یہ ایک تاریخی سنگ میل ہے دہشت گردی کے ملزمان کو وقت کبھی قانون کی گرفت سے نہیں بچا سکتا:ایس آئی اے
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۹ جون
ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے پیر کے روز۱۹۹۰ میں کشمیری پنڈت نوجوان نرس سرلا بھٹ کے اغوا اور بہیمانہ قتل کے مقدمے میں کالعدم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک کو مرکزی ملزم نامزد کرتے ہوئے۷۳۷صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کی۔
ایجنسی نے اسے دہشت گردی کے متاثرین کو انصاف دلانے کی سمت میں ایک ’تاریخی سنگ میل‘ قرار دیا ہے۔
ایس آئی اے، جس نے۲۰۲۴ میں یہ مقدمہ اپنے سپرد کیے جانے کے بعد دوبارہ تحقیقات شروع کی تھی، نے نامزد این آئی اے عدالت، سری نگر میں چارج شیٹ پیش کی۔ یہ کارروائی سرلا بھٹ کے قتل کے تقریباً۳۶ برس بعد عمل میں آئی۔ سرلا بھٹ، جو شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اسکمز) صورہ میں نرس کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھیں، اپریل۱۹۹۰ میں لاپتہ ہو گئی تھیں۔ ان کی لاش اگلے روز شہر سری نگر کے قدیم علاقے میں، اس مقام سے کئی کلومیٹر دور برآمد ہوئی تھی۔
یاسین ملک، جو اس وقت جے کے ایل ایف کے خود ساختہ چیف کمانڈر تھے، کے علاوہ ان کے چار ساتھیوں خورشید احمد چلکو، عبد الحمید شیخ، غلام محمد ٹپلو اور محمد یوسف صوفی کو بھی مقدمے میں ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق خورشید احمد چلکو کشمیر سے فرار ہو کر پاکستان میں مقیم ہے۔
تمام ملزمان کے خلاف دہشت گردانہ اور تخریبی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون (ٹاڈا)۱۹۸۷؍اور بھارتی اسلحہ قانون۱۹۵۹ کی مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ایس آئی اے نے ایک بیان میں کہا کہ وقت کبھی بھی دہشت گردی کے لیے ڈھال نہیں بن سکتا اور دہشت گردانہ مظالم کے ذمہ دار عناصر قانون کے سامنے جوابدہ رہیں گے، چاہے کتنے ہی برس کیوں نہ گزر جائیں۔
یہ مقدمہ مارچ۲۰۲۴میں ایس آئی اے کے سپرد کیا گیا تھا، جس کے بعد ایجنسی نے گزشتہ دو برسوں کے دوران مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور شواہد جمع کر کے چارج شیٹ تیار کی۔
ایس آئی اے کے ترجمان کے مطابق۷۳۷ صفحات پر مشتمل یہ جامع چارج شیٹ طویل اور باریک بینی سے کی گئی تحقیقات کا نتیجہ ہے، جس میں زبانی گواہیوں، دستاویزی ثبوت، فارنسک شواہد، بیلسٹک رپورٹ، طبی ریکارڈ اور الیکٹرانک شواہد کو یکجا کیا گیا ہے۔ ان تمام شواہد کا کئی دہائیوں پر محیط ریکارڈ کی روشنی میں تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ تقریباً۳۵ برس بعد چارج شیٹ کا عدالت میں پیش کیا جانا دہشت گردی کے متاثرین کو انصاف دلانے کی کوششوں میں ایک تاریخی سنگ میل ہے اور جموں و کشمیر میں ماضی کے دہشت گردانہ جرائم کی تحقیقات میں سب سے اہم پیش رفت میں شمار کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس چارج شیٹ سے ایک واضح اور دوٹوک پیغام جاتا ہے کہ وقت کبھی بھی دہشت گردی کے لیے ڈھال نہیں بن سکتا۔ خواہ کتنے ہی برس گزر جائیں، دہشت گردانہ جرائم کے مرتکب افراد قانون کے سامنے جوابدہ رہیں گے۔
ترجمان کے مطابق اس مقدمے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگرچہ دہشت گردی خوف، دھمکی اور تشدد کے ذریعے انصاف میں تاخیر پیدا کر سکتی ہے، لیکن وہ قانون کی حکمرانی کو ہمیشہ کے لیے شکست نہیں دے سکتی۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس وقت کے جے کے ایل ایف چیف کمانڈر محمد یاسین ملک نے خورشید احمد چلکو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے ساتھ مل کر سرلا بھٹ کے اغوا اور بہیمانہ قتل کی منصوبہ بندی کی اور اس پر عمل درآمد کیا۔
ترجمان نے بتایا کہ عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کا انتقال ہو چکا ہے، جبکہ محمد یاسین ملک ایک دوسرے مقدمے میں اس وقت عدالتی حراست میں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مفرور دہشت گرد خورشید احمد چالکو، جسے فائرنگ کر کے قتل انجام دینے والا شخص قرار دیا گیا ہے، کے خلاف اشتہاری کارروائی سمیت قانونی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔










