یاترا قومی یکجہتی، بین المذاہب ہم آہنگی، مقامی معیشت اور روحانی سیاحت کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے:ایل جی سنہا
شری امرناتھ جی یاترا پر بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب‘ننون بیس کیمپ میں یاترا کے انتظامات کا جائزہ
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۵جون
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین، اننت ناگ اور ضلع انتظامیہ اننت ناگ کے اشتراک سے منعقدہ شری امرناتھ جی یاترا پر بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شری امرناتھ جی یاترا بھارت کے روحانی شعور، ثقافتی ورثے اور انسانی اقدار کی زندہ علامت ہے، جسے محفوظ رکھنا، مزید فروغ دینا اور آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سنہا نے کہا کہ مقدس شری امرناتھ یاترا سماجی اتحاد، باہمی احترام اور باطنی تزکیے کا پیغام دیتی ہے۔ یہ صبر، عبادت اور خالق سے روحانی تعلق کا ایسا سفر ہے جو انسان کو اپنے باطن کی روشنی تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کئی خاندان اور مقامی برادریاں نسل در نسل یاتریوں کی خدمت انجام دے رہی ہیں، جبکہ مختلف مذاہب اور عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس یاترا کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ حقیقت اس مشترکہ انسانی شعور کی عکاسی کرتی ہے جو مذہب، زبان اور برادری کی سرحدوں سے بالاتر ہے۔
ایل جی نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف حصوں میں تقسیم اور اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں، شری امرناتھ جی یاترا بقائے باہمی اور ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال پیش کرتی ہے۔ یہ یاترا اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ مذہب کا اصل مقصد انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔ یہ مشترکہ انسانی اقدار اور بھارت کے ثقافتی تنوع کا ایک شاندار مظہر بھی ہے۔
سنہا نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے عقیدت مند اپنی اپنی زبانیں، ثقافتیں اور روایات ساتھ لاتے ہیں، جس سے باہمی احترام، محبت اور قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’تنوع میں اتحاد‘ ہی ہندوستانی تہذیب کی اصل روح ہے اور بابا برفانی کی یاترا اسی عظیم روایت کی عملی تصویر پیش کرتی ہے۔
سنہا نے کہا کہ شری امرناتھ جی یاترا مقامی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ٹٹو مالکان، دکاندار، دستکار، ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹرز اور ہزاروں دیگر خاندان براہِ راست یا بالواسطہ اس یاترا سے وابستہ ہیں، جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں بلکہ خطے کی مجموعی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کو بھی فروغ ملتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ماحولیات کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقی اور قدرتی ماحول کے درمیان توازن برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ صفائی، کچرے کا مؤثر انتظام، حیاتیاتی تنوع، جانوروں کی فلاح اور ماحول کا تحفظ یاترا انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’زیرو ویسٹ شری امرناتھ یاترا‘ کے عزم کے تحت سو فیصد کچرے کی ری سائیکلنگ، منظم ویسٹ کلیکشن نیٹ ورک اور’پلاسٹک لاؤ، تھیلا لے جاؤ‘ جیسی مہمات کامیابی سے چلائی جا رہی ہیں۔
سنہا نے بتایا کہ گزشتہ دو سے تین برسوں کے دوران بالتل اور چندن واڑی کے دونوں یاترا راستوں کو۱۲ فٹ تک چوڑا کیا گیا ہے، انہیں رات کے وقت روشن رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ مختلف مقامات پر ایمبولینسوں کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاترا کے دوران ہر رات ان راستوں کا معائنہ اور ضروری مرمت بھی کی جاتی ہے۔
سنہا نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں شری امرناتھ جی یاترا عالمی روحانی سیاحت کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرے گی، جہاں دنیا بھر سے آنے والے زائرین نہ صرف اس مقدس یاترا کا روحانی تجربہ حاصل کریں گے بلکہ بھارت کی فلسفیانہ روایات، یوگا، مراقبہ اور روحانیت سے بھی روشناس ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ یاترا ثقافتی سفارت کاری کا بھی ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں یاترا کو محفوظ، شفاف اور سہل بنانے کے لیے متعدد جدید اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں آن لائن رجسٹریشن، آر ایف آئی ڈی اور جی پی ایس پر مبنی نگرانی، پورے یاترا راستے پر کیمروں کی تنصیب، ڈیجیٹل معلوماتی نظام اور جدید مواصلاتی سہولیات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے جدید ٹیکنالوجی کو اختیار کرتے ہوئے یاترا کی روحانی تقدس کو ہر حال میں برقرار رکھا ہے۔
اس سے پہلے سنہا نے جمعرات کو کہا کہ سالانہ شری امرناتھ یاترا کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور وادیٔ کشمیر کے عوام ملک بھر سے آنے والے یاتریوں کے استقبال کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے پہلگام میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’جموں و کشمیر انتظامیہ، سیکورٹی فورسز، حکومتِ ہند اور مقامی حکومت نے باہمی اشتراک سے ملک بھر سے آنے والے عقیدت مندوں کے لیے محفوظ اور آرام دہ یاترا کے تمام انتظامات کر لیے ہیں‘‘۔
اس سے قبل لیفٹیننٹ گورنر نے یاترا کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں مختلف سرکاری محکموں اور سیکورٹی ایجنسیوں کے افسران نے شرکت کی۔
سنہا نے کہا’’آج مختلف محکموں اور سیکورٹی اداروں کے افسران کے ساتھ اجلاس ہوا۔ میں تمام انتظامات سے مطمئن ہوں اور ملک بھر کے یاتریوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ مقامی لوگ ان کے استقبال کے لیے پوری طرح تیار ہیں‘‘۔
۵۷ روزہ شری امرناتھ یاترا؍۳ جولائی سے پہلگام اور بالتل کے دونوں روایتی راستوں سے شروع ہوگی اور۲۸ اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
دریں اثنا، امرناتھ یاترا کے پیشِ نظر سیکورٹی انتظامات مزید سخت کرتے ہوئے جموں ضلع کے آر ایس پورہ سرحدی علاقے کے متعدد حساس مقامات پر محاصرہ اور تلاشی کی کارروائی انجام دی گئی۔
سرکاری حکام کے مطابق اس کارروائی میں بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) اور سینٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے اہلکاروں نے بھی حصہ لیا۔
حکام نے بتایا کہ چکرَوئی علاقے میں حساس قرار دیے گئے مقامات، جن میں مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کے مکانات بھی شامل تھے، کی تلاشی لی گئی۔ اسی طرح بسپور بنگلہ علاقے میں بھی سرچ آپریشن کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تمام مقامات کی تلاشی اہلِ خانہ اور مکینوں کی موجودگی میں قانونی ضابطوں کے مطابق لی گئی۔پولیس کے مطابق اس کارروائی کے دوران کوئی مشتبہ شخص، ممنوعہ سامان، قابلِ اعتراض مواد یا کوئی غیر قانونی شے برآمد نہیں ہوئی۔
پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائی امن و امان برقرار رکھنے، سیکورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور خصوصاً امرناتھ یاترا کے پیشِ نظر سماج دشمن اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے جاری اقدامات کا حصہ ہے۔










