’ متاثرہ افراد خوف اور غیر یقینی کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور‘ کئی تاجروںکی اپنا کاروبار بند کرکے واپس کشمیر لوٹنے کو ترجیح‘
ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۳جون
نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) نے ہفتہ کے روز ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری شال فروشوں اور طلبہ کے خلاف ہراسانی اور حملوں کے واقعات کا ازخود نوٹس لے لیا۔
کمیشن نے جموں وکشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) کی جانب سے دائر کی گئی شکایت پر ایک مقدمہ درج کیا ہے، جس میں بھارت کی مختلف ریاستوں میں کشمیری شال فروشوں اور طلبہ کو مبینہ طور پر دھمکیوں، ہراسانی، امتیازی سلوک اور جسمانی حملوں کا سامنا کرنے کے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ شکایت رواں سال کے آغاز میں جے کے ایس اے کے قومی کنوینر ناصر کھوہامی نے ہماچل پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، دہلی، مہاراشٹر اور اتر پردیش سے موصول ہونے والے متعدد واقعات کے بعد درج کرائی تھی۔
شکایت میں بتایا گیا کہ کئی کشمیری شال فروشوں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، دھمکیاں دی گئیں، تذلیل کی گئی، کاروبار کرنے سے روکا گیا اور بعض صورتوں میں انہیں ان علاقوں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا جہاں وہ کئی دہائیوں سے پُرامن طور پر رہائش اور کاروبار کر رہے تھے۔ اسی طرح متعدد کشمیری طلبہ نے رہائش نہ ملنے، فرقہ وارانہ بنیاد پر نشانہ بنائے جانے، دھمکیوں اور جسمانی خطرات کی شکایات بھی درج کرائیں۔
اس سے قبل این ایچ آر سی نے شکایت وصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاملہ باضابطہ طور پر ریکارڈ پر لے لیا گیا ہے۔ جے کے ایس اے کے مطابق مقدمے کا اندراج کمیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کے جائزے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف ریاستوں میں کشمیری طلبہ اور شال فروشوں کو بار بار تشدد، ہراسانی، دھمکیوں اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ جے کے ایس اے کے مطابق مختلف ریاستی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے متعدد بار رجوع کرنے کے باوجود متاثرہ افراد خوف اور غیر یقینی کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور رہے، جبکہ کئی تاجروں نے اپنا کاروبار بند کرکے واپس کشمیر لوٹنے کو ترجیح دی۔
ایسوسی ایشن نے بتایا کہ کمیشن متعلقہ ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کرے گا اور متعلقہ انتظامیہ اور پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹس طلب کرے گا۔
ان رپورٹس میں درج ایف آئی آرز کی صورتحال، کی گئی گرفتاریاں، ملزمان کے خلاف کارروائیاں، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات اور متعلقہ ریاستوں میں مقیم کشمیری طلبہ اور تاجروں کے تحفظ کے لیے کیے گئے انتظامات کی تفصیلات شامل ہونے کا امکان ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔










