پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر بھارت کے خلاف جنگ کی دھمکی ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اسلام آباد اپنی داخلی ناکامیوں اور سنگین بحرانوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بیرونی محاذ پر کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
جب بھی پاکستان کو معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام، بڑھتی ہوئی مہنگائی، توانائی کے بحران یا عوامی بے چینی کا سامنا ہوتا ہے تو وہاں کی سیاسی اور عسکری قیادت بھارت مخالف بیانات کے ذریعے قومی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کرتی ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے مسئلے پر جنگ کی دھمکی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحرانوں میں سے ایک سے گزر رہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ میں ہیں، بیرونی قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، سرمایہ کاری کا ماحول غیر یقینی کا شکار ہے اور عوام مہنگائی کی شدید مار جھیل رہے ہیں۔ سیاسی محاذ پر بھی صورتحال غیر معمولی ہے۔ ایسے حالات میں حکومت اور مقتدر حلقوں کے لیے سب سے آسان راستہ یہ ہوتا ہے کہ عوامی توجہ کو اندرونی مسائل سے ہٹا کر بھارت کے ساتھ تنازع کی طرف موڑ دیا جائے۔ خواجہ آصف کا حالیہ بیان بھی اسی حکمت عملی کا عکاس دکھائی دیتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان واقعی سندھ طاس معاہدے کی بحالی میں سنجیدہ ہے تو اسے جنگی زبان استعمال کرنے کے بجائے ان بنیادی وجوہات کا ازالہ کرنا ہوگا جن کی وجہ سے آج یہ معاہدہ معطل حالت میں پہنچا ہے۔ بھارت نے چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اس معاہدے کی پاسداری کی۔۱۹۶۰میں طے پانے والا یہ معاہدہ کئی جنگوں، سرحدی تنازعات اور سفارتی کشیدگیوں کے باوجود برقرار رہا۔ بھارت میں متعدد حلقے اسے پاکستان کے حق میں غیر متوازن معاہدہ قرار دیتے رہے، اس کے باوجود نئی دہلی نے بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرتے ہوئے اسے جاری رکھا۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کسی اچانک سیاسی فیصلے کا نتیجہ نہیں تھی۔ بھارت نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب گزشتہ سال اپریل میں پہلگام میں ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے میں۲۶ معصوم سیاحوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس سانحے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ بھارت کا موقف واضح ہے کہ جب تک سرحد پار دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہے گا اور پاکستان کی سرزمین بھارت کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتی رہے گی، تب تک معمول کے تعلقات اور سابقہ انتظامات کی بحالی ممکن نہیں ہوگی۔
پاکستان کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ دنیا بدل چکی ہے۔ اب دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اگر اسلام آباد واقعی چاہتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دوبارہ فعال ہو اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال ہو تو اسے سب سے پہلے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی سرزمین کسی بھی صورت میں بھارت مخالف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ صرف بیانات یا یقین دہانیاں کافی نہیں ہوں گی بلکہ عملی اقدامات درکار ہوں گے۔
اس ضمن میں پاکستان پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ان دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے جنہوں نے برسوں سے سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دیا ہے۔ ایسے افراد اور تنظیموں کے خلاف نمائشی اقدامات کے بجائے حقیقی کارروائی کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، بھارت میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی یا اس کے ارتکاب میں ملوث وہ عناصر جنہیں پاکستان میں پناہ حاصل رہی ہے، ان کے خلاف بھی موثر قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ اعتماد کی بحالی کا راستہ اسی وقت ہموار ہو سکتا ہے جب دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو مستقل طور پر ختم کیا جائے۔
پاکستانی قیادت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پانی جیسے حساس مسئلے کو جنگی دھمکیوں سے جوڑنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ پانی زندگی کا مسئلہ ہے، سیاسی نعرہ بازی کا نہیں۔ اگر پاکستان کو واقعی اپنے عوام کے مستقبل اور آبی سلامتی کی فکر ہے تو اسے اپنے اندرونی آبی انتظامی نظام کو بہتر بنانے، ذخائر کی صلاحیت بڑھانے، پانی کے ضیاع کو روکنے اور جدید آبی پالیسی اختیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
ماہرین کئی برسوں سے نشاندہی کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کے آبی بحران کی بڑی وجوہات اندرونی نوعیت کی ہیں، جنہیں صرف بھارت پر الزام تراشی کرکے حل نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ بھارت نے چھ دہائیوں تک انتہائی تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ اگر نئی دہلی کی جانب سے آج سخت موقف اختیار کیا جا رہا ہے تو اس کے پس منظر میں مسلسل دہشت گردی، معصوم شہریوں کا قتل اور قومی سلامتی سے جڑے خدشات کارفرما ہیں۔ کسی بھی خودمختار ملک سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے شہریوں پر حملوں کو نظر انداز کرتے ہوئے معمول کے تعلقات برقرار رکھے۔
لہٰذا پاکستان کے لیے درست راستہ جنگ کی دھمکیاں دینا نہیں بلکہ خود احتسابی کرنا ہے۔ اگر وہ واقعی سندھ طاس معاہدے کی بحالی چاہتا ہے تو اسے سرحد پار دہشت گردی پر مستقل اور قابل تصدیق روک لگانی ہوگی، دہشت گرد نیٹ ورکوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنی ہوگی اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ اعتماد کی بحالی کا یہی واحد راستہ ہے۔
جنوبی ایشیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد عوام کو جنگ نہیں بلکہ امن، ترقی اور استحکام کی ضرورت ہے۔ جنگی بیانات وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں لیکن وہ نہ معاشی بحران حل کر سکتے ہیں، نہ عوامی مشکلات کم کر سکتے ہیں اور نہ ہی پانی کے مسئلے کا کوئی دیرپا حل فراہم کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو یہ حقیقت جتنی جلدی سمجھ آ جائے، اتنا ہی اس کے اپنے عوام اور پورے خطے کے مفاد میں ہوگا۔




