکوں کو محفوظ رکھنا اور غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آواز اٹھانا ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ لیکن اس عمل کی قیادت حکومت ہی کو کرنی ہوگی، کیونکہ شہری منصوبہ بندی کا اختیار اسی کے پاس ہے۔
یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ کسی شہر کی ترقی صرف اس کے فلائی اوور، سڑکوں یا عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے بھی جانچی جاتی ہے کہ وہاں رہنے والا انسان کتنی صاف ہوا میں سانس لیتا ہے، اسے کتنی آسانی سے سبز ماحول میسر آتا ہے اور اس کے بچوں کے کھیلنے کے لیے کتنی کھلی جگہ موجود ہے۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ سرینگر کو مزید کنکریٹ کا شہر بنایا جائے بلکہ اسے دوبارہ ایک سبز دارالحکومت بنایا جائے۔ ایسا دارالحکومت جہاں شہری ترقی اور قدرتی ماحول ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ساتھی ہوں۔ جہاں سڑکوں کے دونوں طرف چناروں کی قطاریں ہوں، دریائے جہلم کے کنارے گھنے درخت ہوں، ہر محلہ اپنے پارک پر فخر کرے اور ہر شہری چند منٹ کی مسافت پر کھلی، صاف اور سرسبز فضا میں سانس لے سکے۔
آخرکار سوال صرف اتنا ہے کہ اگر جموں و کشمیر کا دارالحکومت بھی اپنے شہریوں کو سبز ماحول، صاف فضا اور معیاری کھلی جگہیں فراہم نہیں کر سکتا تو پھر’اسمارٹ سٹی‘ کا تصور کس مقصد کے لیے ہے؟ ترقی کا اصل پیمانہ کنکریٹ کی مقدار نہیں بلکہ شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری ہے، اور سرینگر کے لیے اس بہتری کا آغاز درختوں، پارکوں اور ہریالی سے ہی ہوگا۔



