سرینگر؍۳۰ جون
شری امرناتھ یاترا سے قبل سیکورٹی ایجنسیوں نے منگل کے روز تمام متعلقہ اداروں کی شمولیت سے ایک جامع فل اسکیل موک ڈرل (فرضی مشق) کا انعقاد کیا تاکہ یاترا کے لیے وضع کیے گئے کثیر سطحی حفاظتی نظام کی مؤثریت کا عملی جائزہ لیا جا سکے۔
پولیس نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد تمام سیکورٹی اہلکاروں کی تیاری، باہمی رابطے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کو جانچنا تھا۔
۵۷ روزہ سالانہ شری امرناتھ یاترا کا آغاز۳ جولائی کو ہوگا۔ یاتری۳۸۸۰ میٹر بلند مقدس امرناتھ غار تک دو راستوں سے روانہ ہوں گے، جن میں ضلع اننت ناگ کا روایتی۴۸ کلومیٹر طویل ننون۔پہلگام راستہ اور ضلع گاندربل کا نسبتاً مختصر مگر دشوار گزار۱۴ کلومیٹر طویل بالتل راستہ شامل ہے۔ یاتریوں کا پہلا قافلہ۲ جولائی کو جموں کے بھگوتی نگر یاتری نواس سے روانہ ہوگا۔
آئی جی پی کشمیر زون وی کے بردی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جموں و کشمیر پولیس نے یاترا کے لیے کثیر سطحی سیکورٹی انتظامات نافذ کیے ہیں۔
بردی نے کہا’’ہم فل ڈریس ریہرسل اور موک ڈرل کا انعقاد کر رہے ہیں تاکہ تمام سیکورٹی اہلکار اپنے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے مکمل طور پر واقف ہوں۔ اگر کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال پیش آتی ہے تو تمام سیکورٹی فورسز اس سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں‘‘۔
بردی نے کہا کہ علاقے کی نگرانی کے لیے بلند مقامات پر خصوصی نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کا فوری پتہ چلایا جا سکے اور بروقت کارروائی ممکن ہو۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
آئی جی پی کشمیر کے مطابق اس مرتبہ بھی جموں و کشمیر پولیس نے یاترا کے تمام راستوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کا ایک مربوط نیٹ ورک نصب کیا ہے، جن میں چہرہ شناخت (ریکگنیشن) کی جدید سہولت موجود ہے۔ اگر کوئی مشتبہ شخص یا عنصر نظام میں داخل ہوتا ہے تو یہ کیمرے فوری طور پر اس کی نشاندہی کریں گے، جس کے بعد تعینات سیکورٹی اہلکار فوری کارروائی کر سکیں گے۔
قدرتی آفات سے متعلق خدشات پر بات کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہا کہ بالائی علاقوں میں موسمی تبدیلیوں اور قدرتی خطرات کے پیش نظر بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
بردی نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) جموں و کشمیر پولیس، نیم فوجی دستوں اور ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کے ساتھ مشترکہ مشقیں منعقد کرتی ہے، جن میں لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور گلیشیئر سے متعلق حساس مقامات کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ انہی جائزوں کی بنیاد پر ماؤنٹین ریسکیو ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی موسمی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔
آئی جی پی نے یاتریوں سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سفری اوقات اور ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
انہوں نے کہا’’میری تمام یاتریوں سے گزارش ہے کہ روانگی سے قبل مقررہ اوقات اور کٹ آف ٹائمنگ سے ضرور آگاہ رہیں اور اسی کے مطابق اپنے سفر کی منصوبہ بندی کریں۔ اس کا مقصد یاتریوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بلا رکاوٹ اور محفوظ سفر کر سکیں‘‘۔
ادھر ایس ایس پی سری نگر جی وی سندیپ چکرورتی نے بتایا کہ سری نگر پولیس نے سول محکموں، سیکورٹی ونگ، ٹریفک پولیس، نیم فوجی دستوں، محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) اور دیگر متعلقہ اداروں کے اشتراک سے ایک جامع موک ڈرل انجام دی۔
چکرورتی نے کہا’’اس مشق کا بنیادی مقصد ہماری سیکورٹی فورسز کی ہنگامی ردعمل، تیاری اور باہمی رابطے کے نظام کا عملی جائزہ لینا ہے۔ آج سری نگر کے مختلف اہم مقامات پر مختلف فرضی حالات پیدا کرکے ان سے نمٹنے کی مشق کی جا رہی ہے، جس سے ہماری تیاری، رابطہ کاری اور ردعمل کی صلاحیت کا حقیقی اندازہ ہوگا۔‘‘
۔۔۔۔










