نیتی آیوگ اجلاس میںادارہ جاتی تعاون کی بھی مانگ
(ڈی آئی پی آر)
نئی دہلی؍۱۱جون
وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے آج نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ نیتی آیوگ کی۱۱ ویں گورننگ کونسل میٹنگ میں شرکت کی۔ اجلاس کا موضوع ’’وکست بھارت۲۰۴۷‘کیلئے جامع انسانی ترقی‘‘ تھا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کی ترقیاتی پیش رفت کا خاکہ پیش کیا اور انسانی ترقی، اقتصادی نمو اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے کئی اہم تجاویز پیش کیں۔انہوں نے کہا کہ ترقی کا حقیقی پیمانہ ہر شہری کے لیے مواقع میں اضافہ اور معیارِ زندگی میں بہتری لانا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے امن، جمہوریت اور ترقی کا راستہ اختیار کیا ہے، جس سے پائیدار ترقی کی مضبوط بنیاد قائم ہوئی ہے۔انہوں نے اعلیٰ تعلیم، صحت اور ہنرمندی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئی آئی ٹی جموں، آئی آئی ایم جموں اور ایمس جموں فعال ہو چکے ہیں، جبکہ میڈیکل کالجوں کی تعداد تین سے بڑھ کر دس ہو گئی ہے اور پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے تحت۹۰ہزار سے زائد نوجوانوں کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے دشوار گزار جغرافیائی حالات اور منتشر آبادیوں کی وجہ سے درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود جموں و کشمیر نے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں مثبت پیش رفت درج کی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی مالیاتی منصوبوں میں جغرافیائی مشکلات کو مدنظر رکھا جائے اور ساسکی ’’پرائیڈ آف ہلز‘‘ خصوصی ترقیاتی امدادی پیکیج کو دیگر پہاڑی ریاستوں کی طرز پر جموں و کشمیر تک بھی توسیع دی جائے۔
عمر عبداللہ نے مشن یووا کو روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت۲۴ لاکھ گھرانوں میں کاروباری صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور۵ء۵ لاکھ سے زائد ممکنہ کاروباری افراد کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعظم نے ملک کی آبادی میں نوجوانوں کے بڑے تناسب کو ’ایک تاریخی موقع‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’اسے ہم کھونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے‘‘۔انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم، مانگ پر مبنی ہنرمندی کے فروغ اور روزگار کے مواقع کے ذریعے نوجوانوں کے لیے موزوں ماحول تیار کرنا ہماری ترجیح رہنی چاہیے۔ بااختیار نوجوان ہی ہندوستان کے ترقیاتی سفر کے سب سے بڑے محرک بنیں گے۔
مودی نے کہا کہ خواتین کی قیادت میں ترقی وکست بھارت کے تصور کا ایک اہم محور ہے۔ زراعت، اسٹارٹ اپس، سائنس اور اختراع سمیت مختلف شعبوں میں ناری شکتی اہم تعاون پیش کر رہی ہے۔ ریاستوں کو خواتین کی تعلیم، مہارت کی ترقی، سکیورٹی اور بااختیار بنانے کو ترجیح دینی چاہیے، تاکہ ان کی مکمل صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کے ترقیاتی سفر کو مزید رفتار دی جا سکے۔
وزیر اعظم نے کہا’’دنیا اس وقت غیر یقینی اور عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے، اس کے باوجود ہندوستان اعتماد اور پختہ عزم کے ساتھ اپنے ترقیاتی سفر پر مسلسل آگے بڑھ رہا ہے‘‘۔
مودی نے کہا کہ حکومت نے ترقی اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے کئی ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کیے ہیں۔ یہ معاہدے ہماری مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای یونٹس) کے لیے بھی ایک اہم موقع فراہم کرتے ہیں، تاکہ وہ بین الاقوامی معیارات پر عمل کرتے ہوئے عالمی منڈیوں کے لیے خود کو تیار کر سکیں اور اپنی مسابقت کو بڑھا سکیں۔
میٹنگ شروع ہونے سے پہلے وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا’’کوآپریٹو فیڈرلزم کے جذبے سے متاثر ہو کر ہم سب ہندوستان کے ترقیاتی سفر کو تیز کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ مرکز اور ریاستوں کی مشترکہ کوششیں ہی وکست بھارت کے ہمارے مشترکہ عزم کو سچ کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی‘‘۔
وزیراعظم کی صدارت میں نیتی آیوگ کے اس اعلیٰ ترین ادارے کی میٹنگ ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مسٹر مودی نے ملک کے منتخب وزیراعظم کے طور پر کل اس عہدے پر مسلسل۴۳۹۹ دن پورے کر کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کا ریکارڈ پورا کیا۔ نیتی آیوگ کی ٹیم کی حکومت نے حال ہی میں تنظیم نو کی ہے اور ڈاکٹر سمن بیری کی جگہ سابق اقتصادی مشیر ڈاکٹر اشوک لاہڑی کو وائس چیئرمین بنایا گیا ہے۔ حکومت کے سامنے اس وقت مغربی ایشیا کی جنگ کی وجہ سے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے کا چیلنج ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا نے عالمی سپلائی چینز میں جیو پولیٹیکل بحران کے باعث پیدا ہونے والے خلل کے پیش نظر جاری مالیاتی سال۲۰۲۶۔۲۷ کیلئے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کے اپنے تخمینے کو اپریل کے۶ء۹ فیصد سے گھٹا کر۶ء۶فیصد کر دیا ہے۔ مرکزی بینک نے خردہ مہنگائی کے تخمینے کو بھی بڑھا کر۵ء۱فیصد کر دیا ہے، جبکہ اپریل میں اس کے۴ء۶فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔










