واشنگٹن، 17 جون (یو این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت حتمی نہیں، اگر مجھے حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو ہم دوبارہ بمباری کی طرف واپس جا سکتے ہیں۔
فرانس میں جی سیون اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واضح کردوں کوئی امریکی ایران میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز مکمل کھل جائے گی، ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، اس کے ساتھ اہم ڈیل کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اسٹاک مارکیٹس بلندیوں پر ہیں، تیل کی قیمتیں نیچے آ گئی ہیں، اگر ڈیل نہ ہوتی تو پوری دنیا معاشی دباؤ کا شکار ہوتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مصری صدر کے ساتھ تجارت پر بات چیت کریں گے، متنازع ڈیم کے مسئلے پر بھی بات چیت کریں گے، مصر کے ڈیم پروجیکٹ میں امریکہ مدد کرے گا۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران معاہدے میں 300 ارب ڈالرز کے فنڈز کی رپورٹس غلط ہیں، امریکہ ایران میں سرمایہ کاری نہیں کر رہا، حزب اللّٰہ سے نمٹنے کے لیے شامی رہنما سے بات کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت میں فوری پابندیوں میں نرمی شامل نہیں، ایران پر پابندیوں میں نرمی سے متعلق بعد میں بات کریں گے۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے بریک تھرو پر صدر ٹرمپ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ حتمی معاہدے کے منتظر ہیں۔
اس دوران اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے ایک معاہدے کے باوجود، جس نے متعدد محاذوں پر جنگ ختم کر دی تھی، اسرائیلی فوج نے لبنان میں طویل مدتی مداخلت کی تیاری کر لی ہے۔
اسرائیل کے سرکاری ٹیلی ویژن کے اے این نے نام ظاہر نہ کرنے والے اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اگر اسرائیل کی سیاسی قیادت کی ہدایات ملیں تو فوج طویل عرصے تک لبنان میں رہنے کے لیے تیار ہے ۔
ذرائع نے مزید کہا کہ فوج لبنان میں ‘تمام ممکنہ منظرناموں کے لیے تیار ہے، حالانکہ واشنگٹن اور تہران جمعہ کو سوئٹرزلینڈ میں اس معاہدے پر دستخط کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
یہ رپورٹ اُن چند گھنٹوں بعد سامنے آئی جب لبنانی صدر جوزف عون نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین مفاہمت کی یادداشت میں خطے میں عسکری کشیدگی کو روکنے کے وعدے شامل ہیں، جن میں لبنان بھی شامل ہے۔
منگل کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کاایک لازمی حصہ ہے اور اس میں اسرائیلی افواج کا لبنانی علاقے سے انخلا بھی شامل ہوگا۔
حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل 2 مارچ سے لبنان پر جارحیت کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے اور ایک ملین سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیل جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر دہائیوں سے اور بعض پر 2023 اور 2024 کے درمیان ہونے والی پچھلی جنگ کے بعد سے قابض ہے۔
موجودہ مہم کے دوران، اسرائیلی افواج نے لبنانی علاقے میں پیش قدمی کی اور فوجی دستے ملک میں 10 کلومیٹر سے زیادہ اندر تک داخل ہو گئے۔







