یاترا کو کامیاب بنانے میں کشمیری عوام بھرپور کردار ادا کریں:محبوبہ
ایجنسیز
سرینگر؍۱۸جون
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کشمیری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سالانہ امرناتھ یاترا کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس یاترا کو اعتماد سازی، باہمی ہم آہنگی اور تعصبات کے خاتمے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
محبوبہ مفتی نے وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے سیاحتی مقام سونمرگ میں یاترا سے وابستہ مختلف فریقوں سے ملاقات کی۔
پی ڈی پی صدر نے کہا، ’’میں آج سونمرگ اس لیے آئی ہوں تاکہ یہاں کے لوگوں سے آئندہ امرناتھ یاترا کے حوالے سے بات کروں۔ میں نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ یاترا کو ہر ممکن حد تک کامیاب بنائیں اور یاتریوں کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔‘‘
محبوبہ نے کہا کہ کشمیر کے عوام ہمیشہ امرناتھ یاترا کے انعقاد میں تعاون کرتے آئے ہیں، تاہم ملک بھر میں مسلمانوں، بالخصوص کشمیریوں، کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یاترا کو کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان اعتماد، باہمی احترام اور تعلقات کو مضبوط بنانے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
محبوبہ نے کہا، ’’ہمیں یہاں آنے والے یاتریوں اور سیاحوں کو یہ بتانا چاہیے کہ ہم سب عسکریت پسند نہیں بلکہ ان کے میزبان، نگہبان اور خیرخواہ ہیں۔ میرے خیال میں گاندربل، خصوصاً سونمرگ کے لوگ، یاتریوں کے دل جیتنے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یاتری جب وادی سے واپس جائیں تو خوشگوار یادیں اور مثبت تاثرات ساتھ لے کر جائیں تاکہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے سفیر بن سکیں۔
پی ڈی پی صدر نے کہا، ’’کشمیر ہمیشہ اپنی مہمان نوازی، ہمدردی اور مہمانوں کے احترام کے لیے جانا جاتا رہا ہے۔ سونمرگ اور پہلگام جیسے علاقوں کے لوگ ہمیشہ زائرین کا خندہ پیشانی اور عزت و وقار کے ساتھ استقبال کرتے آئے ہیں۔ یہی کشمیریت ہماری سب سے بڑی طاقت اور دنیا کے لیے ہمارا سب سے مؤثر پیغام ہے۔‘‘
محبوبہ مفتی نے کہا کہ امرناتھ یاترا ملک کے دیگر حصوں کے لوگوں کو حقیقی کشمیر سے روشناس کرانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے، جو عام لوگوں، اعلیٰ روایات، مہربانی اور انسان دوستی کا کشمیر ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ مذہب کو تقسیم کے بجائے محبت، ہمدردی اور باہمی ربط کا ذریعہ بننا چاہیے۔ان کا کہنا تھا، ’’ہندو اور مسلمان، مقامی اور غیر مقامی، کشمیر اور باقی ہندوستان، ہم سب ایک مشترکہ انسانی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت ایک دوسرے کے عقیدے، شناخت اور وقار کے احترام میں مضمر ہوتی ہے۔‘‘
پی ڈی پی صدر نے مقامی آبادی کے مفادات کے تحفظ کے لیے پائیدار ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر بنیادی ڈھانچہ، رابطہ سڑکوں میں بہتری، چھوٹے کاروباروں کی معاونت، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور ہمالیائی ماحولیات کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
موصوفہ نے کہا کہ امرناتھ یاترا کی کامیابی کا پیمانہ صرف زائرین کی تعداد نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس سے پیدا ہونے والی نیک نیتی، دوستی اور باہمی افہام و تفہیم کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
محبوبہ نے کہا، ’’تعصب کا جواب ہماری مہمان نوازی، بداعتمادی کا جواب ہماری ہمدردی اور ہمارا پیغام کشمیر کی حقیقی روح یعنی امن، شمولیت اور انسانیت ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے مسائل کا عملی حل تلاش کرنا بھی ضروری ہے تاکہ ان کے روزگار میں بہتری آئے، بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہو اور سیاحت کے فوائد ان لوگوں تک پہنچیں جو اس صنعت کو زندہ رکھتے ہیں۔‘‘










