ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۹جون
بھارتی فوج نے جمعہ کے روز لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر گرفتار کیے گئے ایک پاکستانی شہری کو پاکستان واپس بھیج دیا۔
فوج کے مطابق خیبر پختونخوا صوبے کے رہائشی اسد خان کے ساتھ حراست کے دوران ’’عزت و احترام اور ہمدردی‘‘ کا برتاؤ کیا گیا اور بعد ازاں انہیں سرحدی گزرگاہ پر پاکستانی فوج کے حوالے کر دیا گیا۔
اسد خان کو گزشتہ ہفتے جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ٹیٹوال سیکٹر کے سیماری علاقے میں ایل او سی عبور کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
بھارتی فوج نے آج اسد خان کی واپسی اور انہیں پاکستانی فوج کے حوالے کیے جانے کی تصاویر بھی جاری کیں۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے ماحول میں ایک بھارتی فوجی میجر رینک افسر کو پاکستانی فوج کے ایک افسر سے مصافحہ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جو ایک نایاب منظر قرار دیا جا رہا ہے۔
فوج کا کہنا ہے کہ اسد خان کے ساتھ دورانِ حراست عزت اور ہمدردی کا سلوک بھارتی فوج کی انسانی اقدار اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل سے وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
بھارتی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا، ’’خیبر پختونخوا (کے پی کے) کے رہائشی پاکستانی شہری اسد خان، جنہیں۱۲ جون۲۰۲۶کو لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے بعد ضلع کپواڑہ کے سیماری گاؤں میں گرفتار کیا گیا تھا، کو۱۸جون۲۰۲۶ کو پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا، ’’بھارت میں قیام کے دوران اسد خان کے ساتھ عزت و احترام اور ہمدردی کا برتاؤ کیا گیا، جو انسانی اقدار اور طرزِ عمل کے حوالے سے بھارتی فوج کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی محفوظ وطن واپسی بھارتی فوج کے اصولوں، ذمہ داری کے احساس اور اعلیٰ ترین فوجی پیشہ ورانہ معیاروں کی پاسداری کو ظاہر کرتی ہے۔‘‘
اسد خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے خیبر پختونخوا سے سوشل میڈیا پر متعدد اپیلیں سامنے آئی تھیں جن میں بھارتی فوج سے ان کی رہائی کی درخواست کی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔










