وزیر اعلیٰ کاپہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول جموں و کشمیر کی تیاریوں کا جائزہ‘ ستمبرمیں چار روزہ تقریب منعقد کرنے کی تجویز
سرینگر؍۳۰ جون
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو جموں و کشمیر کے پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے ۲۰۲۶) کی تیاریوں کا جائزہ لیا، جسے خطے کی فلمی وراثت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ایک تاریخی پہل قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں فلم فیسٹیول کے وژن، فلموں کی نمائش اور پروگرامنگ، برانڈنگ، ڈیجیٹل تشہیر، فلمی صنعت کے ساتھ شراکت داری اور بین الاقوامی شرکت سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
سرکاری ترجمان کے مطابق، ڈائریکٹر اطلاعات و تعلقات عامہ شریا سنگھل نے فیسٹیول کے پہلے ایڈیشن کے مجوزہ خاکے پر مشتمل ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی۔
تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ فلم فیسٹیول کو ایک ایسے عالمی شہرت یافتہ سینمائی ایونٹ کی شکل دی جانی چاہیے جو بہترین کہانیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے دلکش قدرتی مناظر، بھرپور ثقافتی ورثے، فنی روایات اور ابھرتی ہوئی تخلیقی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرے۔
عمرعبداللہ نے زور دیا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک پیشہ ورانہ انداز میں فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے تاکہ دنیا بھر کے ممتاز فلم ساز، پروڈیوسر، فنکار اور سینما سے وابستہ افراد اس میں شرکت کریں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس تقریب کو محض ایک فلم فیسٹیول کے طور پر نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے لیے ایک اہم ثقافتی اور معاشی پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ اس سے سیاحت، سرمایہ کاری، روزگار اور تخلیقی معیشت کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ جموں و کشمیر کی فلم سازی، تخلیقی سرگرمیوں اور فلمی سیاحت کے لیے بھارت کی پسندیدہ منزل کی حیثیت بھی مزید مستحکم ہوگی۔
مقامی تخلیقی ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے ہدایت دی کہ مقامی فلم سازوں، مصنفین، ہدایت کاروں، اداکاروں، سینماٹوگرافرز، تکنیکی ماہرین، فوٹوگرافرز، ڈیزائنرز، دستکاروں، ہنرمندوں اور دیگر تخلیقی شخصیات کو نمائشوں، کاروباری سرگرمیوں اور نیٹ ورکنگ کے مواقع کے ذریعے اس فلم فیسٹیول کا بامعنی حصہ بنایا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے منتظمین کو یہ بھی ہدایت دی کہ مقامی صلاحیتوں اور قومی و بین الاقوامی شہرت یافتہ فلم سازوں، پروڈیوسروں، ہدایت کاروں، اداکاروں اور فلمی صنعت کے ماہرین کے درمیان ماسٹر کلاسز، مکالماتی نشستوں، ورکشاپس، پینل مباحثوں، رہنمائی پروگراموں اور علم کے تبادلے کے ذریعے منظم رابطے قائم کیے جائیں۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ ایسے پروگراموں سے جموں و کشمیر کے نوجوان اور ابھرتے ہوئے فلمی شعبے سے وابستہ افراد کو عالمی معیار کی مہارت، تکنیکی تربیت اور بین الاقوامی روابط حاصل ہوں گے، جس سے فلم سازی کے میدان میں جدت اور معیار کو فروغ ملے گا۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی تجویز دی کہ فلم فیسٹیول میں ایک خصوصی شعبہ قائم کیا جائے جس میں ان ممتاز اداکاروں، فلم سازوں، ہدایت کاروں، پروڈیوسروں، سینماٹوگرافرز، موسیقاروں اور دیگر فلمی شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جموں و کشمیر میں یادگار فلمیں بنا کر اس کی فلمی روایت کو زندہ رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی شخصیات کو اعزاز سے نوازنے سے بھارتی سینما کے ساتھ کشمیر کے تاریخی تعلق کو مزید تقویت ملے گی اور فلمی صنعت اور جموں و کشمیر کے درمیان نئے تعاون کی راہیں ہموار ہوں گی۔
وزیر اعلیٰ نے اس فیسٹیول کی وسیع ترقیاتی صلاحیتوں پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی دستکاروں، ہنرمندوں، صنعت کاروں، کاروباری افراد اور سیاحت کے شعبے سے وابستہ لوگوں کے لیے بھی بامعنی مواقع پیدا ہونے چاہئیں تاکہ اس کے فوائد صرف فلمی صنعت تک محدود نہ رہیں۔
عمرعبداللہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ اس فیسٹیول کو جموں و کشمیر کی فنکارانہ، ثقافتی اور کاروباری صلاحیتوں کا ایک جامع جشن بنایا جائے۔
مجوزہ فلم فیسٹیول میں بین الاقوامی مقابلہ، بھارتی سینما، دستاویزی فلمیں، مختصر فلمیں، طلبہ کی فلمیں، اینی میشن، علاقائی سینما، انڈسٹری فورمز، ورکشاپس اور ثقافتی پروگرام شامل ہوں گے۔
چار روزہ اس فلم فیسٹیول کے ستمبر۲۰۲۶میں انعقاد کی تجویز ہے، جس کے دوران مختلف مقامات پر فلموں کی نمائش کی جائے گی تاکہ فلم سازوں، مندوبین اور شائقینِ سینما کو ایک منفرد اور جامع تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
۔۔۔۔۔










