امرناتھ یاترا:
امن، عقیدت اور کشمیریت کی زندہ روایت
آج سے شری امرناتھ جی یاترا کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے عقیدت مندوں کے پہلے قافلے کو روانہ کریں گے، جو بعد ازاںیاتری ننون،پہلگام اور بالتل کے دونوں راستوں سے مقدس گھپا کی جانب اپنے روحانی سفر کا آغاز کریں گے۔ تقریباً ستاون روز جاری رہنے والی یہ یاترا محض ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی صدیوں پر محیط تہذیبی روایات، مذہبی رواداری، باہمی اعتماد اور انسان دوستی کی ایک روشن علامت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال لاکھوں عقیدت مند بابا برفانی کے درشن کے لیے یہاں آتے ہیں اور کشمیر کی سرزمین ایک مرتبہ پھر مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والوں کے ملاپ کا حسین منظر پیش کرتی ہے۔
اس سال کی یاترا ایک ایسے ماحول میں شروع ہو رہی ہے جب گزشتہ برس بائسرن میں پیش آنے والے دہشت گردانہ حملے کی تلخ یادیں ابھی تازہ ہیں۔ اس افسوسناک واقعے نے جہاں سکیورٹی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کی، وہیں حکومت اور سیکورٹی اداروں کے لیے اس مقدس یاترا کے محفوظ انعقاد کو ایک بڑا امتحان بھی بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ فوج، نیم فوجی دستوں، جموں و کشمیر پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سول انتظامیہ کے درمیان مربوط تعاون کے ذریعے یاترا کے پورے راستے کو حفاظتی حصار میں لیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا امکان باقی نہ رہے۔
تاہم امرناتھ یاترا کی کامیابی کا راز صرف سیکورٹی انتظامات میں پوشیدہ نہیں بلکہ اس میں کشمیری عوام، بالخصوص مقامی مسلمانوں کے تاریخی کردار کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے۔ صدیوں سے جب بھی یاترا کا موسم آتا ہے، کشمیر کے پہاڑ، وادیاں اور بازار عقیدت مندوں کے استقبال کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ہزاروں مقامی مسلمان گھوڑے بان، پالکی بردار، مزدور، دکاندار، ٹیکسی ڈرائیور، ہوٹل مالکان اور رضاکار کے طور پر یاتریوں کی خدمت میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے یہ صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے، جسے وہ ہمیشہ خندہ پیشانی سے نبھاتے آئے ہیں۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ امرناتھ یاترا کے قدیم ادوار میں آج جیسی سرکاری سہولیات موجود نہیں تھیں۔ اس وقت یاتریوں کی رہنمائی، قیام و طعام، راستوں کی نشاندہی اور دیگر ضروریات کا زیادہ تر انحصار مقامی آبادی پر ہوتا تھا۔ کشمیری مسلمان نہ صرف یاتریوں کی حفاظت کرتے بلکہ شدید برف باری، بارش اور دشوار گزار راستوں میں ان کی جانیں بچانے تک کے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔ اسی روایت نے کشمیر کو ہمیشہ مذہبی ہم آہنگی اور انسان دوستی کی مثال بنایا۔
آج اگرچہ حکومت نے یاترا کے لیے جدید انفراسٹرکچر، بہتر طبی سہولیات، مواصلاتی نظام، کنٹرول روم، نگرانی کے جدید آلات اور مضبوط سیکورٹی کا بندوبست کیا ہے، لیکن مقامی لوگوں کی خدمات کی اہمیت آج بھی کم نہیں ہوئی۔ بالخصوص پہلگام اور بالتل کے علاقوں میں ہزاروں خاندانوں کی سالانہ آمدنی کا ایک بڑا حصہ اسی یاترا سے وابستہ ہے۔ گھوڑے، پالکیاں، خیمے، ہوٹل، ریستوران، دکانیں، ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروبار مقامی معیشت کو نئی زندگی دیتے ہیں۔ اس اعتبار سے امرناتھ یاترا صرف مذہبی سرگرمی نہیں بلکہ وادی کی معیشت کا بھی ایک اہم ستون ہے۔
یہ بات قابل اطمینان ہے کہ بائسرن حملے کے باوجود ملک بھر سے عقیدت مندوں کے جوش و خروش میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی۔ اگرچہ ابتدائی دنوں میں رجسٹریشن کی رفتار نسبتاً سست رہی، لیکن گزشتہ چند دنوں میں اس میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ لاکھوں یاتریوں کی آن لائن رجسٹریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی اپنے مذموم عزائم میں ایک بار پھر ناکام رہی ہے۔ خوف اور تشدد کبھی بھی عقیدت اور ایمان پر غالب نہیں آسکتے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حال ہی میں کشمیر کی سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور مختلف مذہبی و سماجی تنظیموں سے ملاقات کے دوران بجا طور پر کہا کہ امرناتھ یاترا دراصل جموں و کشمیر کے مشترکہ مستقبل، سماجی ہم آہنگی اور عوامی شراکت داری کی علامت ہے۔ ان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ اس مقدس یاترا کی کامیابی صرف حکومت یا سیکورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری اس کا برابر کا شریک ہے۔ یہی اجتماعی سوچ اس یاترا کو منفرد بناتی ہے۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ بارڈر روڈس آرگنائزیشن نے اس سال یاترا کے دونوں راستوں پر بڑے پیمانے پر تعمیراتی اور مرمتی کام مکمل کیے ہیں۔ کئی کلومیٹر سڑکوں کو چوڑا کیا گیا ہے، حفاظتی دیواریں تعمیر کی گئی ہیں اور دشوار گزار مقامات کو نسبتاً محفوظ بنایا گیا ہے۔ اگرچہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اس سال ہیلی کاپٹر سروس دستیاب نہیں ہوگی، تاہم زمینی راستوں پر بہتر سہولیات اس کمی کو کسی حد تک پورا کریں گی۔
دوسری جانب یہ بھی ضروری ہے کہ یاترا کے دوران ماحولیات کے تحفظ کو ہرگز نظر انداز نہ کیا جائے۔ امرناتھ گھپا اور اس کے گرد و نواح کا پورا علاقہ انتہائی حساس ماحولیاتی خطہ ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد کی آمد سے کچرے، پلاسٹک، آلودگی اور قدرتی وسائل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اگر یاتری، انتظامیہ اور مقامی لوگ مشترکہ طور پر صفائی، ماحول دوستی اور قدرتی حسن کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھیں تو یہ مقدس مقام آئندہ نسلوں کے لیے بھی محفوظ رہ سکتا ہے۔
اسی طرح ہجوم کے بہتر انتظام، صحت کی سہولیات، موسمی خطرات سے نمٹنے، مواصلاتی رابطوں اور ہنگامی امدادی نظام کو بھی مسلسل مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ برسوں کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ اچانک موسم کی خرابی، لینڈ سلائیڈنگ یا دیگر قدرتی آفات کسی بھی وقت مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ اس لیے پیشگی تیاری اور بروقت ردعمل ہی کامیاب انتظامیہ کی پہچان ہے۔
امرناتھ یاترا کشمیر کی اس تہذیبی شناخت کا بھی اظہار ہے جسے دنیا’کشمیریت‘ کے نام سے جانتی ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جو مذہبی احترام، برداشت، انسان دوستی اور باہمی تعاون کی تعلیم دیتا ہے۔ جب ایک مسلمان یاتری کا سامان اپنے کندھوں پر اٹھاتا ہے، جب مقامی دکاندار عقیدت مندوں کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتا ہے، جب مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرتے ہیں، تو یہی مناظر کشمیر کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ یاترا کو سیاست، نفرت اور فرقہ وارانہ تعصب سے دور رکھا جائے۔ اسے مذہبی آزادی، آئینی حقوق، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے جذبے کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔ دہشت گردی کا مقصد ہمیشہ خوف پیدا کرنا اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا رہا ہے، لیکن جب کشمیری عوام اور ملک بھر سے آنے والے عقیدت مند محبت، اعتماد اور بھائی چارے کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں تو دہشت گردی کی پوری سوچ خود بخود شکست کھا جاتی ہے۔
امید کی جا سکتی ہے کہ اس سال بھی امرناتھ یاترا مکمل امن، بہتر انتظامات اور عوامی تعاون کے ماحول میں اپنے اختتام کو پہنچے گی۔ اگر یہی جذبہ برقرار رہا تو نہ صرف لاکھوں عقیدت مند روحانی سکون کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹیں گے بلکہ کشمیر ایک بار پھر پوری دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ یہ سرزمین محبت، مہمان نوازی، مذہبی رواداری اور انسانیت کے احترام کی امین ہے۔ یہی امرناتھ یاترا کا اصل پیغام ہے اور یہی کشمیر کی دائمی پہچان بھی۔



