ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۹ جون
لداخ میں اب سنگل یوز (ایک بار استعمال ہونے والی) پلاسٹک اشیاء کے استعمال یا فروخت اور عوامی مقامات پر گندگی پھیلانے پر سخت جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مخصوص سنگل یوز پلاسٹک اشیاء پر سخت پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔
حکام کے مطابق، سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد، تجارتی ادارے، ہوٹل یا کھانے پینے کی جگہ پر۱۰ ہزار روپےماحولیاتی جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ عوامی مقامات پر گندگی پھیلانے پر۵ ہزار روپے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ لہہ ہوائی اڈے اور لداخ میں داخلے کے مختلف مقامات پر سنگل یوز پلاسٹک کی موجودگی کی جانچ کے لیے اچانک تلاشی مہم بھی چلائی جائے گی۔
یہ اقدام لداخ کے نازک ہمالیائی ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور ماحولیات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم اور فیصلہ کن قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ سیاحتی مقامات کے اطراف میں سنگل یوز پلاسٹک اور کچرے کے بے دریغ استعمال اور کھلے عام پھینکے جانے سے ماحول کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
منظور شدہ ضابطے کے تحت شناخت شدہ تمام سنگل یوز پلاسٹک اشیاء کے استعمال، فروخت، ذخیرہ، تقسیم، نقل و حمل اور فراہمی پر پابندی ہوگی۔ ان اشیاء میں پلاسٹک کے چمچ، کانٹے، کپ، پلیٹیں، اسٹراء، ٹرے، ریپنگ فلم، تھرموکول کی سجاوٹی اشیاء، پلاسٹک کے جھنڈے، پلاسٹک اسٹرر اور مقررہ معیار سے کم موٹائی والے پلاسٹک بینرز شامل ہیں۔
موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے لیفٹیننٹ گورنر نے پہلی بار ضلعی اور مقامی سطح کے مختلف حکام کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ معائنہ کریں، خلاف ورزیوں کی نشاندہی کریں، چالان جاری کریں اور جرمانے وصول کریں۔
نئے نفاذ نظام کے تحت معائنہ، اچانک جانچ، ویڈیو ریکارڈنگ، فوٹوگرافی، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر قانونی طور پر قابلِ قبول الیکٹرانک شواہد کو بھی کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر سکسینہ نے کہا کہ سنگل یوز پلاسٹک اور گندگی پھیلانے پر پابندی کا مقصد لداخ میں ذمہ دارانہ سیاحت کو فروغ دینا اور اس کے دلکش قدرتی مناظر کو صاف، محفوظ اور ماحولیاتی لحاظ سے مستحکم رکھنا ہے، باوجود اس کے کہ سیاحوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
سکسینہ نے مقامی باشندوں اور سیاحوں دونوں سے اپیل کی کہ وہ کچرا پھیلانے سے گریز کریں اور لداخ کے پُرسکون اور خوبصورت مناظر کو آلودہ نہ کریں۔
لداخ کے ایل جی نے کہا’’لداخ کا صاف ستھرا ماحول اور قدرتی حسن ہماری سب سے قیمتی دولت ہے، اور اسے محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب ہم لداخ کو عالمی معیار کی سیاحتی منزل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ترقی کے ساتھ ماحولیاتی ذمہ داری بھی نبھائی جائے۔ سنگل یوز پلاسٹک اور گندگی کے خلاف سخت کارروائی صرف ایک ضابطہ نہیں بلکہ لداخ کے ماحولیاتی ورثے کے تحفظ اور پائیدار ماحول دوست ثقافت کے فروغ کا عہد ہے‘‘۔
لداخ اپنی خوبصورت قدرتی مناظر، بلند پہاڑی دلدلی علاقوں، گلیشیئرز اور منفرد حیاتیاتی تنوع کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، تاہم اس کا نازک ماحولیاتی نظام پلاسٹک آلودگی کے لیے انتہائی حساس ہے۔
چونکہ سنگل یوز پلاسٹک قدرتی طور پر تحلیل نہیں ہوتی، اس لیے یہ کئی دہائیوں تک ماحول میں موجود رہ کر زمین، ہوا اور آبی وسائل کو آلودہ کرتی ہے اور طویل مدتی ماحولیاتی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ اسی طرح پلاسٹک کچرے کو غلط طریقے سے تلف کرنے یا جلانے سے خطرناک کیمیائی اور زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں، جو انسانی صحت، مویشیوں اور جنگلی حیات کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔










