نئی دہلی، 17 جون (یو این آئی) مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) نے بدھ کو آئین (130 ویں ترمیم) بل، 2025، جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیم) بل، 2025 اور یونین ٹیریٹری گورنمنٹ (ترمیم) بل، 2025 کے ‘لوکل اسٹڈی وزٹ’ کے لیے بدھ کو یہاں سکریٹریٹ میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے ملاقات کی۔
یہ کمیٹی آئین (130 ویں ترمیم) بل، 2025، جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیم) بل، 2025 اور یونین ٹیریٹری گورنمنٹ (ترمیم) بل، 2025 کے ‘لوکل اسٹڈی وزٹ’ کے لیے دہلی آئی ہوئی ہے۔ محترمہ گپتا نے کمیٹی کی چیئرپرسن اور رکن پارلیمنٹ اپراجیتا سارنگی اور دیگر ارکان کا استقبال کیا۔ میٹنگ میں کمیٹی نے وزیر اعلیٰ کو تینوں بلوں کی اہم باتیں، ان کے مقاصد اور مجوزہ تبدیلیوں سے آگاہ کیا اور ان سے متعلق دستاویزات بھی سونپے۔ اس دوران کمیٹی نے بتایا کہ ان بلوں کا مقصد عوامی زندگی میں جوابدہی اور شفافیت کو بڑھانا، آئینی اقدار کو مضبوط کرنا اور لوگوں کے اعتماد کو مزید بڑھانا ہے۔
اس دوران محترمہ سارنگی کی قیادت میں رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کے لکشمن، اجول دیوراو نکم، ڈی کے ارونا، پرشوتم روپالا، اسد الدین اویسی، ڈاکٹر اندر ہانگ سبا، انوراگ ٹھاکر، برج لال، برج موہن اگروال، منن کمار مشرا سمیت لوک سبھا سکریٹریٹ کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا دہلی سکریٹریٹ میں استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی جمہوریت نہ صرف آئینی دفعات سے، بلکہ عوامی زندگی میں اخلاقیات، جوابدہی اور عوامی اعتماد سے بھی چلتی ہے۔ جمہوری اداروں کا وقار برقرار رکھنا اور حکمرانی کے نظام میں عوام کے اعتماد کو مضبوط کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کمیٹی کو دہلی کے انتظامی ڈھانچے، آئینی خصوصیات اور دہلی میں اچھی حکمرانی، شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط کرنے کے لیے اٹھائے گئے مختلف اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت وزیر اعظم نریندر مودی کے وکست بھارت کے عزم کے عین مطابق جوابدہ، شفاف اور شہریوں پر مرکوز حکمرانی کا نظام قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
میٹنگ کے دوران کمیٹی کے ارکان نے دہلی حکومت کی طرف سے پیش کیے گئے حقائق، تجاویز اور انتظامی تجربات کو سراہا۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے دہلی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلی اور حقیقت پر مبنی ان پٹس کی ستائش کرتے ہوئے انہیں غور و خوض کے عمل میں مفید بتایا اور دہلی حکومت کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کی بھی تعریف کی۔










