جموں و کشمیر میں کھیلوں کے نئے دور کا آغاز
جموں و کشمیر میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت میں حکومت ہند کی جانب سے وادیٔ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ میں جموں و کشمیر کے پہلے نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس (NCOE) کے قیام کی منظوری ایک تاریخی اور دور رس اہمیت کا حامل فیصلہ ہے۔ یہ ایک ایسا قومی ادارہ ہوگا جو جموں و کشمیر کو کھیلوں کے میدان میں نئی شناخت دینے، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر برائے امور نوجوانان و کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ کی منظوری سے قائم ہونے والا یہ منصوبہ اس بات کا مظہر ہے کہ جموں و کشمیر کو کھیلوں کی ترقی کے قومی نقشے پر نمایاں مقام دلانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔
جموں و کشمیر قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ ایسے جغرافیائی اور موسمی حالات کا حامل خطہ ہے جو بلند پہاڑی علاقوں میں کھیلوں کی تربیت کے لیے نہایت موزوں مانے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہائی آلٹی ٹیوڈ ٹریننگ کو کھلاڑیوں کی قوتِ برداشت، جسمانی صلاحیت اور کارکردگی بہتر بنانے کا بہترین ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ اونتی پورہ میں قائم ہونے والا نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس انہی قدرتی خصوصیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پورے ملک کے کھلاڑیوں کے لیے ایک مثالی تربیتی مرکز بن سکتا ہے۔ جدید ایتھلیٹکس ٹریک، فٹ بال اور ہاکی ٹرف، شوٹنگ رینج، سوئمنگ پول، انڈور اسٹیڈیم، سپورٹس سائنس سینٹر، اسپورٹس میڈیسن سینٹر، بحالی مراکز، ہاسٹل اور دیگر عالمی معیار کی سہولیات اس مرکز کو ملک کے بہترین کھیل اداروں کی صف میں لا کھڑا کریں گی۔
اس منصوبے کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ سرکاری سطح پر متعدد نئے اسٹیڈیم، انڈور اسپورٹس ہال، مصنوعی ٹرف، کھیل میدان اور ضلع و تحصیل سطح پر کھیلوں کی سہولیات قائم کی گئی ہیں۔ کئی پرانے کھیل میدانوں کی جدید خطوط پر تزئین و آرائش ہوئی ہے، جبکہ دیہی علاقوں تک کھیلوں کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔ آج جموں و کشمیر کے بیشتر اضلاع میں نوجوانوں کو پہلے کے مقابلے میں کہیں بہتر کھیل سہولیات دستیاب ہیں۔
اسی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں جموں و کشمیر میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اسکولی سطح سے لے کر ریاستی اور قومی مقابلوں تک نوجوانوں کی شرکت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ فٹ بال، کرکٹ، ایتھلیٹکس، والی بال، کبڈی، کھو کھو، تائیکوانڈو، ووشو، باکسنگ، اسکیئنگ، آئس اسپورٹس اور دیگر کئی کھیلوں میں جموں و کشمیر کے کھلاڑی قومی سطح پر اپنی موجودگی درج کرا رہے ہیں۔ متعدد نوجوان بین الاقوامی مقابلوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں، جبکہ کئی کھلاڑیوں نے قومی اعزازات بھی اپنے نام کیے ہیں۔ یہ کامیابیاں اس حقیقت کی غماز ہیں کہ اگر مناسب سہولیات، معیاری کوچنگ اور جدید تربیت میسر ہو تو جموں و کشمیر کے نوجوان کسی بھی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس اس سفر کو مزید رفتار عطا کرے گا۔ اب تک جموں و کشمیر کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو جدید تربیت، اسپورٹس سائنس، فزیوتھراپی، غذائی رہنمائی اور اعلیٰ کوچنگ کے لیے ملک کی دوسری ریاستوں کا رخ کرنا پڑتا تھا، جس سے نہ صرف وقت اور وسائل صرف ہوتے تھے بلکہ کئی باصلاحیت نوجوان مالی یا سماجی مجبوریوں کے باعث آگے نہیں بڑھ پاتے تھے۔ اب یہ تمام سہولیات مقامی سطح پر دستیاب ہوں گی، جس سے نہ صرف نوجوانوں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ ٹیلنٹ کی بروقت شناخت اور اس کی سائنسی بنیادوں پر تربیت بھی ممکن ہوگی۔
اس مرکز کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس سے صرف کھلاڑی ہی مستفید نہیں ہوں گے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ کوچز، فزیوتھراپسٹ، اسپورٹس سائنسدان، فٹنس ٹرینرز، تکنیکی ماہرین، اسپورٹس مینیجرز اور دیگر معاون عملے کے لیے روزگار کے دروازے کھلیں گے۔ اس کے ساتھ ہی قومی سطح کے مقابلوں، تربیتی کیمپوں اور کھیلوں سے وابستہ تقریبات کے انعقاد سے مقامی معیشت، سیاحت اور خدمات کے شعبے کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ ہوٹل، ٹرانسپورٹ، کاروبار اور دیگر متعلقہ شعبوں میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، جس سے کھیلوں کی ترقی براہِ راست اقتصادی ترقی سے بھی جڑ جائے گی۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ کھیل صرف تمغے جیتنے کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ نوجوان نسل کو منشیات، تشدد، بے روزگاری سے پیدا ہونے والی مایوسی اور دیگر سماجی برائیوں سے دور رکھنے میں بھی مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ کھیل نظم و ضبط، ٹیم ورک، برداشت، خود اعتمادی اور مثبت سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔ جموں و کشمیر جیسے نوجوان آبادی والے خطے میں کھیلوں کا فروغ سماجی استحکام اور نوجوانوں کی مثبت توانائی کو صحیح سمت دینے کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں حکومت نے کھیلوں کو نوجوانوں کی ترقی کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا ہے۔
تاہم اس منصوبے کی کامیابی صرف عمارتوں اور جدید سہولیات پر منحصر نہیں ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ میرٹ کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب ہو، عالمی معیار کے کوچز کی خدمات حاصل کی جائیں، اسپورٹس سائنس اور تحقیق کو فروغ دیا جائے، اور اس ادارے کو سیاسی یا انتظامی مداخلت سے پاک رکھتے ہوئے مکمل پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جائے۔ اسی طرح دیہی علاقوں اور دور دراز خطوں میں موجود ٹیلنٹ کو اس مرکز تک پہنچانے کے لیے ایک مؤثر ٹیلنٹ سرچ پروگرام بھی ناگزیر ہوگا، تاکہ کسی بھی باصلاحیت نوجوان کی صلاحیت وسائل کی کمی کی نذر نہ ہو۔
اگر حکومت اپنی موجودہ سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، کوچنگ کے معیار، اسکولی کھیلوں، مقامی مقابلوں اور نوجوانوں کی تربیت پر یکساں توجہ دیتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ کھیلوں کے میدان میں بھی ملک کا نمایاں مرکز بن کر ابھرے گا۔ اونتی پورہ میں نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس کا قیام اسی روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ ادارہ نہ صرف قومی اور بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی تیار کرے گا بلکہ جموں و کشمیر میں کھیلوں کی ایسی مضبوط اور پائیدار ثقافت کو فروغ دے گا جو آنے والی نسلوں کے لیے فخر، اعتماد اور کامیابی کا ذریعہ بنے گی



