وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا حالیہ بیان، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان دریائے سندھ کے پانی کو دہشت گردی کے سرپرستوں تک نہیں پہنچنے دے گا، دراصل محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ہندوستان کی بدلتی ہوئی قومی سلامتی کی پالیسی کا اظہار ہے۔ گزشتہ برس پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کو معطل کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا، اس کے بعد سے نئی دہلی مسلسل یہ پیغام دے رہا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی اور معمول کے سفارتی و اقتصادی تعلقات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ راج ناتھ سنگھ کا بیان اسی پالیسی کی توسیع ہے جس میں قومی سلامتی کو ہر دوسرے معاملے پر ترجیح دی جا رہی ہے۔
۱۹۶۰ میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کئی جنگوں، سرحدی کشیدگی اور سیاسی تنازعات کے باوجود یہ معاہدہ قائم رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اکثر ایک ایسے فریم ورک کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جو دونوں ممالک کے درمیان کم از کم ایک شعبے میں تعاون کو یقینی بناتا تھا۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں ہندوستانی موقف میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ نئی دہلی کا استدلال ہے کہ اگر ایک ملک مسلسل دہشت گردی کی حمایت کرے اور دوسرے ملک کے شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو ایسے حالات میں معمول کے معاہدوں کا برقرار رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔
پہلگام حملے کے بعد ہندوستانی حکومت نے جس سخت موقف کا اظہار کیا، اس نے یہ واضح کر دیا کہ اب دہشت گردی کو محض ایک سیکورٹی مسئلہ نہیں بلکہ دوطرفہ تعلقات کے ہر پہلو سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ وزیر دفاع کا یہ کہنا کہ ’جن کی آنکھوں کے آنسو خشک ہو چکے ہیں، انہیں ہم پانی نہیں دیں گے‘ ایک علامتی اور سیاسی پیغام ہے جس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ دہشت گردی کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اس تناظر میں پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ سفارتی اور تزویراتی اہمیت کا حامل عنصر بن چکا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پانی آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کا ایک اہم موضوع بننے جا رہا ہے۔ آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی اور پانی کے وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ کئی خطوں میں نئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ چنانچہ ہندوستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا صرف موجودہ سیاسی حالات کا ردعمل نہیں بلکہ مستقبل کی آبی سیاست کے تناظر میں بھی ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب راج ناتھ سنگھ نے اپنے خطاب میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کی بارہ سالہ کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے دفعہ۳۷۰کی منسوخی، جی ایس ٹی کے نفاذ، نکسل ازم کے خلاف کارروائیوں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو نمایاں کامیابیوں کے طور پر پیش کیا۔ خاص طور پر جموں و کشمیر کے حوالے سے ان کے بیانات قابل توجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب کانگریس دعویٰ کرتی تھی کہ دفعہ ۳۷۰کو کوئی ختم نہیں کر سکتا، لیکن موجودہ حکومت نے اسے آسانی سے منسوخ کر دیا۔
دفعہ۳۷۰کی منسوخی کے بعد کشمیر میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں، تاہم یہ حقیقت ہے کہ وادی میں سیاحت کے شعبے نے نمایاں ترقی کی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں سیاحوں کی ریکارڈ آمد، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تیزی، سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور روزگار کے امکانات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سری نگر کے تاریخی لال چوک پر قومی پرچم کا لہرانا، محرم کے جلوسوں کا پُرامن انعقاد اور برسوں سے بند سینما گھروں کا دوبارہ کھلنا ان تبدیلیوں کی علامتوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ ان اقدامات نے جموں و کشمیر کو قومی دھارے میں مزید مضبوطی سے شامل کیا ہے اور ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ خطے میں سیاسی عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے، جمہوری اداروں کو فعال رکھا جائے اور عوامی اعتماد میں اضافہ کیا جائے تاکہ ترقی اور امن کا یہ سفر دیرپا ثابت ہو سکے۔
راج ناتھ سنگھ کے بیان کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں ہندوستان کی بدلتی ہوئی دفاعی اور سفارتی سوچ جھلکتی ہے۔ آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جو لوگ امن اور ہم آہنگی کی زبان نہیں سمجھتے، ہندوستان انہیں ان ہی کی زبان میں جواب دینا جانتا ہے۔ یہ بیان اس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت ہندوستان خود کو ایک مضبوط اور فیصلہ کن طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی ہندوستان کا بڑھتا ہوا کردار اسی سوچ کا عکاس ہے۔ معیشت، دفاع، سفارت کاری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے اسے ایک ایسے ملک کے طور پر ابھارا ہے جو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ پراعتماد انداز اختیار کر رہا ہے۔ اسی لیے دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر غیر لچکدار پالیسی کو عوامی سطح پر بھی خاصی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔
تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ سخت سفارتی اور دفاعی اقدامات کے ساتھ ساتھ خطے میں امن اور استحکام کے امکانات کو مکمل طور پر نظر انداز نہ کیا جائے۔ جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں غربت، بے روزگاری، موسمیاتی تبدیلی اور وسائل کی کمی جیسے مسائل مشترکہ نوعیت کے ہیں۔ ان مسائل کا پائیدار حل تصادم کے بجائے تعاون میں پوشیدہ ہے۔ لیکن تعاون کی بنیاد باہمی اعتماد اور دہشت گردی سے پاک ماحول پر ہی رکھی جا سکتی ہے۔
راج ناتھ سنگھ کا بیان دراصل موجودہ ہندوستانی پالیسی کا خلاصہ ہے: دہشت گردی کے خلاف صفر برداشت، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں، اور ترقی و استحکام کو حکومتی ترجیحات کے مرکز میں رکھنا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی، کشمیر میں جاری ترقیاتی عمل اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے یہ پالیسی کس سمت میں پیش رفت کرتی ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ نئی دہلی اب اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور واضح موقف اختیار کر چکا ہے، اور یہی پیغام وزیر دفاع کے حالیہ خطاب سے بھی نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔





