ماسکو، 9 اگست (یو این آئی) عالمی کشیدگی اور سمندری تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات کے درمیان روس نے بحر ہند تک ایک نیا ریل راستہ تیار کرنے کے امکانات پر کام شروع کر دیا ہے۔ روسی نائب وزیراعظم مارات خسنولن نے کہا ہے کہ آبنائے باسفورس اور آبنائے ہرمز سے وابستہ خطرات کو کم کرنے کے لیے یہ متبادل راستہ انتہائی ضروری ہے۔
مسٹر خسنولن کے مطابق ترکمانستان، ایران، افغانستان اور پاکستان کے راستے بحر ہند تک پہنچنے والے متبادل راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان تک رسائی فراہم کرنے والا کوئی بھی ممکنہ راستہ روس کے لیے قابلِ قبول اور اسٹریٹجک لحاظ سے اہم ہے۔
روسی نائب وزیراعظم نے ملک کے تعمیری شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے طویل المدتی مالی امداد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس کی تعمیری صنعت فی الوقت ہر سال اضافی ایک ٹریلین روبل کی سرمایہ کاری کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر اگلے پانچ سال تک اس سطح کی رقم فراہم کی جاتی ہے تو ملک اپنی تعمیری صلاحیتوں کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔
روس کا یہ بیان امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تصادم کی وجہ سے سمندری مال برداری میں آنے والی شدید رکاوٹوں کے دوران سامنے آیا ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی جہازوں کے ساتھ ساتھ ان کی حمایت کرنے والے ممالک کے جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے سے عالمی تجارت شدید متاثر ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ دنیا کی مجموعی تیل کی سپلائی کا تقریباً 25 فیصد اور مائع قدرتی گیس کی 20 فیصد سپلائی اسی آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے۔ ایسے میں سمندری راستوں پر انحصار کم کرنے کے لیے روس زمینی اور ریل راستوں کو ترجیح دے رہا ہے۔







