فرانس، 17 جون (یو این آئی) امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے اگر ایران امریکہ معاہدے پرعملدرآمد بہتر ہوا تو تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی قیمتوں سے بھی نیچے آ جائیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی کی جی سیون سمٹ کی سائیڈ لائن پر ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران ڈیل کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور اسٹاک مارکیٹس میں ریکارڈ بننا شروع ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل نہ ہوتی تو دنیا بھر میں معاشی دباؤ پیدا ہوتا اور صرف بے وقوف لوگ ہی چاہیں گے کہ دنیا میں معاشی دباؤ پیدا ہو۔ معاہدے پر عملدرآمد بہتر ہوا تو تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی قیمتوں سے بھی نیچے آ جائیں گی۔ اگر ایران نے معاہدے پر عمل نہیں کیا تو دوبارہ سے بمباری شروع کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ 300 ملین ڈالر سے متعلق سب افواہیں ہیں، ایران کو 10 سینٹس بھی نہیں دیں گے۔ ہمارے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ ڈیل میں کیا ہے۔ 99.9 فیصد ایران کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہوں گے۔ ایران ڈیل سے متعلق آج تفصیل سے پریس کانفرنس کروں گا۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر واضح طور پر کہا کہ کوئی امریکی ایران میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا، تاہم کوئی اور ملک وہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ معاہدے پر عمل کرے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کا مسئلہ 47 سال سے چل رہا تھا، کسی نے ہمت نہیں کی کہ اسے حل کرے۔ ہم نے اپنے پہلے دور میں قاسم سلیمانی کو راستے سے ہٹایا تھا اور اب ایران کی بحریہ اور جہاز تباہ کر دیے۔







