نئی دہلی، 19 جون (یو این آئی) کانگریس نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو مسابقتی امتحانات کے انعقاد میں ناکام بتاتے ہوئے اس پر پابندی لگانے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور پارٹی کی طلبہ شاخ این ایس یو آئی کے انچارج کنہیا کمار نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ تعلیم کی نجکاری کی وجہ سے پیپر لیک کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور اس سے ملک کا تعلیمی نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ کے پیپر لیک معاملے کے ایک ماہ بعد اب پھر یہ امتحان منعقد کیا جا رہا ہے لیکن اس کی وجہ سے کئی بچوں کی جان گئی ہے اور اس کی ذمہ داری وزیر تعلیم کی ہے، اس لیے مودی حکومت کو مسٹر پردھان سے استعفیٰ لینا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت پیپر لیک کے معاملے پر جوابدہی طے کرنے کے بجائے ٹیلی گرام ایپ پر پابندی لگانے جیسے اقدامات سے معاملے پر لیپا پوتی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ملک میں پیپر لیک کے 80 سے زیادہ واقعات ہو چکے ہیں اور اس کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ حکومت کو تعلیمی نظام کو درست کرنے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ تعلیم یافتہ معاشرے کے بغیر ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے پیپر لیک کے لیے ذمہ داری طے کرنے، قصورواروں کو سزا دینے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مسٹر پردھان پر طنز کرتے ہوئے انہیں "پیپر لیک وزیر” بتایا اور کہا کہ مسابقتی امتحانات کے انعقاد کے لیے زیادہ موثر نظام قائم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی گرام ایپ پر پابندی لگانے کے بجائے حکومت کو این ٹی اے کے طریقہ کار کا جامع جائزہ لے کر اس پر پابندی لگانی چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپر سیٹ کرنے والے ہی اسے لیک کرانے میں ملوث ہیں اور کہا کہ اس بار پیپر لیک کا تعلق ایک بیوٹی پارلر سے جڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ٹی اے مسابقتی امتحانات کا کامیاب انعقاد کرنے کے قابل نہیں ہے اور اس کی ناکامیوں کی وجہ سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کو ایک "پروڈکٹ” بنا دیا گیا ہے اور جب ملک میں بڑی تعداد میں نوجوان بے روزگار ہیں، تب ترقی یافتہ ہندوستان کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ مسٹر کمار نے الزام لگایا کہ تعلیمی نظام کی موجودہ صورتحال کے لیے عہدوں پر بیٹھے نااہل لوگ ذمہ دار ہیں اور سب سے پہلے وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔










