چلئے صاحب اس گرما گرم موسم میں اپنے کشمیر میں بہت کچھ گرم ہے‘ یا گرم ہو رہا ہے ۔مراج تو ہم سب کے پہلے سے ہی گرماگرم تھے لیکن اب سیاست بھی گرما گرم ہو رہی ہے اور اللہ میاں کی قسم سیاستدان بھی ۔ اچھا ہے …….بہت ہی اچھا ہے کہ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ‘ لیکن ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس گرما گرم موسم میں جب سیاست اور سیاستدان بھی گرماگرم ہوجائیں گے تو درجہ حرارت مزید بڑھ جائے گا ……. آپ کو مزید گرمی برداشت کرنی پڑے گی ۔ہم تو صاحب امید کرتے ہیں کہ آپ اتنا تو برداشت کرہی لیں گے کہ اس کے بدلے میں آپ کو جو انٹر نینمنٹ ملے گی ‘ آپ کی جو تفریح ہو گی ‘ اس کی کوئی قیمت نہیں ‘ وہ انمول ہے اور سو فیصد ہے ۔ تو صاحب قصہ یوں ہے کہ ……. کہ پی ڈی پی کا جاننا اور ماننا ہے کہ این سی دور حکومت میں ۲۵ ہزار اسامیوں ‘ سرکاری اسامیوں کو آؤٹ سورس کیا گیا ہے ۔لیکن این سی ہے کہ وہ یہ سب ماننا تو دور کی بات ہے ‘ سننے کیلئے بھی تیار نہیں ہے اور اس نے میان سے ساری کی ساری تلواریں باہر نکالتے ہو ئے پی ڈی پی پر پلٹ وار کرتے ہو ئے کہا کہ اصل میںیہ پی ڈی پی تھی جس نے اپنے ودر اقتدار میں جموںکشمیر بینک اور کے وی بی پی میں تقرریوں کے نام پر کیا کیا نہیں کیا‘وہ سب بھی کیا جو آپ تک کسی نے نہیں کیا ۔ این سی نے پی ڈی پی کو ایک بھی آؤٹ سورس تقرری کا ثبوت فراہم کرنے کا چیلنج کیا ہے ۔اس سے پہلے کہ پی ڈی پی اس چیلنج کو قبول کرتی …….بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ اپنے لون صاحب ‘ سجاد غنی لون صاحب بن گئے اور انہوں نے پھٹے میں ٹانگ ڈالتے ہو ئے کہا کہ وہ سات دنوں میں ثبوت دیں گے ۔کمال ہے کہ این سی نے پی ڈی پی سے ثبوت مانگے تھے اور ثبوت دینے کی بات سجاد لون صاحب کررہے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے کہ پی ڈی پی خاموش بیٹھے گی ‘ نہیں صاحب ایساہو نہیں سکتا ‘ بالکل بھی نہیں ہو سکتا ہے ۔وہ تیاری کررہی ہوگی ‘ وہ تیاریوں میں جٹ گئی ہو گی …….کیوں اب اس کی باری ہے ‘ ثبوت فراہم کرنے کی باری نہیں بلکہ این سی کو ننگا کرنے کی باری کہ کشمیرکی سیاسی جماعتیں تو یہیں کرتی آئی ہیں ستھر‘ اَسی سالوں سے کرتیں آئی ہیں ……. ایک دوسرے کو ننگا کرتی آئی ہیں ۔ ہے نا؟




