انسانوں کے پاس ’لامحدود‘ کام ہیں، اور اے آئی ان رکاوٹوں کو کم کرے گی جو فی الحال انہیں محدود کرتی ہیں: جیف بیزوس
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۸جون
ایمازون کے بانی جیف بیزوس نے پیرس میں ایک کانفرنس میں پرامید انداز میں پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی جگہ لینے کے بجائے مزدوروں کی کمی پیدا کرے گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جیف بیزوس نے ایک خوشگوار مستقبل کی تصویر پیش کی کہ کس طرح ٹیکنالوجی انسانیت کی مدد کرے گی۔ انہوں نے اپنے خلائی منصوبے بلو اوریجن اور نئی اے آئی سٹارٹ اپ پرو میتھیس کا ذکر کیا، جو جسمانی مینوفیکچرنگ کو تیز کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ، حتیٰ کہ ذہین افراد بھی، فکر مند ہیں کہ اے آئی انسانوں کو غیر ضروری بنا دے گی۔ میں اس خیال سے بالکل متفق نہیں ہوں۔ بلکہ میرا ماننا ہے کہ اے آئی مزدوروں کی کمی پیدا کرے گی۔‘
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا بھر کی کمپنیاں اے آئی میں بھاری سرمایہ کاری کے بعد ہزاروں ملازمتیں ختم کر رہی ہیں۔ صرف مئی میں امریکی کمپنیوں نے۹۷ ہزار ملازمتوں میں کمی کی، جن میں سے۴۰ فیصد کا تعلق اے آئی سے تھا۔
ایک سروے کے مطابق نصف امریکی خوفزدہ ہیں کہ اے آئی کے بڑھتے استعمال سے وہ یا ان کے گھر کا کوئی فرد بے روزگار ہو سکتا ہے۔ جنوبی کوریا کی کار ساز یونینز اور ہالی ووڈ کے سکرپٹ رائٹرز سمیت مختلف حلقوں نے اے آئی کے خلاف مزاحمت کی ہے۔
جیف بیزوس، جن کی دولت تقریباً۲۵۰؍ارب ڈالر ہے، نے کہا کہ انسانوں کے پاس ’لامحدود‘ کام ہیں، اور اے آئی ان رکاوٹوں کو کم کرے گی جو فی الحال انہیں محدود کرتی ہیں۔
ایمازون نے بھی گذشتہ سال کے آخر سے اب تک جزوی طور پر اے آئی کی وجہ سے بڑھتی کارکردگی کے باعث۔ تقریباً۳۰ ہزار کارپوریٹ نوکریاں ختم کی ہیں۔
جیف بیزوس نے کہا کہ خلائی تحقیق کا ایک مقصد آلودہ صنعتوں کو زمین سے باہر منتقل کرنا ہے۔ ان کا منصوبہ بلو اوریجن، ایلون مسک کی سپیس ایکس کے ساتھ مقابلہ کرنے کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر خلائی سفر قابلِ اعتماد اور سستا ہو جائے، اور ہم مواد کو شہابِ ثاقب، زمین کے قریب اجسام اور چاند سے حاصل کر سکیں، تو زمین کو صنعتی انقلاب سے پہلے کی حالت میں واپس لایا جا سکتا ہے۔‘
بلو اوریجن کے سی ای او ڈیوڈ لِمپ نے بتایا کہ فلوریڈا میں کمپنی کے لانچ پیڈ کی تعمیر نو شروع ہو گئی ہے، جو مئی میں ایک دھماکے کے بعد تباہ ہو گیا تھا۔
دوسری طرف ایلون مسک نے بھی خلائی مستقبل کا خاکہ پیش کیا ہے، جس میں چاند اور مریخ پر شہروں کی تعمیر اور خلاء میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز بھیجنے کے منصوبے شامل ہیں۔










