پی ڈی پی صدرمحبوبہ کا حکومت اور پولیس میں ملی بھگت کا الزام
سرینگر؍۳۰ جون
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے منگل کو الزام عائد کیا کہ ان کی جماعت کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو مبینہ ’بیک ڈور‘ تقرریوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو ناکام بنانے کے لیے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔
محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جب بھی جوابدہی کا سوال اٹھتا ہے تو نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ قرار دیتی ہے کہ پولیس محکمہ اس کے اختیار میں نہیں ہے، لیکن جب نوجوان ریزرویشن کی معقول تقسیم یا بیک ڈور تقرریوں کے خلاف پرامن انداز میں اپنی آواز بلند کرتے ہیں تو یہی حکومت پولیس کے ساتھ مکمل تال میل کے ذریعے ہر جمہوری احتجاج کو کچلنے میں سرگرم ہو جاتی ہے۔
پی ڈی پی سربراہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت کی ’دوہری پالیسی‘ پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے، کیونکہ سرکاری ملازمتوں کو آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کے ذریعے پُر کرنے کے خلاف پرامن احتجاج روکنے کے لیے وادی بھر میں پی ڈی پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو گھروں میں نظر بند کیا گیا۔
محبوبہ نے مزید کہا کہ حکومت کی یہ مبینہ دوغلی پالیسی اس وقت بھی سامنے آتی ہے جب ہاؤسنگ، ریونیو اور جنگلات جیسے محکمے انسدادِ تجاوزات مہم کے نام پر غریب اور کمزور طبقے کے لوگوں کے مکانات مسمار کرنے کے لیے پولیس کی مدد فوری طور پر حاصل کر لیتے ہیں۔
واضح رہے کہ پی ڈی پی نے الزام عائد کیا ہے کہ نیشنل کانفرنس حکومت نے مختلف محکموں میں آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کے ذریعے بیک ڈور تقرریاں کی ہیں۔
تاہم اتوار کے روز وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے وزراء سکینہ ایتو اور جاوید ڈار کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
ادھر سری نگر کے پریس انکلیو میں پولیس نے مبینہ بیک ڈور تقرریوں کے خلاف پی ڈی پی کے احتجاجی مارچ کو ناکام بنا دیا۔
پارٹی کی کال پر وادی کے مختلف علاقوں سے پی ڈی پی کے متعدد رہنما اور کارکن احتجاج کے لیے پریس انکلیو پہنچے تھے، تاہم پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا اور احتجاجی مظاہرہ نہیں ہونے دیا۔ایجنسیاں










