کانگریس کا مؤقف اصولی ہے، وزارتیں نہیں بلکہ ریاستی درجہ اولین ترجیح‘این سی حکومت کی حمایت جاری رہے گی:قرہ
(ندائے مشرق خبر)
سرینگر؍۲جولائی
جموں کشمیر کانگریس کے صدر طارق قرہ نے جمعرات کو کہا کہ جب تک جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال نہیں کیا جاتا، کانگریس عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی وزراء کونسل میں شامل نہیں ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کا یہ فیصلہ ’اصولی مؤقف‘ پر مبنی ہے۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع کے دوران کانگریس کے ممکنہ طور پر حکومت میں شامل ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں قرہ نے کہا کہ پارٹی کی ترجیح وزارتیں حاصل کرنا نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی ہے۔
کانگریسی لیڈر نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’دیکھئے، کابینہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارا مسئلہ ریاستی درجہ ہے۔ اگر ہم کابینہ سے باہر ہیں تو اس کی وجہ ہمارا اصولی مؤقف ہے۔ ہم پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ جب تک ریاستی درجہ بحال نہیں ہوتا، ہم کابینہ کا حصہ نہیں بنیں گے‘‘۔
قرہ نے مزید کہا’’تاہم ہم حکومت کی حمایت میں ہیں۔ جب بھی ہمیں محسوس ہوگا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت پر حملہ آور ہے یا حکومت کو بی جے پی کی جانب سے کوئی خطرہ لاحق ہے، اس وقت آپ کانگریس پارٹی کو نیشنل کانفرنس کے ساتھ کھڑا پائیں گے‘‘۔
ان کے یہ بیانات وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں قائم وزراء کونسل میں ممکنہ توسیع اور ردوبدل کی قیاس آرائیوں کے درمیان سامنے آئے ہیں۔
نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کی حمایت کرنے والی کانگریس مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی آئی ہے کہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ واپس دلانا اس کا سب سے اہم سیاسی مطالبہ ہے، اور اسی مقصد کی تکمیل کو حکومت میں شمولیت سے مشروط کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حال ہی میں کابینہ میں توسیع کے امکانات کا عندیہ دیا ہے۔
قرہ نے ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے پر جنتر منتر میں دھرنے میں شرکت کے لیے نیشنل کانفرنس کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس گزشتہ ایک سال سے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دلانے کی مہم کی قیادت کر رہی ہے۔
اس سوال پر کہ حکمراں نیشنل کانفرنس نے اعلان کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے انڈیا اتحاد کے ارکان اور جموں و کشمیر کی دیگر سیاسی جماعتوں کو باضابطہ دعوت دے گی، قرہ نے کہا کہ اس پیش رفت نے کانگریس کے دیرینہ مؤقف کی توثیق کر دی ہے۔
قرہ نے نامہ نگاروں سے کہا’’دیکھئے، ہم پہلے ہی جنتر منتر جا چکے ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو ایک سال پہلے ہم نے ‘سرینگر چلو ، جموں چلو اور پھر دہلی چلو کی کال دی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہمارے لیے خوشی کا مقام ہے۔ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ جو بات ہم نے ایک سال پہلے کہی، جو تحریک ہم نے ایک سال پہلے شروع کی، آج وہ لوگ بھی اس میں شامل ہو رہے ہیں جنہیں اس وقت کچھ ہچکچاہٹ تھی یا کچھ مجبوریاں تھیں۔ آج سب لوگ اسی مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے کانگریس پارٹی نے اس تحریک کا آغاز کیا تھا‘‘۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ کابینہ میں ردوبدل اور توسیع تقریباً۲۰ جولائی کے آس پاس ہو سکتی ہے۔ ان کی حکومت کی تشکیل کے بعد یہ پہلی کابینہ توسیع ہوگی۔ حکومت اکتوبر کے وسط میں اپنی دو سالہ مدت مکمل کرے گی۔
اس وقت کابینہ میں تین نشستیں خالی ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کا عمل۲۰ جولائی سے چند روز قبل یا بعد میں انجام دیا جا سکتا ہے، جب نیشنل کانفرنس کے ارکانِ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے ہیں۔
پارلیمانی ضوابط کے مطابق مرکزی حکومت اور ریاستی اسمبلیوں میں وزراء کی تعداد لوک سبھا یا متعلقہ اسمبلی کی کل تعداد کے۱۵ فیصد تک ہو سکتی ہے، تاہم مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے یہ حد اسمبلی کی کل تعداد کے۱۰فیصد تک مقرر کی گئی ہے۔
اسی بنیاد پر عمر عبداللہ کی حکومت میں وزیر اعلیٰ سمیت زیادہ سے زیادہ نو وزراء ہو سکتے ہیں کیونکہ جموں و کشمیر اسمبلی کے ارکان کی تعداد۹۰ہے۔ اس وقت وزیر اعلیٰ کے علاوہ کابینہ میں صرف پانچ وزراء شامل ہیں، اس طرح تین نشستیں خالی ہیں، بشرطیکہ موجودہ وزراء میں سے کسی کو برطرف نہ کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ کے علاوہ صحت، طبی تعلیم، تعلیم اور سماجی بہبود کی وزیر سکینہ ایتو اور زراعت، دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے وزیر جاوید ڈار کشمیر ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری، جل شکتی، آبپاشی، فلڈ کنٹرول اور جنگلات کے وزیر جاوید رانا اور ٹرانسپورٹ و کھیلوں کے وزیر ستیش شرما جموں ڈویژن سے ہیں۔
ستیش شرما چھمب سے آزاد رکن اسمبلی ہیں جبکہ باقی پانچوں وزراء نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھتے ہیں۔
اگرچہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے اسمبلی انتخابات قبل از انتخاب اتحاد کے طور پر مل کر لڑے تھے، لیکن وزراء کونسل میں کانگریس کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔۹۰رکنی اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کے۴۱ جبکہ کانگریس کے۶؍ ارکان ہیں۔ سی پی آئی (ایم) کے واحد رکن اسمبلی ایم وائی تاریگامی اور پانچ آزاد ارکان بھی اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کی حمایت کرتے ہیں، جہاں اکثریت کے لیے۴۶؍ارکان درکار ہیں۔
کابینہ میں توسیع کے ساتھ ساتھ عمر عبداللہ کی سربراہی والی وزراء کونسل میں قلمدانوں میں ردوبدل بھی متوقع ہے۔تمام پانچ وزراء اس وقت تین سے چار محکموں کے قلمدان سنبھال رہے ہیں۔ خود وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے پاس بھی مالیات، مالگزاری، ہاؤسنگ و شہری ترقی، سیاحت، جنرل ایڈمنسٹریشن سمیت متعدد اہم محکمے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے’’اگر موجودہ وزراء میں سے کسی کو نہیں ہٹایا جاتا تو عمر عبداللہ زیادہ سے زیادہ تین نئے وزراء کو شامل کر سکتے ہیں، جس کے بعد کابینہ کی مجموعی تعداد نو ہو جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا کانگریس کو وزارت میں جگہ دی جاتی ہے یا نہیں‘‘۔
عمر عبداللہ نے۳ جون کو داچھی گام میں پارٹی کے ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کیا تھا، جس میں چار آزاد ارکان اسمبلی اور سی پی آئی (ایم) کے واحد رکن اسمبلی بھی شریک ہوئے تھے، تاہم کانگریس کو اس اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق بعض ارکان اسمبلی نے فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم اور دیگر معاملات پر چند وزراء کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
نیشنل کانفرنس کے۴۱؍ ارکان اسمبلی میں سے صرف سات جموں ڈویژن سے ہیں، جن میں رام بن، پونچھ اور راجوری اضلاع سے دو، دو جبکہ ریاسی ضلع سے ایک رکن شامل ہے۔ پارٹی کے باقی۳۴؍ارکان کشمیر ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں۔ کانگریس کے چھ ارکان اسمبلی میں سے پانچ کشمیر اور ایک جموں سے ہے۔ تاہم جموں ڈویژن کے چار آزاد ارکان اسمبلی پیارے لال شرما (اندروال)، رامیشور سنگھ (بانی)، چودھری اکرم (سرنکوٹ) اور مظفر خان (تھنہ منڈی) بھی نیشنل کانفرنس کی حمایت کر رہے ہیں۔
ذرائع نے مزید کہا’’۲۰جولائی کے آس پاس ہونے والی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کے بعد نئے وزراء کو ستمبر میں متوقع اسمبلی اجلاس سے قبل خود کو ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کم از کم دو ماہ کا وقت مل جائے گا۔‘‘









