تلہ مولہ؍۲۲جون
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کے روز کہا کہ کشمیری پنڈتوں کو ماضی کے تلخ واقعات سے آگے بڑھنا چاہیے اور وادی میں ایک مشترکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں واقع کھیر بھوانی مندر کا دورہ کیا اور سالانہ کھیر بھوانی میلے کے موقع پر کشمیری پنڈتوں سے ملاقات کی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میلے میں بڑی تعداد میں کشمیری پنڈت شریک ہوئے ہیں اور کشمیر کے لوگ ان کا دل کی گہرائیوں سے خیر مقدم کرتے ہیں۔
محبوبہ نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے کشمیری پنڈت بھائی اور بہنیں ماضی میں جو کچھ ہوا اسے بھلا کر مستقبل کی طرف دیکھیں۔‘‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ کھیر بھوانی میلے کے مناظر الفاظ سے بالاتر حد تک دل کو چھو لینے والے تھے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا، ’’کشمیری پنڈتوں اور مسلمانوں کے درمیان محبت اور گرمجوشی نے بداعتمادی اور تقسیم کی ان دیواروں کو عبور کر لیا جنہیں بعض لوگوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ماضی کے قیدی بننے کے بجائے ایک مشترکہ مستقبل میں سرمایہ کاری کریں۔‘‘
محبوبہ نے کہا کہ علاج کی غرض سے وادی سے باہر جانے والے بے شمار کشمیریوں کی کشمیری پنڈت ڈاکٹروں کی جانب سے بھرپور مدد اور دیکھ بھال کی جاتی ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’ڈاکٹر سشیل رزدان، یو کول اور سمیر کول جیسے معالجین بھی باعثِ تحریک ہیں، جو آج بھی کشمیر میں مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کی جو علاج کے لیے باہر جانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کی خدمات صرف جسمانی بیماریوں کا علاج نہیں کر رہیں بلکہ پرانے زخموں کو مندمل کرنے اور دونوں برادریوں کے درمیان رشتوں کو دوبارہ استوار کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ مزید نوجوان ڈاکٹروں کو ان سے سبق حاصل کرنا چاہیے، اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑنا چاہیے اور کشمیر کا دورہ کرنا چاہیے۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ کشمیری پنڈتوں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔
محبوبہ نے کہا، ’’یہاں آنے والے یا یہاں رہائش پذیر کشمیری پنڈتوں کو حکومت تمام سہولیات فراہم کرے۔ وہ ایک کمرے کے فلیٹوں میں رہ رہے ہیں۔ اسی طرح جموں کے جگتی علاقے میں رہنے والے کشمیری پنڈت بھی مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ این ایف ایس اے کے حوالے سے بھی مسائل موجود ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ این ایف ایس اے کے معاملے میں دیگر لوگوں جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں وہ تمام سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں جن کے وہ بطور مہاجر حقدار ہیں۔‘‘
انہوں نے عوام سے بھائی چارہ برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی۔
محبوبہ مفتی نے کہا، ’’ہمیں ماضی میں نہیں جھانکنا چاہیے بلکہ مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے۔ جو لوگ کشمیری پنڈتوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، کشمیری پنڈتوں کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر سے خود کو الگ رکھیں اور کشمیر کے لوگوں کے ساتھ براہِ راست روابط قائم کریں۔‘‘










